اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے حال ہی میں منظور کیا گیا الیکشن ایکٹ 2017 تا حکم ثانی معطل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے وفاق سے 14 روز میں جواب طلب کرلیا۔

الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے خلاف تحریک ختم نبوت کے حامی مولانا اللہ وسایا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

جس پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تاحکم ثانی الیکشن ایکٹ 2017 معطل کردیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ختم نبوت کا معاملہ ہے اسے ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کے فیصلے کی مخالفت کی، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سر پر ہے ایکٹ کی معطلی سے افراتفری پھیل جائے گی۔

تاہم عدالت نے وفاق سے 14 روز میں جواب طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ 3 نومبر کو بھی انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی تھی۔

درخواست قانون دان ذوالفقار بھٹہ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کا منظور کردہ بل آئین کی روح سے متصادم ہے، کیونکہ اس کے تحت عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی صدارت کے لیے اہل قرار پائے گا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل ’63 اے‘ کے تحت پارٹی صدر کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی اہم امور پر قانون سازی کو کنٹرول کرتا ہے اور اگر اہم امور پر کوئی رکن پارلیمنٹ پارٹی صدر کی مرضی کے خلاف ووٹ دے تو اس کا کیس الیکشن کمیشن کو نااہلی کے لیے بھجوایا جاتا ہے۔

بعد ازاں 6 نومبر 2017 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بھی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

عمران خان نے مذکورہ درخواست عوامی مفاد کے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر کی تھی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاناما فیصلے کے نتیجے میں نوازشریف کو رکن قومی اسمبلی کے عہدے کے لیے نا اہل کیا گیا تھا جبکہ پاناما کیس کے نتیجے میں ہی نوازشریف کومسلم لیگ (ن) کے عہدے سے ہٹنا پڑا تاہم نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) میں صدر کے عہدے پر دوبارہ لانے کے لیے الیکشن ایکٹ میں خصوصی ترامیم کی گئیں۔

تاہم 10 نومبر 2017 کو سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی الیکشن بل کے خلاف دائر درخواست اعتراضات لگا کر واپس کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY