’کابل ایئر پورٹ پر ایک حملہ آور نے ہی خود کش دھماکہ کیا تھا

0
769

امریکہ کی فوج کی حال ہی میں مکمل ہونے والی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ گزشتہ برس 26 اگست کو کابل ایئر پورٹ کے دروازے پر حملہ کرنے والا خود کش بمبار ایک ہی تھا جب کہ اس حملے کے وقت حملہ آوروں کی فائرنگ یا مزید دھماکے نہیں ہوئے تھے۔

امریکی فوج کے بریگیڈیئر جنرل لانس کرٹس نے صحافیوں سے جمعے کو گفتگو میں تحقیقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے داعش خراسان گروپ کو اس دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا۔

یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے آخری مرحلے میں تھا۔ گزشتہ برس اگست میں کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ہونے والے خود کش حملے میں 13 امریکی فوجی اور 170 سے زائد افغان ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ دھماکے کے فوری بعد سینئر امریکی کمانڈرز کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والے دو خود کش بمبار تھے جنہوں نے امریکی فوجیوں اور ہجوم پر فائرنگ کے بعد دھماکے کیے۔

تاہم جنرل کرٹس اور دیگر تفتیش کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اس بات کی تائید نہیں کرتے اور داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی فائرنگ کے مقابلے میں بم کی نوعیت کو بہتر طور پر بیان کیا جا سکتا تھا جو کہ 9 کلو گرام فوجی ساختہ بارود اور بال بیرنگز سے بنایا گیا تھا۔

تفتیش کرنے والے حکام کے مطابق بال بیرنگز کی وجہ سے ہونے والے زخم، بالکل گولیاں لگنے والے زخموں جیسے ہی تھے۔

تحقیقات میں مزید کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں پر کی جانے والی فائرنگ کی آوازیں ممکنہ طور پر وہاں موجود امریکی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کی تھیں جو سیکیورٹی مقاصد سے کی گئی تھی۔

جنرل کینتھ فرینک مکینزی کی طرف سے مذکورہ تحقیقات کو سراہا گیا ہے۔ اس کے باوجود کہ اس تفتیش کے نتائج، حملے کے فوری بعد کی جانے والی تحقیقات سے مختلف ہیں۔

مکینزی کا کہنا تھا کہ یہ ایک ہولناک حملہ تھا جس کی وجہ سے امریکیوں اور افغانیوں کی جانیں گئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجی واپس تو نہیں آ سکتے تاہم یہ اہم ہے کہ ہمیں پتہ ہو کہ اس دن ہوا کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY