ارشد شریف کے جسم پر تشدد کے شواہد نہیں ، امریکی ماہرین

0
702

وائس آف امریکہ نے کینیا میں مارے جانے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ایسی چالیس تصاویر حاصل کی ہیں جو نیروبی میں پوسٹ مارٹم کے دوران لی گئیں۔ ہائی ریزولوشن پکچرز کے سائنسی تجزیے کے بعد امریکی ماہرین نے بتایا ہے کہ مقتول صحافی پر موت سے قبل کسی طرح کے تشدد کے شواہد نہیں ملتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز ) میں ارشد شریف کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے بعد کچھ تصاویر مقامی میڈیا میں نشر ہوئی تھیں اور ایک دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ارشد شریف پر گولیاں چلانے سے قبل ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ ایسی خبروں کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں اور نہ صرف کچھ صحافیوں بلکہ ملک کے اداروں پر بھی سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

وی او اے کی اردو سروس کو پاکستانی صحافی ارشد شریف کے کینیا میں ہونے والے پوسٹ مارٹم کے دوران لی گئی جو تصاویر موصول ہوئی ہیں وہ کہیں شائع نہیں ہوئی ہیں ۔ یہ تصاویر جسم کے بیرونی حتی کہ اندرونی اعضا کا اس واضح انداز میں احاطہ کرتی ہیں کہ ماہرین کو تجزیے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔

براؤن یونیورسٹی سےفورنزک پیتھالوجسٹ ڈاکٹر پریا بینرجی نے وائس آف امریکہ کی درخواست پر ان تصویروں کا سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ ارشد شریف پر ہلاکت سے قبل تشدد کے نشانات نہیں ملے ہیں۔

’’اگر ان تصاویر کو کلی طور پر دیکھا جائے، خصوصاً جسم کے بیرونی حصوں کی تصاویر کو، تو ایسے کوئی تشدد کے اور نشانات نہیں ہیں۔‘‘

ڈاکٹر پریا بینرجی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مزید کہا:

’’ جسم پر ہتھکڑی کے کوئی واضح نشانات نہیں ، ان کی گردن پر کوئی ایسے نشانات نہیں تھے جن سے لگے کہ ان کا گلا دبانے کی کوشش کی گئی ہو، یا ان پر دباؤ رکھا گیا ہو، مجھے ان کی زبان یا منہ پر کوئی واضح چوٹ نظر نہیں آئی، یا آنکھوں پر بھی، سو جب میں انہیں دیکھتی ہوں، تو مجھے گن شاٹس کی چوٹ کے علاوہ کوئی چوٹ نظر نہیں آتی۔‘‘

SHARE

LEAVE A REPLY