اپنی زبان کو ذریعہ اظہار اور وجہ افتخار بنائیں ، سلیم مرزا

0
1363

محترم پروفیسر سلیم ھاشمی کی نفاذ اردو کی کوشش اور اس سے وابستہ ان کے تجربات بالکل اس رضیہ جیسے ھیں جسے کوئی غنڈہ نہیں چھیڑ رھا
بندہ اگر ذھنی مریض نہ ھوتا تو کب کا تائب ھو چکا ھوتا ۔مگر میرا جگر ایسا اندھا ھے جو عقل کے اندھوں کو روشنی دینا چاھتا ھے، ذھنی معذوروں کی نئی نسل “اسپیشل پرسن”بننے سے بچانا چاھتا ھے ۔
اردو کی ترویج وترقی سے دس روپے کا فائدہ نہیں،
بیوروکریٹ اور سیاستدان وہ کام کبھی نہیں کرتے جس میں فائدہ نہ ھو بالکل میری جوانی کی اس معشوق کی طرح جو میری تین گھنٹے محبت کا جواب صرف ایک جملے میں دیتی تھی
“کتنے پیسے دو گے “؟
اردو کی ترویج و نفاذ سے ان تمام گروھوں کا نقصان ھے جو اس غیر ملکی زبان کی آڑ میں “کچا میچی “مار کر فائل اوپر یا نیچے بھیجتے ھیں ۔
لب لباب اس جنگریزی کا یہ ھوتا ھے کہ تاریخ دائیں جانب ھے تو آگے نہیں تو پیچھے ۔بیوروکریسی یہی” لکن میٹی” سینٹ اور پارلیمنٹ میں پیش کردہ بلز کے ساتھ بھی کھیلتی ھے، وزیر موصوف الحمداللہ انگریزی سے، اتنے ھی عاری ھوتے ھیں جتنا میں انڈروئیر سے ۔
لہذا پیش کیا بل اگر پاس ھوگیا تو وہ انگریزی میں افسر شاھی اور سیاستدانوں کے ایک دوسرے کی کمر کھجانے والے محاورے جیسا ھی ھوگا ۔
باقی رھے عوام تو ان کے پاس ایسے بلز کی منظوری کے بعد کھجانے لائق کچھ بچتا ھی نہیں، ویسے سہلا تو ھم ستر سالوں سے رھے ھیں ۔
ھمارے یہ ستر سالے ھر سال ھماری منکوحہ بدلتے رھتے ھیں ۔میں سیاستدانوں کو کبھی مورد الزام نہیں ٹھہراتا،
وہ بزنس مین ھیں ۔کمانے کیلئے لگاتے ھیں، ان کے اغراض ھمیشہ مقاصد پہ حاوی ھوتے ھیں ۔اور ویسے جن کے اشارے پہ وہ حکومت میں یا حزیمت میں آتے میں ان کی بارہ جماعتیں ان کے اپنے اسکولوں میں پڑھائی جاتی ھیں ۔ان کی ایک اپنی دنیا ھےجہاں سے سویلین صرف تلاشی دیے کر گذر سکتے ھیں ۔
کل ایک امیر آدمی دوسرے سے پوچھ رھا تھا کہ کور کمانڈر پنڈی سے کوئی تعلق ھے؟
استسفار پہ کہنے لگا آرمی پبلک سکول میں بچہ داخل کروانا ھے ۔
لہذا سیاستدانوں سے گلہ فضول ھے ۔جو سیاستدان کل ٹاٹ اسکول میں میرا کلاس فیلو تھا آج اس کا بیٹا میلانیا ٹرمپ کی ھم جماعتی کا رعب ڈالتا ھے ۔
ملک کے اندر اسکول مافیا نے انگلش کی آڑ میں جو لوٹ مار مچائی ھے وہ ایک علیحدہ دنیا ھے ۔
کبھی کبھی تو میں بھی سوچنے لگتا ھوں کہ ٹائٹس، والی اگر میری ٹیچر ھوتی تو ۔۔۔۔۔؟
تو کچھ نہیں ۔راؤںڈ ایس دیکھ کر کوئی ثمر مند نہیں بنتا ۔
معیار تعلیم سراسر “رٹے ” پہ منتقل ھو چکا ھے ۔غیر ملکی زبان میں تعلیم سے سمجھ کر پڑھنے یا پڑھ کر سمجھنے کی ضرورت ھی نہیں ۔
بس موجودہ حکومت کی طرح کرپشن کا رٹا مارو، نہ کچھ کرو، نہ کرنے دو،
پرائیویٹ اسکولوں کی مافیا نفاذ اردو میں سب سے بڑی رکاوٹ ھے ۔انگریزی رنگ بھری کتابیں، اور پرکشش تصاویر، بچہ دوسری جماعت میں ھی آئن سٹائن لگنے لگتا ھے ۔
یقین کریں میں نے گونگلو کی انگریزی بھی اپنی چھ سالہ بچی سے جانی ۔
اس دن سے مجھے ٹرمپ پیارا لگنے لگا ھے ۔
صرف نون میم کا ھی فرق ھے ۔
باقی رھی سہی کسر وہ خواتین نکال دیتی ھیں جن کا کافر قد دیکھ کر والدین میٹرک سے اٹھا لیتے ھیں ۔
فرسٹ ائیر کے کورس کی جگہ پہلا بچہ پال رھی ھوتی ھیں ۔
چنانچہ آدہ کلو بھرے پیمپر کو دیکھ کر بڑے پیار سے بچے کو چوم چوم کر کہہ رھی ھوتی ھیں ۔
“بےبی نے شٹ پروڈیوس کی ھے “
اپنی زبان کو ذریعہ اظہار اور وجہ افتخار بنائیں ۔اس سے علم اور عقل سیکھنے میں آسانی ھوگی ۔
ورنہ مادری، قومی اور غیر ملکی تین زبانوں سے بچہ وھی پراگریس دے گا، جو پیمپر میں دے رھا تھا،

سلیم مرزا

SHARE

LEAVE A REPLY