لعل شہباز قلندر حملہ کیس میں پیشرفت، دھماکے میں ملوث اہم ملزم گرفتار

0
2408

سی ٹی ڈی نے سانحہ لال شہباز قلندر میں ملوث اہم ملزم نادر عرف مرشد کو گرفتار کرلیا۔ ملزم نادر جھاکرانی عرف مرشد کا تعلق داعش سے ہے۔ سی ٹی ڈی نے سانحہ سیہون شریف کے ملزم کا 5 روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا۔ سی ٹی ڈی نے ملزم کو دھماکہ خیز مواد کے مقدمہ میں عدالت میں پیش کیا۔ ملزم کو سخت سکیورٹی حصار میں عدالت لایا گیا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق نادر عرف مرشد کا تعلق راجن پور پنجاب سے ہے۔ ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ لال شہباز قلندر کے مزار میں خود کش حملے کے لئے بمبار افغانستان سے لایا گیا۔ ملزم نادر نے دوران تفتیش سنسنی خیزانکشافات کئے ہیں۔ واضح رہے سانحہ لعل شہباز قلندرؒ میں 76 زائرین شہید اور 250 سے زائد ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد پولیس کی مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری تھیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ رات کے وقت شہباز لال قلندر مزار کی ریکی کی گئی، مصطفیٰ عرف ڈاکٹر نے حملہ آوروں کو خود کش جیکٹس دیں، بجلی جانے پر خودکش حملہ آور کو مزار میں داخل کیا گیا۔عامر فاروقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کوئٹہ میں وکلا کے قتل اور شاہ نورانی درگاہ کا دھماکا بھی اس ہی گروپ نے کیا تھا، ان کا ایک ساتھی سی ٹی ڈی کوئٹہ کے ہاتھوں مارا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کارروائی کے دوران دہشتگرد نادر علی کو گرفتار کیا، دہشتگرد سے اسلحہ اور دھماکا خیزمواد برآمد ہوا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY