اقوامِ متحدہ کی مستقل رکنیت؛ فلسطینیوں کی درخواست پر کارروائی شروع

0
971

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی کمیٹی نے فلسطینیوں کی اقوامِ متحدہ کی مستقل مکمل رکنیت کی درخواست کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ کی طویل عرصے سے اس حوالے سے مخصوص پالیسی رہی ہے جو سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پر منتج ہوتی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی فلسطینیوں کی درخواست کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کا مؤقف سب کو معلوم ہے جس میں تبدیلی نہیں آئی۔

امریکہ کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کے لیے علیحدہ ریاست کی بات کرتا رہا ہے۔

فلسطینیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت وہ معاملہ ہے جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کے حصے کے طور پر زیرِ بحث آئے گا۔

تھامس گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس کمیٹی کی متحرک انداز میں معاونت کر رہا ہے۔ ان کے بقول امریکہ چاہتا ہے کہ دو ریاستی حل کا راستہ تلاش کیا جائے جس میں اسرائیلیوں کو امن میسر ہو جب کہ فلسطینیوں کو ان کی الگ ریاست مل سکے۔

اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے حصول کا معاملہ سیکیورٹی کونسل سے ہو کر گزرتا ہے اور سیکیورٹی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے امریکہ کے پاس ویٹو کا اختیار موجود ہے۔ کونسل کے ارکان کی مجموعی تعداد 15 ہے اور اقوامِ متحدہ کی رکنیت ان ارکان کی منظوری پر منحصر ہے۔

اسی طرح اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی کسی نئے ملک کی رکنیت کے لیے دو تہائی ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY