میں نے آپ کو مغربی ملکوں کے بارے میں رہنے اور یہاں کے آداب بھی تقریباً پوری طرح بتادیے اور ساتھ ہی وہ نسخہ کیمیا بھی بتا دیا کہ ہجرت کی نیت تبدیل کر لیجئے ،بجا ئے مالی منفعت بہتر مستقبل کے یہ ہجرت ہم اللہ کے دین کے لیے اور وہاں جاکر ان کے سامنے وہ کردار پیش کر نے کے لیے کرنا چاہتے ہیں جوکہ مسلمانوں کا کبھی طرہ امتیاز تھا تواس کے بعد جو کچھ بھی آپ کارخیرکریں گے وہ ثواب میں شا مل ہوگا۔ رہیں بقیہ چیزیں آپ کو خود مل جائیں گی ۔کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ“ جو دین مانگے گا اسے دنیا خود بخود مل جائے گی“ جبکہ اس نے ہمیں مانگنے طریقہ بھی یہ ہی یہ بتا یا ہے؟ جو دعائے مسنونہ میں ہم روز پڑھتے ہیں کہ “ اے رب ہماری دنیا اچھی کر اورا س کے بعد ہماری عاقبت اچھی کر اور دوزخ کے عذاب سے بچا “ مگر یاد رکھیئے وہ ثواب میں شامل تب ہی ہوگا کہ اس میں بد نیتی شامل نہ ہو، اس لیے کہ اس کے یہاں ہر عمل کا ثواب بے حساب بھی اور صفر بھی ہے۔ کیونکہ اس کے یہاں جو سکہ چلتا ہے وہ صرف“ خلوص“ ہے جوکام بھی مالِ حلال سے ہو اور جائز ہوتو ہر فعل باعث ثواب ہے۔ لیکن اور کسی مقصد کے لیے ہو تو باعث گناہ بھی ہوسکتا ہے۔ حضور (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ ریاکاری کی نماز ، نماز نہیں۔ریاکاری کاروزہ ، روزہ نہیں۔ ریاکاری کی زکات ، زکات نہیں ۔ ریاکاری کا حج ، حج نہیں اور ریاکاری کا جہاد جہاد نہیں یہ اسلام کے پانچ ستون ہیں تو پھر بچا کیا؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟
جو مومن مخلص ہیں ان کی تعریف سے قرآن پورا بھرا ہواہے۔ جبکہ کافروں کی مذمت فوراً اس کے بعد ہر جگہ ہے۔ البتہ منافقین کی مذمت ا سطرح ساتھ ساتھ نہیں ہے۔ مگر جہاں ہے وہاں ایک پوری صورت بھی موجود ہے۔ اور بات یہ کہہ ختم کردی گئی ہے۔ کہ “ان کا ابدی مقام دوزخ کا سب سے نچلہ درجہ ہے“ جبکہ حضور (ص) نے منافق کی پہچان یہ بتائی ہے کہ “جو وہ کہتا ہے وہ کرتا نہیں ہے، بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ وعدہ کرتا ہے توپورا نہیں کرتا ،امانت رکھو تو واپس نہیں کرتا ان میں سے ہرایک عیب نفاق ہے اور یہ سارے ہوں تو وہ پورا منافق ہے“ جبکہ ایک دوسری حدیث میں یہ فرمادیا کہ“ قرب قیامت مساجد بھری ہونگی مگر ان کے سینے ایمان سے خالی ہونگے“دوسری جگہ ایک حدیث میں فرمایا “جو اس وقت اپنے ایمان کو محفوظ رکھیں گے وہ تم سے پچاس گنا زیادہ مراتب میں بہتر ہو نگے؟ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کیاہم سے بھی بہتر؟ فرمایا ۔ ہاں ! اس لیے کہ تم نے مجھے (ص)دیکھا ، قرآن کو اترتے ہوئے دیکھا۔ وہ بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے اور اس پر عامل ہونگے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر دور میں اچھے لوگ موجود رہیں گے۔ مگرا ن کا تناسب بہت ہی کم ہو گا۔ لیکن ہونگے ضرور اس لیے کہ یہ حضور (ص) کا فرمان ہے۔ اور جو قرآن سے بھی ثابت ہے جیسے کہ صلح حدیبہ کے سلسلہ میں جو آیات نازل ہوئیں تو االلہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسوقت جنگ کو اس لیے ہم نے ٹال دیا کہ مکہ میں مسلمان بھی تھے جبکہ تم ان کو نہیں پہچانتے تھے؟ انہیں تمہارے ہاتھوں سے نقصان پہونچنے کا اندیشہ تھا۔“اللہ سبحا نہ تعالیٰ کی سنت رہی کہ مغضوب قوموں پر جب تک عذاب نہیں آیا جب تک مومنین کو وہاں سے نکال نہیں لیا گیا۔ جس کی بہت سی مثالیں ہیں اور بہت ہی مشہورمثال واقعہ نوح (ع)کی ہے کہ جب اللہ نے قومِ نوح ؑ(ع)کو ڈبویا تو حضرت نوح (ع)کو بمع ساتھیوں کے پہلے بچاکر کشتی میں سوار کردیا گیا، پھر کہیں جاکرطوفان آیا ۔ اس پوری بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ ا للہ کے نیک بندوں کی موجودگی بستیوں کے بقا کی ضمانت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم ا نہیں نہ پہچانتے ہوں؟ کیونکہ وہ ہر قسم کی ریاکاری سے بچتے ہیں ان کی دکانیں نہیں ہوتیں اور شہرت بھی نہیں ہوتی کہ وہ نہیں چاہتے ہیں، اسی لیے ان کی تشہیر بھی نہیں ہوتی؟
اب ہجرت کے ذریعہ راستہ کھلا ہے کہ آپ بھی ان میں شامل ہوجائیں یہ موقع بھی اس کارساز نے خود دیا ہےکیونکہ وہاں لوگ دنیا کے سلسلہ میں اس حدتک بڑھ گئے کہ بچے پیدا کرنا ان کی ثانوی ترجیح بن گئی۔ اور بقول ان کے “ لائف انجوائے کرنا“ ان کی پہلی ترجیح ہے“ وہ اب مجبور ہیں کہ کم از ایک مقررہ تعداد میں ان کو نوجوان لیناہیں کیونکہ ان ملکوں کے باشندے تیزی سے بوڑھے ہوتے جارہے ہیں لہذا کام کون کرے گا اور ٹیکس کہا ں سے آئےگا ؟ جبکہ وہ زیادہ تر فلاحی ریاستیں ہیں۔ لہذا بوڑھوں کاان پر بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ جبکہ انہوں نے اسلام ا چھی باتیں لیلیں جیسے عدل فلاحی ریاست وغیرہ ،جو اب ہمارے یہاں ناپید ہے۔ جبکہ“ ا سلام میں پہلی ترجیح بچے پیدا کرنا ہے“ یہ وہ حقائق ہیں جوانہیں درپیش ہیں؟ اس کی وجہ سے ہجرت کی مارکیٹ سخت مقابلہ ہے کہ“ جو ملک زیادہ سہولت دے وہ مہاجر لیلے اور اکثر ان کا ٹاگیٹ پورا نہیں ہوتا۔ ہم اس سے اس لیے پورافائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں جبکہ دوسرے اٹھارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں فتوے پہلے سے موجود ہیں کہ دار السلام سےدارحرب طرف ہجرت کرنا منع ہے۔ لہذا سب مسلمان ملکوں کی طرف دوڑتے ہیں جو کوئی بھی سہولت دینے کو تیار نہیں ہے۔ جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو دھکے مارکر نکال دیتے ہیں؟اس کاجواب یہ ہے کہ علماء سے پوچھیئے کہ کیاہم اسلام کی ترقی کے لیے ہجرت کریں تو بھی منع ہے؟ یہاں انہیں اخاموش ہونا پڑیگا اس لیے کہ حضور(ص)کا ارشا د گرامی ہے کہ اس مقصد کی تعمیل میں سااری دنیامیں پھیل جاؤ“ اور صحابہ کرام (رض) ساری دنیا میں پھیل گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں اب مسلمان اکثریت میں ہیں اور اپنی خوشی ہیں۔ جہاں تلوار نہیں پہونچی اور وہاں سے نکالے گئے جہاں پہلے تلوار پہونچی ،جیسے اسپین اور ہندوستان وغیرہ؟ پھر دوسری بات یہ ہے کہ ہم مقامی لوگوں کے احسانمند ہونے کے بجائے ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ جبکہ انکااحسان ماننا حضور (ص)کی ایک طویل حدیث کے مطابق ہم پرواجب ہے۔ جو یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قیامت دن کچھ بندوں کی طرف نہ دیکھے گا نہ انسے بات کریگا “جس میں وہ شامل ہےجس پر کسی قوم کا احسان ہو اور وہ اس سے آنکھیں پھیرلے اور لاتعلقی ختیار کرے( مسند احمداور تفسیر ابنِ کثیرؒ سورہ آِل عمران آیت نمبر77) قرآن میں بھی یہ حکم ہے کہ“ احسان کا بدلہ احسان ہے“ باقی آئندہ













