یروشلم کی تاریخ کیا ہے؟ مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کیا ہے؟ القدس الشریف کی اہمیت اور دینی و مذہبی و تاریخی پس منظر کیا ہے؟ یہ سب کچھ اس وقت بیان کرنے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی شاید اسکی ضرورت ہے کہ لگ بھگ ہر کوئی اپنے اپنے طور پر اپنے علم کے مطابق اس سے آگاہ ہے

اس وقت تو مسلہ جنونی امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا ہے جس کے مطابق امریکہ نے تسلیم کر لیا ہے کہ مقبوضہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہو گا۔ جس کام کو امریکہ کے صدر جارج بش، کلنٹن اور اوباما نے تمام تر اسرائیلی دباؤ کے باوجود نہیں کیا اسکو ذہنی طور پر مسلم مخالف جنونی ٹرمپ نے یہ کہہ کر حقیقت کا روپ دے دیا کہ یہی امریکہ کے مفاد میں ہے اور امریکہ اب اپنا سفارتخانہ یروشلم میں منتقل کرے گا تل ابیب سے۔

خود امریکی ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ کے موقر اداروں نے ٹرمپ کو اس اقدام سے منع کیا تھا لیکن ہٹ دھرم ٹرمپ نے سب کی آرا کو بالائے طاق رکھا اور اسرائیل نواز فیصلہ کر دیا۔

اہل علم اور مہا مبصرین اسکی جو بھی توجیہہ دیں اور جو بھی دلائل پیش کریں لیکن میری قفط ایک ہی دلیل ہے کہ جب امریکہ کو یہ معلوم ہے کہ دنیا بھر کی ننانوے فیصد مسلم قیادتیں اسی کی کاسہ لیس اور ہیجڑے پن کا شکار ہیں اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے سب خطوں کے زیادہ تر ممالک اسی کے پروردہ اور زیر اثر ہیں تو کون ہے جو حقیقت میں اسکے فیصلے کے خلاف عملی طور پر کھڑا ہو گا۔ اگر ایران کو ہی ایک ملک سمجھ لیا جائے جو اس پاگل پن کے فیصلے کے خلاف کھڑا ہو گا تو اسکا انتظام وہ اسلامی اتحاد کی فوج اور سعودیہ کو مسلسل دینے والی اشیرباد کے ذریعے پہلے ہی کر چکا ہے اور ایران کو بقول ٹرمپ کے سبق سکھانے کے لیئے پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی سربراہ جنرل راحیل کی فوجی حکمت عملی ہی کام کرے گی۔ گویا مسلم خون مسلم کے ہاتھوں ہی بہے گا اور اصل قاتل کے ہاتھ صاف ستھرے ہو نگے

تا دم تحریر جنونی ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف جن ممالک نے ببانگ دہل آواز بلند کی ہے وہ مسلم سوچ کے مطابق غیر کلمہ گو اور شدت پسند مسلم سوچ کے مطابق کافر ہیں۔ مسلم مالک کے تنظیم او آئی سی جو مدت سے ایک مردہ گھوڑا ہے اسکا اجلاس پہلے کبھی کیا کچھ کر چکا ہے جو اب کرے گا؟ اس فیصلے کے خلاف بولنے والے توانا آوازیں یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، روس، اقوام متحدہ،چین اور ایسے ہی ممالک کی ہیں جبکہ بکری کی طرح منمنانے والی آوازوں میں ابھی تک اردن ، پاکستان، امریکی بغل بچہ سعودی عرب اور خود منقسم فلسطینی قیادت شامل ہے

فلسطینی قیادت جو مفادات کے مرکز کے گرد گھومتی رہی ہے اور جس نے اپنے مفادات کے لیئے خود کو ہی کمزور بنا کے اسرائیلی اھداف پورے کیئے ہیں۔یاسر عرفات کے بعد یہ وہ قیادت ہے جو خود اپنے عوام کی دشمن اور قاتل ہے ، جنکو امریکی اسرائیلی مفادات کو ہی کسی نہ کسی صورت میں پورا کرنا ہے جسکی ایک بڑی مثال جنونی ٹرمپ کا یہ فیصلہ ہے

ظاہری طور پر ایک بیان جو سب جانتے ہیںں کہ فقط اشک شوئی ہے اور اپنے عوام کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ان مسلمانوں کو خوش اور مطمئن کرنے کے لیئے ہے جو سعودیہ کو مسلمانوں کا ملجا و ماویٰ سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کسیے سعودیہ نے خلیجی اور اپنی مرضی کے مسلم ممالک کو جمع کیا اور کیسے اس جنونی ٹرمپ سے اسلامی کانفرنس کی صدارت کروائی جس کے بدلے میں سعودیہ نے امریکہ سے خطیر رقم کا اسلحہ خریدنے کے معاہدے کیئے اور در پردہ ایران کو سبق سکھانے کا امریکہ سے غیر تحریری معاہدہ کیا۔

اب کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ گداگر کی بھی کبھی اپنی کوئی مرضی یا فیصلہ ہوتا ہے؟ ایسے میں سعودی ایوان شاہی کا جاری کردہ بیان سوائے لفاظی اور عام مسلمان کو مطمئن کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ بیان یقین کریں مجھے تو ایک سیاسی لطیفہ لگتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعودی عرب کو امریکی فیصلے پر شدید تشویش ہے۔ اس اقدام سے امریکا کی فلسطینی قوم کے حقوق کے خلاف اسرائیل کی واضح طرف داری ظاہر ہوتی ہے۔ نیز القدس کے حوالے سے تاریخی حقائق اور طے شدہ اصولوں کی نفی کرکے فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔سعودی عرب کے شاہی دیوان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی عالمی قراردادوں کے منافی اور ناقابل قبول اقدام ہے اور امریکہ اسے واپس لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکے کہنے پر ہی تو امریکہ اپنا فیصلہ بدلے گا؟ ایک سعودی عرب ہی نہیں ننانوے اعشاریہ نو فیصد مسلم قیادت بھی مل کر امریکہ سے یہ کام نہیں کروا سکتی۔ پہلے تو مسلم ممالک کا اپنا اتحاد نہیں ہے پھر ان سب کا مل کر امریکہ کے خلاف کوئی عالمی اتحاد قائم کرنا بس دیوانے کا خواب لگتا ہے

ایک لمحے کے لیئے دور تک پیچھے مُڑ کے دیکھیں تو مسلم امہ کی موت کی ذمیدار ان مسلم قیادتوں نے کسی بھی اسلام اور مسلم مخالف مسلے پر نہ مل کر سوچا اور نہ ہی کوئی مشترکہ حکمت عملی اپنائی جسکی وجہ سے عالمی برادری میں جو ہماری حیثیت اور اوقات ہے وہ ہم سب جانتے ہیں چاہے بول کر یا لکھ کر اسکا اظہار کریں یا نہ کریں

مجھے تو یہ خوف ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد یروشلم میں اپنا سفارتخانہ قائم کرنے والا پہلا ملک سعودی عرب پھر مصر پھر اردن،پھر باقی خلیجی ممالک اور پھر سعودی عرب کے اشارے پر وہ مسلم ممالک بھی ہوں جن کے بجٹ سعودیہ کی زکوات و صدقات کے پیسے پر چلتے ہیں اور جنکی معیشت سعودی عرب کے سستے تیل کی مرہون منت پے

اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور لکھا جائے گا ایسے میں مجھ جیسے طالب علم کی آواز نقار خانے میں طوطی کی ہی آواز سہی لیکن مجھے یہ اطمینان ہے کہ روز محشر اللہ کے حبیب کے سامنے مجھ جیسے شرمندہ نہیں ہو نگے کہ ہم اس ظلم پر اندھے گونگے بہرے بنے رہے۔

اب تو القدس بھی ہے تمہارے ہی اعمال کے تیر کھا یا ہوا

ابرہہ عہدِ حاضر کا اس بار تنہا نہیں
ساتھ اُس کے بڑی طاقتوں کے خدایانِ شر بھی تو ہیں
ہاں مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس بار شاید کوئی
سورئہ فیل نازل نہ ہو
اور اس کا سبب
ہم مسلمانوں کی بے حسی کے سوا اور کچھ بھی نہیں
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے ہمارے گھروں کو تباہ کر دیا
آسماں سر سے پاؤں سے کھینچ لی ہے زمیں
شہر اُجڑے ہوئے
گرد اوڑھے ہوئے سو رہے ہیں مکیں
عالمِ کفر و شر تو ہے جاگا ہوا
حاکمینِ عرب اور عجم جیسے سوئے ہوئے
اک عجب بے حسی کی ہے یہ انتہا
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے جنہیں ریزہ ریزہ کیا
اُن پہ ماتم کُناں
اُن پہ سینہ زناں
اُن پہ نوحہ کُناں کوئی بھی تو نہیں
بِک گئے ہیں قلم اور قلم کار خفتہ ضمیری کی میت اٹھائے ہوئے
اور مسلمان حاکم محلات میں سہم کر چھُپ گئے
ایسے حالات میں بھی ہیں اپنے حرم کو سجائے ہوئے
اے عرب اور عجم کے مسلمان حاکمو
ارضِ بغداد کی موت کے بعد اب تمہیں
مرگِ لبنان پر بھی مبارک کہیں
تم نے اپنے ہی دین اور تہذیب کا جس طرح سے جنازہ نکالاہے اُس پر مبارک تمہیں
تم نے اپنی شجاعت و جرآت کے زرین ابواب کو
جس طرح پارہ پارہ کیا
اُس پہ بھی تم کو تحسین ہو
اور ابد تک تمہارے ان عشرت کدوں میں اُجالا رہے
سب جہانوں میں تمہاری اس بے ضمیری کا بھی بول بالا رہے
بے ضمیری کے نشے میں مدہوش حاکمینِ عرب اور عجم کو ہمارا سلام
ایسے فرمانرواؤں کی زریں عباؤں قباؤں پہ جانیں نثار
جن کو ہے صرف اپنی حکومت سے پیار
بصرہ و کوفہ و شہرِ بغداد کے بعد اب آپ کو
ہو مبارک کہ بیروت بھی لُٹ چکا
ارضِ لبنان بھی حذبِ شیطان کی ملکیت بن گئی
بالبیک کے ہر اک گھر پہ اب موت کا راج ہے
اور کانا کی ساری فضا
خون اور بارود کی بو میں ہے جس طرح سے نہائی ہوئی
اب تو القدس بھی ہے تمہارے ہی اعمال کے تیر کھا یا ہوا
اور یہ عزت مآب حکمراں
سامراجی خداؤں کے پٹھو یہ فرمانروا
قحبہ خانوں میں مدہوش سوئے ہوئے
پاسبانِ حرم
مصلحت کی قبا کو منافق بدن پہ سجائے ہوئے
تاج اور تخت کے عشق میں بے ایماں،دوغلے حکمراں
چند دن اور ہیں
دیکھنا ہوں گے یہ سب بھی عبرت نشاں
کعبئہ دل میں اب کوئی دے تو اذاں
یا امامِ زماں
العجل العجل۔۔۔نعرہِ کشتگاں
المدد یا خُدا۔۔۔خالقِ دو جہاں
المدد یا نبی۔۔۔قبلہِ عاشقاں
المدد یا علی
پھر سے مشکل میں ہے عاشقِ مصطفیٰ
المدد یا علی سب کے مشکل کُشا
سب کے حاجت روا

صفدر ھمدانی

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY