سمیر کا پاکستان ، میرا ہی پاکستان تھا ۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم۔

1
1005

آج کے دن میرا آخری مریض درمیانے قد کا گہرے نیلے رنگ کی جینز کے ساتھ ہلکی نیلی شرٹ میں صاف ستھرا 62 سالہ خوش شکل لبنان کا ” سمیر” تھا ، جو 1976 میں سڈنی آیا تھا اور صرف درجہ چہارم تک ہی پڑھ سکا تھا پر لکھنا پڑھنا سب اسے آتا تھا۔ اس نے آجکل اپنے بیک یارڈ میں سبزیاں اگا رکھی تھیں اور یہ گھریلو کھیتی باڑی اس کا محبوب مشغلہ تھا ۔۔ بقول اس کے جب وہ سبزی توڑ کر پکاتا ہے تو اس کے کھانے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔ پھر میں نے بھی اسے اپنے ابا جی کی نور پور والی زمین کے اندر بیج ڈالنے سے لے کر سبزیاں اور پھل اگنے تک کی کہانی بڑی فخر سے سنائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کو اس نے بڑی محویت سے سنا ۔۔

انٹرویو کے دوران اس سے کئی اور باتیں ہوئیں اور آخر میں جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا مستقبل میں کیا کرنے کا ارادہ ہے ۔ ایک لمحے کو وہ ہنس پڑا ۔۔۔ اور کہنے لگا 62 سال کے بعد انسان کا ارادہ نہیں خدا کا ارادہ ہوتا ہے ۔۔۔ میں نے اس کی بات کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے اسے بہت سراہا ۔۔۔ اور پوچھا کہ اس کا تعلق لبنان کے کس طبقے سے ہے ۔۔۔ کیونکہ لبنانی زیادہ تر مسلمانوں والے نام رکھنا پسند کرتے ہیں ۔۔ اس نے خوش ہو کر کہا ” میں مسلمان ہوں ” ۔۔۔

انٹرویو کے آخر میں ، میں نے اپنا پرانا سوال نئے انداز میں پوچھا ” تمہاری کوئی ایسی خواہش جو پوری نا ہوئی ہو ” ۔۔۔ یہ سوال پوچھنا یوں لازم ہوتا ہے کہ اس سے انسان میں جیتے رہنے کی امنگ مل جاتی ہے ۔۔ فیصلوں پر اختیار کا پتہ چلتا ہے اور ساتھ ہی ان کی منصوبہ بندی اور حسرتوں کی داستان بھی سننے کو مل جاتی ہے ۔۔۔

پر اب حیران ہونے کی باری میری تھی ۔۔۔ وہ بڑی سنجیدگی اور محبت سے کہہ رہا تھا ” میں مرنے سے پہلے ” پاکستان ” دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ سوچتا ہوں 20 کروڑ مسلمانوں کو ایک ساتھ دیکھنا کیسا لگے گا ۔۔ وہ ایک ساتھ کیسے رہتے ہیں ۔۔ آپس میں کیسے بات کرتے ہونگے ۔۔ وہ قوم جو ایماندار ہے ۔۔۔مل جل کر رہتی ہے ، ایک دوسرے کی عزت کرتی ہے ۔۔ دھیمے لہجے میں بات کرتی ہے ۔۔۔ مجھے اس قوم کو دیکھنا ہے۔۔ ۔ مجھے وہاں کی مساجد دیکھنی ہیں جہاں بیٹھ کر اسلامی قانون بنائے جاتے ہیں ۔۔۔ میں نے اسے درست کرتے ہوئے کہا ” قانون تو سعودیہ میں بنتے ہیں ۔ سمیر نے مسکرا کر میری بات کو ادھر ادھر کر دیا ۔۔ اور کہنے لگا ” چھوڑیئے سعودیہ کو جن کالب و لہجہ اتنا کرخت ہو ۔۔ جو دوسرے مسلمانوں کو حقارت سے دیکھتے ہوں وہ مسلمانوں کے لئے کیا قانون بنا سکتے ہیں ۔ میں نے لاجواب ہو کر سمیر سے کہا ” اچھا تو تم حج کرنے کی بجائے پاکستان جانا چاہتے ہوں ” وہ حتمی انداز میں سر ہلا کر بولا کہ ” ہاں میں حج سے پہلے پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں “

میں نے اسے بتایا کہ میں بھی پاکستانی ہوں ۔۔ اس نے مجھے خوشی خوشی بتایا کہ وہ انٹرویو روم میں مجھے دیکھتے ہی جان گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ بہت تعریفوں کے بعد بولا ۔۔۔ ” تم اسی لیئے سب سے الگ ہو کہ تم پاکستانی ہو ” ۔۔۔۔

حیات مین آج پہلی بار ہوا تھا کوئی میرے وطن کی زیارت کو آخری خواہش بنائے بیٹھا تھا ۔۔ جو مجھے میرے انداز گفتگو اور باتوں سے میری پہچان تک پہنچ گیا تھا۔ سمیر دوا کاپرچہ لئے کمرے سے جا چکا تھا ۔۔۔

میں گھر آکر بھی سوچے جا رہی ہوں ۔۔۔ آنکھیں خوشی سے نم ہو رہیں ہیں ۔۔

سمیر کا پاکستان وہی تھا جس کا خواب ہمارے آباؤ اجداد نے دیکھا تھا ۔۔ وہاں کے 20 کروڑ عوام وہی ” مسلمان ” تھے ۔۔۔ جوکل بھی اور آج بھی اپنی ہر جنگ جیتتے آئے تھے ۔۔۔
صد شکر ۔۔۔۔۔
سمیر کا پاکستان ، میرا ہی پاکستان تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. ڈاکٹر صاحبہ سمیر کا پاکستان ہم سب کا خواب ہے وہی خواب جو کبھی ہمارے قائدین نے ہم سب کے ساتھ دیکھا تھا 14 اگست پر اس سے عمدہ اور تحفہ کیا ہو گا اور اس سے بڑھ کر اگر یہ خواب ہماری زندگی میں پورا ہو جائے

LEAVE A REPLY