برمنگھم( روبي حسین حیدر) مسلم کنونشن کے زیر اہتمام ،نفسیاتی صحت،سماجی مسائل،پر گفتگو اور اْنکے حل کیلئے ایک تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ بھرسے تقریبا ہزار سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔تقریب کے روز تمام عمر کے گروپوں کے لیے مختلف پروگراموں کا احاطہ کیا گیا جس میں نفسیاتی صحت اور سماجی مسائل کے بارے میں ورکشاپس، تھیٹر کی کارکردگی، بازار، نشید اور قرآن کی تلاوت اور زندہ امام مہدی کے بارے میں گفتگو شامل تھی۔
مہمانوں کو تقریب میں شرکت کی سہولت دینے کیلئے برطانیہ بھر سے ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی۔قوت گویائی اور سماعت سے محروم مہمانوں کیلئے اشاروں کی زبان کے ماہر کی خدمات حاصل کی گئی تھی تاکہ وہ بھی مسلم کنونشن کی جانب سے منعقدہ تقریب کے اغراض و مقاصد کو سمجھ اور جان سکیں۔ تقریب میں دلچسپ بات یہ تھی کہ خواتین کی ایک کشیر تعداد نے شرکت کی اور پروگرام کو بے حد سراہا۔
اس موقع پر منقبت خوان فرحان علی وارث کو ستارہ عزا سے نوازا گیا

کنونشن سے سکالرز اور علما نے خطاب کیا۔تقریب میں مہمانوں کیلئے خوردونوش کا شاندار انتظام کیا گیا تھا۔یقیناَ مسلم کنونشن ایک ایک پلیٹ فارم ہے جس میں ہرطبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں اور ہم خیال لوگوں کو ایک پرچم تلے اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔تقریب میں شامل شرکا نے منتظمین کی جانب سے عمدہ انتظام کرنے پر شاندار خراج تحسین پیش کیا۔














ںدردناک۔ صورتحال۔ نائیجریا انیس سو اسّی تک خوشحال ترین ملک تھا۔ فیسٹاک 77 کا افرقی کلچر پر نائیجیریا میں ایک انٹرنشنل فیسٹیول ہو اتھا جس
میں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا۔
۔اس زمانے میں گھاناکی حالت زار خراب تھی لوگ پاڈر کراس کر کےبھوک سے بچنے کے لیے ادھر آتے تھے۔ آج ماشاللہ گھانا بہت بہتر ہے۔
اس ملک کو اس کے کرپٹ حکمران مار گئے ہیں کھاگئے ہیں لوٹ کر۔