سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کے لیے اسلام آباد کی احتساب عدالت سے باہر آگئے۔
وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر، شریف خاندان کے خلاف بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ریفرنسز کی سماعت کررہے تھے۔
اس سے قبل سابق وزیر اعظم نیب ریفرنسز کیس کی سماعت کے لیے جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘دیکھیں کیسے کیسے دور سے گزرنا پڑ رہا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ 2014 میں شروع ہونے والے دھرنے اب تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہیں لیکن ان دھرنوں کے باوجود بھی ہم نے ڈیلیور کیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر الزام لگاتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت کے بھی کرپشن کیسز چل رہے ہیں اور وہ لوگ مکمل طور پر جھوٹے اور فریبی ثابت ہورہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘انصاف کے تقاضوں کا مذاق بند ہونا چاہیے، کوئی بھی کرپشن سے پاک نہیں لیکن ہمارے لیے انصاف کا معیار کچھ اور دوسروں کے لیے کچھ اور ہے’۔
خیال رہے کہ احتساب عدالت میں نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت جاری ہے جس میں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی سے حاضری پر استثنیٰ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران نیب استغاثہ نے شریف خاندان کے خلاف آر آئی اے اے بارکر جیلٹ لاء فرم سے تعلق رکھنے والے دو نئے گواہان محمد رشید اور مظہر رضا خان بنگش کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔
دونوں گواہان نے ایونفیلڈ ریفرنس کے حوالے سے اپنے بیانات عدالت میں قلم بند کروائے جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہان سے جرح کی۔
اپنے بیان میں محمد رشید کا کہنا تھا کہ انہیں نیب لاہور سے 5 ستمبر کو خط موصول ہوا تھا جس کے بعد وہ نیب میں پیش ہوئے اور متعلقہ دستاویزات تفتیشی افسران کے حوالے کردیں۔
نیب استغاثہ افضل قریشی نے گواہوں کو پریشان کرنے کا الزام لگایا بعد ازاں خواجہ حارث اور افضل قریشی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نیب استغاثہ نے غیر ضروری مداخلت کر رہے ہیں۔ جس پر نیب استغاثہ کا کہنا تھا کہ ‘خواجہ صاحب ہمارے پیش کیے گئے گواہان سے جو چاہے پوچھیں اور ہم خاموش رہیں؟’۔
خیال رہے کہ گواہان نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ان کا جمع کی گئی دستاویزات سے کوئی ذاتی تعلق نہیں۔
دوسرے گواہ مظہر رضا خان بنگش نے عدالت کو بتایا کہ وہ نیب لاہور کے سامنے اس سے قبل 30 اگست کو پیش ہوچکے ہیں جس میں انہوں نے متعلقہ دستاویزات تفتیشی افسران کو جمع کرائے تھے جن کی حلفیہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب کو جمع کرائی جانے والی دستاویزات انہیں ان کی کمپنی کی جانب سے دی گئی تھیں جس پر وہ اپنی رائے نہیں دے سکتے۔
خواجہ حارث نے جرح کے دوران مظہر خان بنگش سے سوال کیا کہ ‘سچ بولنا تو بڑا آسان ہے لیکن جھوٹ بولنا الگ ہوتا ہے’ جس پر نیب استغاثہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے کسی گواہ کو جھوٹا قرار دینا انتہائی نا مناسب ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران نیب استغاثہ نے دو گواہان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جوائنٹ رجسٹرار صدرہ منصور اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے محکمہ ان لینڈ ریوینیو کے جہانگیر احمد کو پیش کیا تھا۔ ان دونوں افراد نے شریف خاندان کے خلاف عدالت میں اپنے بیانات قلم بند کروائے تھے۔
نیب ریفرنسز پر سماعت کے دوران حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی آگے بڑھائی جائے گی۔
سابق وزیر اعظم عدالت سے روانہ ہو چکے ہیں تاہم روانگی سے قبل جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی نے جو آمرانہ پسند بل ایوان میں پیش کیا اس پر مایوسی ہوئی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بل کو مسترد ہونے پر وہ تمام اتحادی جماعتوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
سابق وزیراعظم کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس (ایف جے سی) میں اور اس کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔
سپریم کورٹ نے نیب کو 6 ہفتوں کے اندر شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت جاری کی تھی، تاہم نیب نے 8 ستمبر کو عدالت میں ریفرنسز دائر کیے تھے۔












