سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح حوثی باغیوں کے حملے میں ہلاک

0
90

یمنی دار الحکومت صنعا میں حوثی باغیوں نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے گھر پر حملہ کرکے انھیں ہلاک کردیا ہے،اس حوالے سے فوٹیج بھی جاری کردی گئی ہے۔

سابق حکمران جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ حوثی باغیوں کے درجنوں جنگجوؤ ںنے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو دار الحکومت صنعا کے جنوب میں اس وقت وحشیانہ طریقے سے ہلاک کیا جب وہ اپنے ساتھیوں سمیت بکتر بند میں سوار ہوکر مآرب شہر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

مزید بتایا گیا ہےکہ حوثی باغیوں نے سابق صدر کو پہلے ذبح کرنے کی کوشش کی تھی، بعد میں انھیں اور انکے متعدد ساتھیوں کو گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔
جنرل پیپلز کانگریس نے حوثی باغیوں کے اقدام کو بہیمانہ قرار دیتے ہوئے یمنی عوام سے حوثی باغیوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی اپیل کردی ہے۔
دریں اثنا عرب ٹی وی کے مطابق صنعا پر قابض حوثی باغیوں کی وزارت داخلہ نے سابق صدر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ غداری کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب سے مذاکرات کرنے کی وجہ سے حوثی ان سے ناراض تھے۔
حوثی باغیوں نے دار الحکومت میں سابق صدر علی عبداللہ صالح اور انکے بھائی کے گھروں پر دھاوا بول کر دھماکے سے تباہ کردیا تھا۔علی صالح کی وفادار جماعت نے انکی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،جبکہ انکی لاش کی فوٹیج بھی جاری ہوگئی ہے۔

علی عبداللہ صالح 22مئی1990 سے 25 فروری 2012 تک یمن کے صدر رہ چکے تھے۔ جون 2011 میں صدارتی محل کے اندر ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ بری طرح زخمی ہوگئے تھے،اور سعودی عرب کے مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم پر انکا سعودی عرب کے ایک اسپتال میں علاج کیا گیا تھا۔
ستمبر2014 میں انہوں نے حوثی باغیوں سے اتحاد کرکے علاقائی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو اپنا دشمن بنالیاتھا۔ تاہم ہلاکت سے دو روز قبل انھوں نے حوثی باغیوں کے ساتھ قائم شراکت داری توڑدی تھی۔
جس کے بعد انکی وفادار فوج اور حوثی ملیشیا کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں اور گزشتہ شب حوثی باغیوں نے انکے زیراثر علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY