عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا ہے کہ انبار صوبے کے مغربی صحراء میں 14 ہزار مربع کلو میٹر کا رقبہ داعش تنظیم سے کلیئر کرا لیا گیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ سکیورٹی فورسز کے شام کی سرحد تک پہنچنے کے بعد عراقی فورسز نے اپنی سرزمین سے اس شدت پسند تنظیم کے عسکری وجود کا خاتمہ کر دیا ہے۔
العبادی نے منگل کے روز بغداد میں اپنی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 100 برس سے کوئی حکومت بھی شام کے ساتھ سرحد پر مکمل طور پر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ عراقی وزیراعظم کا اشارہ دُور دراز صحرائی علاقے کی جانب تھا۔
انبار صوبے کا رقبہ 1.38 لاکھ مربع کلو میٹر ہے جس میں اکثر صحرائی علاقے ہیں۔ یہ صوبہ عراق کے مجموعی رقبے کا ایک تہائی ہے۔
العبادی نے باور کرایا کہ آزاد کرائے جانے والے علاقوں کے بڑے حصّے میں نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی ہو چکی ہے۔ داعش کے غالب آنے کے بعد سے تقریبا 40 لاکھ عراقیوں نے اپنے گھر بار کو چھوڑا۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان میں نصف سے زیادہ لوگ اپنے علاقوں کو لوٹ آئے ہیں جن کو داعش تنظیم سے آزاد کرایا گیا تھا۔
گزشتہ تین برسوں سے جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں داعش تنظیم اُس اراضی سے ہاتھ دھو بیٹھی جس پر اُس نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس اراضی کا رقبہ عراق کے کل رقبے کے ایک تہائی کے برابر تھا۔ عراقی فورسز کو آپریشن میں امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی بھرپور سپورٹ حاصل تھی۔
عسکری لحاظ سے داعش تنظیم کے اس جنگ میں ہزیمت سے دوچار ہونے کے باوجود اس کے “سِلیپنگ سیل” ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں جومحفوظ علاقوں میں حملے کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آخری کارروائی پیر کے روز بغداد کے جنوب مغرب میں النہروان کے علاقے میں ہونے والا خود کش حملہ تھا جس میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY