اللہ کراچی کو اس کی خوشیاں لوٹا دے۔طاہرہ مسعود

2
189

کراچی کو خوبصورت بنانے کے لیے تجاوزات ختم کرنے کی جو مہم شروع ہو چکی ہے ا س پہ ملا جلا ردِّعمل ہے۔ بیشتر لوگ کراچی کی سڑکوں کے کشادہ ہونے پر سکھ کا سانس لے رہے ہیں وہیں پر خوانچہ فروش اور قبضے والے دُہائی دے رہے ہیں۔

حکومتوں کو ماؤں کی طرح شفیق ہونا چاہیے. جو تربیت تو کرتی ہیں لیکن بچے کو نقصان نہیں پہنچنے دیتیں. تجاوزات ہٹانے سے پہلے متبادل انتظام ہونا چاہیے تھا یا کم از کم تین تین ماہ کا گزارہ یا نئی جگہ بنانے کے پیسے دینے چاہئیں تھے. عوام بے روزگار ہو ں گے تو ملک میں انتشار پیدا ہو گا

عجیب قابلِ رحم صورتحال ہے۔ ایک طرف عروس البلاد کراچی کو ان تجاوزات کے نیچے سے کھود کر گویا واپس نکالنا ہے تو دوسری طرف عام عوام کے روزگار ختم ہوجانے پر بے چینی کا بھی ڈر ہے۔ کئی متضاد خیال آتے ہیں۔

سنا ہے کہ عوام میں اس وقت اس کے خلاف بہت غم و غصہ ہے ۔بہت دل دوز قسم کے نظاروں کے ویڈیو کلپز گردش کر رہے ہیں۔ اس پروپیگنڈہ کے پیچھے قبضہ والے وہ لوگ ہیں جو ان جگہوں کا بھتہ لیتے تھے ۔ کہ دیکھو کس طرح حکومتی کارندے ہمارے اموال تباہ کر رہے ہیں۔ جبکہ یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ ان کو پہلے بار بار نوٹس دیے جا چکے تھے۔

کہنا تو نہیں چاہیے لیکن ماضی میں کراچی کے اندر پوری کی پوری مارکیٹوں میں آگ لگ جاتی رہی ہے تب بھی تو زندگی دوبارہ شروع ہو جاتی رہی ہے۔ اس نقصان اور صدمےکو عوام کسی طرح تقدیر کا لکھا سمجھ کر برداشت کر لیتے رہے ہیں۔ اس بار تو شہر کی بہتری کے لیے ایساکیا جا رہا ہےکراچی پاکستان کا حسن ہے۔ اس کو ایک بین ا لاقوامی معیار کا شہر ہونا چاہیے۔ جبکہ یہ کوڑا دان بن چکا ہے۔
کراچی عروس البلاد تھا۔ پھر ایک منحوس سایہ ا س پر پڑا جو اس کو منحوس البلاد بنا گیا۔ اک لمبا عرصہ یہ خون آشام سایہ کراچی کی گلیوں میں دندناتا پھرا۔ لیکن لوگ پھر بھی آ آ کر اس میں آباد ہوتے گئے اور کراچی شہر کی شریانیں سُکڑتی گئیں ،اس کے پھیپھڑے دھوئیں سے بھرتے گئے۔ یہ قریب قریب سرطان زدہ ہو گیا تھا، اب ایک مسیحا اس کا آپریشن کر رہا ہے تکلیف تو ہوگی ۔ لیکن یہ تکلیف انشا اللہ جلد آسانی میں بدل جائے گی۔ لیکن وہ لوگ جو قبضہ مافیا سے کماتے تھے وہ انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔

یہ معلوم نہیں کہ اس توڑ پھوڑ کے بعد تعمیراتی کام بھی شروع ہو چکا ہے یا نہیں۔ یعنی سڑکیں اور فٹ پاتھ دوبارہ بنائے جارہے ہیں یا نہیں۔ کراچی کی بلدیہ کا تو بہت تلخ تجربہ ہے ۔ یاد ہے کہ وہ گھر جن کے ایک طرف سڑک اور دوسری طرف گلیاں ہوتی ہیں۔ ان کی گلیوں کی جب علاقے کی بلدیہ کی طرف سے مرمت کی جاتی یا دوباریہ بنائی جاتیں تو و پہلی کے اوپر ہی ایک اور موٹی سی تہہ بچھا دی جاتی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلی کو اکھار کر بنایا جاتا۔ لیکن ہو ا یون کہ تین چار بار میں بعض لوگوں کے پچھلی گلی والے دروازے کھڑکی جتنے رہ گے تھے۔ ان کے گھروں کے پچھلے صحن گلی سے نیچے تالا ب کی طرح ہوگئے جس کی وجہ سے برسات مین ان کے لیے مصیبت ہو جاتی۔

کراچی کی بلدیہ اکثر سڑکیں کھود کر بھول جاتی ہیں۔ جس کیو جہ سے وہاں کی گلیوں میں خاک اڑتی رہتی ہے۔ عوام کے کپڑے اور چہرے کچھ ٹریفک کے دھوئیں کی وجہ سے اور کچھ اس دھول مٹی کہ وجہ سے خا آلود رہتے ہیں۔ یوں لگتا تھا کہ لوگوں نے منہ نہیں دھوئے۔ عام لوگوں کی تو بات ہی کیا ڈاکٹر کو کلینک میں ملنے جاؤ تو اگر ا سکے آفس میں ائیر کنڈیشنر نہیں ہے تو وہ بھی میلا میلا سا لگتا ہے۔ بلدیہ کے اس طرح زمین کھود کر لمبے عرصے تک چھوڑ دینے سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ اور بے چارہ کراچی ایک آفت زدہ نہایت پسماندہ علاقہ لگنے لگتا تھا۔ امید ہے کہ اب ا س میں بہتری آئے گی انشا اللہ

مہذب ممالک میں جب کسی شہر کی آ بادی ایک خاص سطح تک پہنچ جائے تو وہاں مزیدلوگوں کی نقل مکانی روک کر دوسرا شہر بسایا جاتا ہے۔ کراچی میں بھی ا س کی سخت ضرورت ہے۔مجھے یاد ہے کہ اسّی کی دہائی میں جو علاقے کراچی سے باہر سمجھے جاتے تھے آج وہ کراچی کا وسط لگنے لگے ہیں۔

دوبارہ تجاوزات کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ کیونکہ ا س مضمون کو لکھنے کا اصل محرّک ہی یہ تھا۔ ہر چند یہ بات بہر حال اہم ہے کہ حکومت کو تجاوزات ہٹانے کا کام شروع کرتے وقت ان متاثرین کو کچھ متبادل دینا چاہیے۔ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ کراچی میں ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے ماضی میں بدلے میں زمینیں بھی دی گئی تھیں لیکن بیچ باٹ کر وہ لوگ پھر یہیں موجود ہوتے تھے۔ یعنی نتیجہ وہی ہوتا یعنی ڈھاک کے تین پات۔ امید ہے اس طرح بھی حکومت خیال کرے گی۔ کہ یہ لوگ دوبارہ نہ پسر جائیں۔ اور پھر یہ یہ رجعتِ قہقری ثابت نہ ہو 🙂
معتبرر ذرائع سے شنید ہے کہ کراچی بہتری کی طرف گامزن ہے۔ باہر کے ممالک کی طرح کراچی میں جگہ جگہ کوڑا دان نصب کیے گئے ہیں ا ور اسی معیار کے کچرا اٹھانے والے ٹرک آتے ہیں لیکن پشتوں کی سہل پسند عوام ان کچرا دانوں کو استعمال کرنے میں حکومت سے تعاون نہیں کرتے۔ کچرا زیادہ تر کچرے دانوں میں ڈالنے کی بجائے ان کے اردگرد پھینکا جاتا ہے۔ جس سے صفائی کی اس سہولت کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ عوام کالانعام ہی ہے۔ اب سدھار آنے میں وقت تو لگے گا۔

کچھ این جی ا وز جن کے نام میرے لیے نئے ہیں ا س وقت تجاوزات سے متاثرہ شہریوںکی مدد کے لیے آگے بڑھی ہے۔ اللہ ان کو جزائےخیر دے۔ آمین۔ یہ بات بہت اطہمنان کا باعث ہے۔ اللہ دیگر کھرب پتیوں کا بھی ضمیر جگائے۔آمین
ایک اور بات جس کی طرف توجہ کی جرورت ہے وہ ہے پاکستان کی مہنگائی۔ یہ ویسی ہی ہے جیسی دیار مغرب میں ۔ بڑے شہروں میں یہ مہنگائی اور بھی زیادہ ہے۔وہاں تنخواہوں اور اشیاء صرف کے نرخوں میں تناسب ہی نہیں۔ ہوشربا قیمتیں ہیں۔ اللہ جانے بڑے بڑے شاپنگ مالز کس طرح چلتے ہیں کیونکہ عام عوام میں قوتِ خرید تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ غریب تو ان میں صرف اے سی کی ٹھنڈی ہوا لینے ہی داخل ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ ایک بار جب حکومت معاشی بحران پر قابو پا لے گی تو قیمتوں کا جن بھی قابو آجائے گا۔

کراچی کی ایک بدصورتی اور بھی ہے جوطبیعت کو بہت گراں گزرتی ہے۔ ساتھ ہی وہ نہایت خطرناک بھی ہے، اس طرف حکومت کو ضرور توجہ دینی چاہیے۔ وہ بدصورتی اور خطرہ اس کے کمزور پلازے ہیں۔ جتنے بھی اپارٹمینٹس یا فلیٹس ہیں ان میں زیادہ ترسیوریج پائپز بہت گھٹیا استعمال کیے جاتے ہیں جس سے لیکیج کی وجہ سے ان پر بد صورت دھبے اور نقش و نگار بن جاتے ہیں۔ جو عمارت اور مکینوں کے لیے یقینی طور پرخطرناک بھی ہیں۔ لیکن پھر بھی لوگ ان میں رہنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ آئندہ جس عمارت پر یہ دھبے نظر ائیں اس کی نشاندہی ہونے پراس کے بلڈر کو پکڑا جائےا ورا س سے یہ کام از سرِ نو کروایا جائے کہ ساری بلڈنگ کے پائپ بدلےجائیں۔ باہر کے ممالک میں اس طرح کی بد عنوانیوں کے لیے نہایت سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔
کراچی کی ایک اور بدصورتی اس میں پھیلی بد امنی اور انتشار تھا۔ علاقائی ، لسانی اور مذہبی جھگڑوں نے کراچی کو قبائلی علاقہ بنا دیا ہو جیسے۔کراچی یرغمال تھا دہشت گردوں کا۔ اب ا س پر کچھ قابوپایا جا چکا ہے۔ کراچی منی پاکستان ہے۔ ا س میں پورے پاکستان کے لوگ آباد ہیں۔ ا سلیے اس کا نظام چلانے کے لیے برداشت اور امن و آشتی بہت ضروری ہے۔
بدخواہ لوگ ا بھی بھی کراچی کا امن برباد کرنا چاہ رہے ہیں اور اس امن کو عارضی قراردے رہے ہیں۔ ان کے منہ میں خاک۔ اللہ کراچی کو اس کی خوشیاں لوٹا دے اور دائمی کردے۔آمین

طاہرہ مسعود

SHARE

2 COMMENTS

  1. اے اللہ تو ہمارےوطن کی حفاظت کرنا اے اللہ تو لوگوں کے دلوں میں انسانیت سے محبت ڈال دے امین

LEAVE A REPLY