اسلام اور حقوق ا لعباد (35) ۔ شمس جیلانی

0
92

گزشتہ مضمون میں ہم نے خاندان کی پہلی اکائی بناکر، بات یہاں پر ختم کی تھی کہ ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں جب کہ اچھی اولاد پیدا کرنے کے لیئے ماں اور باپ دونوں کا خوداچھا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر خاطر خواہ نتائج نکلنا ناممکن ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے میں تقویٰ اور اچھا اخلاق تلاش کریں! کیونکہ یہ دو نوں باتیں ایسی ہیں جو انسان کو فرشتوں سے بڑھادیتی ہیں اور یہ نہ ہوں تو وہی انسان شیطان بن جاتاہے۔ پھر جنکی (ص)زندگی قرآن کی سورہ الاحزاب آیت نمبر 21 کے مطابق بہترین نمونہ ہے وہ (ص) فرماتے کہ میں مکرم الاخلاق بناکر بھیجا گیا ہو اور تم میں سب سے اچھا وہ ہے کہ جس کا اخلاق چھا ہے اور پنے خاندان کے یے وہ اچھا ہے میں اپنے اہلِ خاندان ساتھ سب سے اچھاہوں“ ان (ص)کے ا خلاق کی تعریف اللہ نے متعدد جگہ قرآن میں فرمائی ہے اوران کی پوری زندگی ہمارے سامنے ہے۔ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ یہ بند وبست بھی اسی کی طرف سے ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ نہ سکے کہ “ اے پروردگار! تونے ان(ص) کی سیرت تو کہیں محفوظ ہی نہیں کی جو ہم اسے نمونہ بناتے “ اس کے بعد پھر وہ تقوے میں بھی کامل تھے۔ ان کے منصب کہ منتقاضی تھی۔ لیکن تقویٰ ہے کیا اسکی تفصیل حضور(ص) نے قلب اوپر ہاتھ رکھ کر صرف دو لفظوں میں بیان فرمادی ہے کہ “ تقویٰ یہاں ہوتا ہے “ اس کی وضاحتیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے لیکر جوکہ امام المتقین تھے۔ تمام بزرگانِ دین نے اتنی کی ہیں کہ کسی بھی چھوٹے سے مضمون میں اس کو سمویا نہیں جاسکتا۔ البتہ اس پر سب متفق ہیں کہ ہر کام کرنے سے پہلے ہر مومومن یہ ضرور تول لے کہ میرے اس فعل سے اللہ سبحانہ تعالیٰ ناراض ہوگا یاراضی اگر نارضگی کا شائبہ بھی ہے تو اس کے قریب نہیں جانا چاہیئے لبتہ یہ کرسکتا ہے کہ اس کا متبادل تلاش کرے وہ بھی نہ ملے تو ارادہ ترک کردے یہ ہی تقویٰ ہے۔
پھر گھر میں ہو یاباہر ہر جگہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے۔ جس کے مظاہرے کے لیے جس کو چیز رکھا ہےاور اسے صدقہ قرار دیا ہے۔ وہ ہے“ مسکراہٹً“ جس میں کچھ خرچ نہیں ہوتا۔اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ باہر تو بہت اچھے رہتے ہیں مگر گھر میں داخل ہوتے ہی تیوری چڑھ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے۔ کہ پھر ہر چیز میں خامی ہی خامی نظر آتی ہے۔ جبکہ تجربہ کرکے جو چاہے دیکھ لے کہ وہ مسکراتاہوا گھر میں داخل ہو تو ہر چیز مسکراتی ہوئی نظر آئے گی۔ اسی لیے پہلی شرط ازدواجی زندگی میں حضور(ص) نے یہ رکھی کہ جب شوہر گھر میں داخل ہو تو بیوی اس کی طرف مسکراکر دیکھے۔ مگر تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اس محاورے کے تحت اگر شوہر کے چہرے پر پہلے ہی بارہ بج رہے ہیں تو بیوی کی مسکرانے کی ہمت ہی نہیں پڑے گی؟ بچے علیحدہ سہم جا ئیں گے۔ اگر ماں باپ بھی ساتھ ہیں۔ تو وہ ا لگ پریشان ہونگے کہ خدا خیر کرے میرے بیٹے کو باہر نہ جانے کیامصیبت پیش آئی۔ اس کے برعکس اگر شوہر گھر میں مسکراتا ہوا داخل ہوگا تو بیوی بھی مسکرائے گی اور دونوں کو مسکراتا دیکھ کر گھر مسکرانے لگے گا۔ پھر بات صدقے کے ثواب سے بڑھ کر حج اور عمروں کے ثواب تک پہونچ جائے گی۔ کیونکہ حدیث یہ بھی ہے کہ حضور(ص) نے فرمایا کہ“ ماں یا باپ دونوں میں سے جو کوئی بھی موجود ہو اور اس کی طرف بیٹا مسکراکر دیکھے تو پچاس حج اور عمروں کا ثواب ہے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ اگر ہم دن میں پچاس مرتبہ مسکراکر دیکھیں تو! حضور(ص) نے فریاہاں پچاس مرتبہ ہی کاثواب ملےگا “ دیکھا آپ نے کہ ایک مسکراہٹ جس پر خرچ کچھ نہیں آتا ۔ رحمت کا خزانہ ہے کہ نیکیاں قدم قدم پر ہر مومن سمیٹتے ہوئے چل رہا ہے۔ بیوی کے ساتھ مسکراکر دیکھنے کے علاوہ اتنا اور اضافہ ہے کہ وہ شوہر کی عدم موجود گی میں اس کے ناموس کی حفاظت کرے اور ایسے شخص کو گھر میں نہ آنے دے جو اس کے شوہر کو پسند نہ آئے۔
یہ دراصل حفظ ماتقدم طور پر ہے۔ کہ اللہ تعالٰی اپنے تاکید فرماتا ہے کہ اپنے میں کوئی بدگمانی مت پیدا ہونے دو اس سے بچو! (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY