نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دے دیا

0
349

روزنامہ ایکسپریس
بھارتی وزیراعظم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان پر حملے کے منصوبے میں ناکامی کے بعد اب اسے مزید نقصان پہنچانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اس کا پانی بند کرنے اور سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دے دیا‘ اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے گزشتہ روز نئی دہلی میں آبی ماہرین اور اپنے وزراء سے صلاح مشورے کے لیے اجلاس طلب کر لیا جس میں پاکستان کا پانی بند کرنے اور سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے حوالے سے تمام عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں شریک ماہرین کی اکثریت نے وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ پاکستان کا پانی بند کرنے کی صورت میں چین ردعمل کے طور پر براہما پترا سے بھارت آنے والا پانی بھی بند کر سکتا ہے لہٰذا اس قسم کی غلطی سے اجتناب برتا جائے۔

دیکھنا یہ ہے کہ نریندر مودی سندھ طاس معاہدہ ختم کر کے پاکستان کا پانی بند کرنے کا اپنا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچاتے یا اس سے باز رہتے ہیں۔لیکن یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آئیں گے۔سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی وساطت سے 19ستمبر 1960 کو بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا جس کے تحت تین دریا بیاس‘ راوی اور ستلج بھارت کے حوالے کر دیے گئے جب کہ تین مغربی دریاؤں سندھ‘ چناب اور جہلم پر پاکستان کا کنٹرول تسلیم کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت اپنے ہاں سے آنے والے دریاؤں کو تجارتی مقاصد‘ زراعت کے لیے پانی لینے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے‘ بھارت کو دریائے سندھ کا بیس فیصد پانی استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔

لیکن گزشتہ چند عشروں سے بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے حق سے زیادہ پانی پر قبضہ کرنے کے لیے پاکستان میں آنے والے دریاؤں پر بڑی تعداد میں ڈیمز بنا رہا ہے لہٰذا اس امر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو اپنے حصے کا بہت کم پانی ملے گا جس سے اس کی زراعت کو نقصان پہنچنے سے بہت بڑا زرعی علاقہ بنجر ہو سکتا ہے۔ عالمی قوانین کے تحت کوئی بھی ملک اپنے ہاں سے بہنے والے پانی کو مکمل طور پر روک کر دوسرے ملک کی حق تلفی نہیں کر سکتا‘ اس قانون کے تحت 65ء اور 71ء کی جنگوں کے دوران بھی بھارت نے پاکستان کا پانی بند نہیں کیا لیکن اب جب دونوں ممالک امن کے زمانے میں رہ رہے ہیں ایسی صورت میں بھارت کا پاکستان کا پانی بند کرنا عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوگا اور بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو بھی ختم نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں ورلڈ بینک کی گارنٹی شامل ہے۔

سندھ طاس معاہدہ دو طرفہ نہیں بلکہ عالمی معاہدہ ہے جسے ختم کرنا آسان نہیں۔ بہر حال حیرت انگیز امر ہے کہ عالمی قوتیں بھارت کی اس جارحیت پر نہ صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنانے کی بھی حمایت کر رہی ہیں۔ عالمی قوتوں کی اس آشیر باد ہی سے شہ پا کر بھارت پاکستان کے خلاف نت نئے منصوبے بنا رہا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی بھارت اور عالمی قوتوں کے اس گٹھ جوڑ کے تناظر میں ملکی سلامتی اور پانی کے بحران سے بچنے کے لیے متحرک ہونا ہو گا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت کے اس جارحانہ رویے کو دیکھتے ہوئے بھی ہماری حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پانی کے بحران کے مستقل حل کے لیے کسی قومی پالیسی پر متفق نہیں ہو رہیں اور ڈیموں کی تعمیر پر سیاسی تنازعات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ بھارت کے ہاتھوں میں پاکستانی دریاؤں کا پانی بند کرنے کا ہتھیار کسی ایٹمی قوت سے کم نہیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت اور زراعت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اس لیے ملکی بقا اور سلامتی کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیر کرنے کے لیے قومی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔
ادھر نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کو غربت اور بیروز گاری کے خلاف جنگ کی دعوت دینے پر انھیں بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایاوتی نے نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھیں پاکستان کو مشورہ دینے کے بجائے اپنی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نسبت بھارت میں غربت کی سطح اڑھائی گنا سے بھی زیادہ ہے‘ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی 8.3 فیصد آبادی جب کہ بھارت کی 21.3 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ بہرحال مودی کچھ بھی سازش کریں ہماری حکومت اور اپوزیشن کو ملکی سلامتی اور بقا کی خاطر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا اور ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جو بھی تنازعات ہیں انھیں باہمی صلاح مشورے سے حل کرنا ہو گا تاکہ پاکستان کے لیے مستقبل میں جنم لینے والے پانی کے ممکنہ بحران سے بخوبی نمٹا جا سکے۔‘ اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے گزشتہ روز نئی دہلی میں آبی ماہرین اور اپنے وزراء سے صلاح مشورے کے لیے اجلاس طلب کر لیا جس میں پاکستان کا پانی بند کرنے اور سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے حوالے سے تمام عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں شریک ماہرین کی اکثریت نے وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ پاکستان کا پانی بند کرنے کی صورت میں چین ردعمل کے طور پر براہما پترا سے بھارت آنے والا پانی بھی بند کر سکتا ہے لہٰذا اس قسم کی غلطی سے اجتناب برتا جائے۔

دیکھنا یہ ہے کہ نریندر مودی سندھ طاس معاہدہ ختم کر کے پاکستان کا پانی بند کرنے کا اپنا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچاتے یا اس سے باز رہتے ہیں۔لیکن یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آئیں گے۔سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی وساطت سے 19ستمبر 1960 کو بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا جس کے تحت تین دریا بیاس‘ راوی اور ستلج بھارت کے حوالے کر دیے گئے جب کہ تین مغربی دریاؤں سندھ‘ چناب اور جہلم پر پاکستان کا کنٹرول تسلیم کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت اپنے ہاں سے آنے والے دریاؤں کو تجارتی مقاصد‘ زراعت کے لیے پانی لینے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے‘ بھارت کو دریائے سندھ کا بیس فیصد پانی استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔

لیکن گزشتہ چند عشروں سے بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے حق سے زیادہ پانی پر قبضہ کرنے کے لیے پاکستان میں آنے والے دریاؤں پر بڑی تعداد میں ڈیمز بنا رہا ہے لہٰذا اس امر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو اپنے حصے کا بہت کم پانی ملے گا جس سے اس کی زراعت کو نقصان پہنچنے سے بہت بڑا زرعی علاقہ بنجر ہو سکتا ہے۔ عالمی قوانین کے تحت کوئی بھی ملک اپنے ہاں سے بہنے والے پانی کو مکمل طور پر روک کر دوسرے ملک کی حق تلفی نہیں کر سکتا‘ اس قانون کے تحت 65ء اور 71ء کی جنگوں کے دوران بھی بھارت نے پاکستان کا پانی بند نہیں کیا لیکن اب جب دونوں ممالک امن کے زمانے میں رہ رہے ہیں ایسی صورت میں بھارت کا پاکستان کا پانی بند کرنا عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوگا اور بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو بھی ختم نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں ورلڈ بینک کی گارنٹی شامل ہے۔

سندھ طاس معاہدہ دو طرفہ نہیں بلکہ عالمی معاہدہ ہے جسے ختم کرنا آسان نہیں۔ بہر حال حیرت انگیز امر ہے کہ عالمی قوتیں بھارت کی اس جارحیت پر نہ صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنانے کی بھی حمایت کر رہی ہیں۔ عالمی قوتوں کی اس آشیر باد ہی سے شہ پا کر بھارت پاکستان کے خلاف نت نئے منصوبے بنا رہا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی بھارت اور عالمی قوتوں کے اس گٹھ جوڑ کے تناظر میں ملکی سلامتی اور پانی کے بحران سے بچنے کے لیے متحرک ہونا ہو گا۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت کے اس جارحانہ رویے کو دیکھتے ہوئے بھی ہماری حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پانی کے بحران کے مستقل حل کے لیے کسی قومی پالیسی پر متفق نہیں ہو رہیں اور ڈیموں کی تعمیر پر سیاسی تنازعات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ بھارت کے ہاتھوں میں پاکستانی دریاؤں کا پانی بند کرنے کا ہتھیار کسی ایٹمی قوت سے کم نہیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت اور زراعت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اس لیے ملکی بقا اور سلامتی کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیر کرنے کے لیے قومی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔

ادھر نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کو غربت اور بیروز گاری کے خلاف جنگ کی دعوت دینے پر انھیں بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایاوتی نے نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھیں پاکستان کو مشورہ دینے کے بجائے اپنی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نسبت بھارت میں غربت کی سطح اڑھائی گنا سے بھی زیادہ ہے‘ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی 8.3 فیصد آبادی جب کہ بھارت کی 21.3 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ بہرحال مودی کچھ بھی سازش کریں ہماری حکومت اور اپوزیشن کو ملکی سلامتی اور بقا کی خاطر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا اور ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جو بھی تنازعات ہیں انھیں باہمی صلاح مشورے سے حل کرنا ہو گا تاکہ پاکستان کے لیے مستقبل میں جنم لینے والے پانی کے ممکنہ بحران سے بخوبی نمٹا جا سکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY