میرا زمانہ میری کہانی ماہ پارہ صفدر کی زبانی۔پہلی قسط ۔ شمس جیلانی

0
1797

 میری عمر(92 )بانوے سال ہے میں نے پاکستان کو بنتے دیکھا ٹوٹے دیکھامیں توڑنے والوں کو جانتاہوں بنانیوالوں کو جانتا ہوں انہیں بہت قریب سے دیکھا تھالیکن لکھنے کا آغاز ء1944 سے نسیم انہونوی کے پرچے حریم سے شروع کیا جوکہ لکھنؤ سے نکلتا تھا۔ایسی کوئی دستویز نما کتاب میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی جتنی صاف گوئی اس میں ہے کہیں نہیں پائی۔ میں اس بہن کی عظمت کو سلام کرتا ہوں کہ جو کام بھائی نہیں کرسکے وہ ایک بہن نے کر دکھایا میرے نزدیک یہ کتاب نہیں ان کے اپنے دور کی مستند دستاویز ہے جوکہ بہت احتیاط سے لکھی ہے اور ہر شعبہ کے طالب علموں کے کام آتی رہےگی ۔گو کہ پاکستان کی تاریخ کی خوبی یہ رہی ہے کہ وہ ہے کچھ اور مگر پڑھائی کچھ اور جاتی ہے لیکن انہوں نے حتیٰ الامکان اس کی نقاب کشائی کی کامیاب کوشش کی؟۔

مجھے اس پر تبصرہ لکھتے ہوئے خوشی یوں محسوس ہورہی ہے کہ ان کے شوہرجناب صفدر ھمدانی نے میرے اوپر بہت کچھ لکھا ہے اور بہت احسانات ان کے ہیں۔مگر وہ اپنے اوپر مجھے کچھ لکھنے کا موقع نہیں دیتے ہیں؟ میں نے کئی بار کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکا؟ میرے لیئے مشکل یہ ہے کہ مجھے حضور ﷺ کے کسی بھی حکم پر اس کو پورا عمل کیئے بغیر چین نہیں آتاہے اور حضورﷺ نے حکم دیا ہے کہ احسان کابدلہ احسان ہے۔ چونکہ صفدر بھائی کے عالمی خبار میں میں شعبہ شخصیات کا اعزازی ایڈیٹر بھی ہوں؟ مجھے موقع ہاتھ آگیا حضورﷺکے اس حکم پر عمل کرنے کاکہ ان کی نصف بہتر ہونے کی وجہ سے وہ میری بہن ہیں۔ مجھ میں بڑی خرابی یہ ہے کہ میں جھوٹ کا سب سے بڑا دشمن ہوں ؟ساری زندگی جھوٹ کے خلاف لکھتے ہوئے گزرگئی۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان سامنے رہتا ہے کہ مسلمان میں سب عیب ہوسکتے ہیں مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا ۔اس سلسلہ میں صفدر بھائی مجھ سے بھی دو قدم آگے ہیں کہ اپنے اخبار میں اشتہار اس لیئے نہیں لیتے کہ وہ اکثر سچے نہیں ہوتے ہیں؟ میں نے اس کتاب کو بہت غور سے پڑھا مگر اس میں کوئی بات ایسی نہیں ملی جوسوائے سچ کے کچھ اور ہو۔

قارئین کتابیں بہت سی لکھی ہیں گئیں مگر مجھے یقین ہے کہ اس جیسی کتاب آپ نے اس سے پہلے کوئی نہیں پڑھی ہوگی؟ میں آپ کو کیا بتا ؤں کہ اس میں کیالکھا ہے؟ اس کے بر عکس یہ کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے کیا نہیں لکھا ہے؟شاید ہی زندگی کا کوئی پہلو بچا ہوجس پر انہوں نے نہ لکھا ہو؟ بظا ہر تو سرِورق دیکھ کر یہ ہی تاثر ملتا ہے کہ یہ ان کی آپ بیتی ہے مگر اس کے برعکس ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اسے کوجگ بیتی بنا دیاہے۔ کوئی شعبہِ زندگی چھوڑا ہی نہیں ہے۔ جس میں اپنی غیر جانبداری بر قرار رکھتے ہوئے جسے جیسا پایا اس کی اچھائی یابرائی نہ بیان کردی ہو۔ انہوں نے کہیں آنسو بہا ئے ہیں تو کہیں ہنسایا ہے۔ کہیں موازنہ کیا ہے اپنے ملک سے تو کہیں دوسرے ملک کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ تاکہ جوہم وطن غیر ملکوں میں جانا چا ہیں تو اس کتاب سے مدد لے لیں۔ کبھی وہ اپنی صنف کی وکالت کرتی نظر آتی ہیں۔ توکبھی اپنے ملک کا مرثیہ پڑھتی نظر آئیں گی؟ کبھی غیر ملکوں کی خوبیاں بیان کر تی نظر آئیں گی۔ تو وہیں ان کی خامیاں بھی بیان کرتی نظر آئیں گی۔اور دلچسپ اتنی ہے کہ آپ پڑھنا شروع کریں تو کہیں بھی بوریت محسوس نہیں ہوگی؟

اس کی گارنٹی میں آپ کو طرف سے دیتا ہو کہ آپ کو بھی میری طرح ختم کیئے بغیر چین نہیں آئے گا اور ختم کیئے بغیر نہیں چھوڑیں گے ۔کیونکہ ان کے پیش کرنے کا اسلوب سب سے نرالہ ہے جو قارئین کے دل میں اتر تا چلا جاتا ہے؟ یہ کلیہ ہے کہ دنیا میں لوگ اپنے کام سے کام سے رکھتے ہیں اور ترقی یافتہ ملکوں میں توجو جس فن کا ماہر ہوتاہے صرف اسی پر بات کرتاہے جبکہ دوسرے مضامین میں وہ عموماً صفر ہوتاہے۔ اس لئیے اس کے سوا وہ اورکسی موضوع پر بات نہیں کرتا سوائے موسم کے؟ اگر کبھی کسی سے بات کرنا ہوتی ہے تو۔لہذاترقی یافتہ ملکوں کے لوگ بات شروع کرنے کے لیئے عموما“ موسم سے بات شروع کرتے ہیں جبکہ وطن عزیز میں آپ کو یہ خوبی ملے گی کہ ہر موضوع پرہر آدمی بات کرتا ہے ؟یہ ہی نہیں وزرا ء کے محکمے آئے روز بدلتے رہتے ہیں۔ منسٹری کے سیکریٹری بدلتے رہتےہیں مگر مزے کی بات یہ ہے کہ صلاحیت اتنی ہے وہ ہر کہیں فٹ ہوجاتے ہیں؟ جبکہ ترقی یافتہ ممالک خوامخواہ اتنی محنت کرتے ہیں کہ حزب اختلاف پہلے سے اپنی شیڈو کیبنیٹ بنا تی ہے اور جس میں جو صلاحیت ہوتی وہی محکمہ اسے دیا جاتا ہے۔

لیکن ماہ پارہ صاحبہ کو ہر فن میں اتنا عبور ہے کہ انہوں نے ہر مضمون کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا ہے۔ اگر اس کتاب کوآپ سر سری نگاہ سے دیکھیں گے تو ایک پاکستانی لڑکی کی داستان ہے جو اپنے ملک کی میڈیا میں اس لیئے جانی پہچانی جاتی تھی کہ اس نے پہلے ریڈیو پر خدمات انجام دی تھیں پھر ٹی وی پر بھی اپنا معیار برقرار رکھا۔ لیکن اس نے اچھے مستقبل کے لیئے ٹی وی چھوڑ کر بی بی سی لندن میں ریڈیو کی ملازمت کو ترجیح دی۔ جسے اردو میں آپ رجعت ِقہقری کہہ سکتے ہیں؟ جبکہ یہ اس خاندان کی فرد تھیں جن میں خواتین اگر کسی سواری میں سوار ہوتی تھیں تو دونوں طرف آدمی پردہ تان کر کھڑے ہوتے تھے کہ کہیں چشم ِ فلک نہ دیکھ لے؟اور یہاں انہوں نے وہ جراء ت رندانہ دکھائی کہ وہ دو بچوں کی انگلی پکڑ کر لندن جیسے انسانوں کے سمندرمیں جانے کو تیار ہوگئیں جس قوم میں اتنی بہادر بچیاں ہوں جواپنے فن میں اپنے ملک میں لوہا منوا چکی ہوں تو کوئی ملک اپنے ایسے قیمتی سرمایہ کو کبھی جانے نہیں دیتا ہے؟مگر وطن ِعزیز کی بات ہی نرالی ہے۔ ان کے شوہر ساتھ اس لیئے نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ دونوں پر بہ یک وقت مہربان ہوگیا تھا۔شوہر کا دانہ پانی اللہ تعالیٰ نے جاپان میں اتار دیا تھا وہ جاپان ریڈیو کی خدمات انجام دینے جا رہے تھے۔ تو یہ بی بی سی لندن میں تشریف لے جارہی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے اس ہونے والے سفیدفام افسرکا بھلا کرے جس نے انہیں مشورہ دیدیا کہ اپنے ساتھ کسی قابل ِ اعتماد ملازمہ کو لیکر پاکستان سے آئیں۔اس سے تھوڑی بچت ہوگئی کہ وہ ڈیوٹی رات کی کرتی تھیں تو وہ بچوں کو سنبھالتی تھیں میں نے اسے سفید فام کا نام اس لیئےدے دیا کہ اس کتاب میں ان کی تصویر ہےرنگ سفید ہے، جبکہ مجھے ان کی شہریت نہیں معلوم۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد انہوں نے بی بی سی کے آفس کے قریب ہی مکان بھی لے لیا جو وطنِ عزیزکے شہر اسلام آباد میں لینا ان کے لیئے ہمیشہ ناممکن بنا رہا اور یاد گار کے طور پر وہ درخواست ان کی جیب میں تھی جو وہاں کی بار بار کی آزمائی ہوئی تھی اور وہ کامیاب نہیں ہوسکی تھیں؟ کیوں کامیاب نہیں ہوتی تھیں یہ کتاب میں ہی پڑھیں تو زیادہ لطف آئے گا۔ میں آگے چل کر اشارے دیتا رہوں گا کہ کیونکہ مجھے اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہے میں ان جیسا اسلوب اور مہارت نہیں رکھتا۔ میں یہ بتاتا چلوں کے اس کتاب کے تین حصے ہیں اور میرا ارادہ بھی تین قسطوں میں تبصرہ کرنے کا ہے۔ اگلی قسط پڑھنا مت بھولیئے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY