چھ اگست 1945ء ہیروشیما جاپان پر پہلا ایٹم بم گرایا گیا

0
398

اینولا گے نامی ایک امریکی بی 29 بمبار طیارے نے 1945 میں آج کے دن جاپانی وقت کے مطابق 8:16 پر دنیا کا پہلا ایٹم بم ہیروشیما پر گرایا۔ اس کی وجہ سے تقریباً 80,000 افراد تو فوراً موت کے منہ میں چلے گئے، اور 35,000 کے قریب زخمی ہوئے۔ 60,000 افراد اس کے مہلک اثرات کی تاب نہ لا کر سال کے آخر تک ہلاک ہو گئے۔

جب جاپان نے پوسٹ ڈیم کانفرنس کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو امریکی صدر ہیری ٹرومین نے جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کا خیال تھا کہ جزائر جاپان پر حملہ کرنے کی صورت میں امریکہ کو اس سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا جتنا ایٹم بم کے استعمال سے جاپان کا ہو گا۔

اس پہلے ایٹم بم کو لٹل بوائے کا نام دیا گیا۔ 6 اگست 1945 کو 1,900 فٹ کی بلندی سے ہیروشیما کے ایک ہسپتال کی عمارت پر لٹل بوائے گرایا گیا۔ اس کے پھٹنے سے 12,500 ٹن ٹی این ٹی کے برابر تباہ کن توانائی پیدا ہوئی۔ ایٹم گرنے سے قبل ہیروشیما میں 90,000 عمارتیں تھیں۔ جن میں سے صرف 28,000 گرنے سے محفوظ رہیں۔ شہر کے 200 ڈاکٹروں میں سے صرف 20 زندہ بچے جو کام کرنے کے قابل تھے۔ اور 1780 نرسوں میں سے صرف 150 نرسیں اس قابل رہیں کہ مریضوں اور موت کے منہ میں جاتے ہوئے لوگوں کا خیال رکھ سکیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY