ہم گزشتہ مضمون میں مسلمانوں کی بے راہ روی پر بات کر رہے تھے۔اور بتا یا تھا کہ جو قوم مسجد میں کار صحیح پارک نہ کر نے کو طرہ امتیاز سمجھتی ہو ۔ وہ اور کسی حکم پر کب عمل کریگی ۔ ممکن بعض مجھ سے سوال کریں کہ بات حقوق العباد کی ہورہی تھی اس میں درمیان میں یہ مسجد میں پارکنگ کہاں سے آگئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی بھی اجتماع میں جانے کی لیے اسلام نے آداب دیئے ہیں۔ اورانکی پابندی بھی اتنی لازمی ہے جنتی کہ اسلام کے دوسرے ارکان کی۔ کیونکہ ا للہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ“ اسلام میں پورے کہ پورے داخل ہوجاؤ “ اس کی کوئی شق بھی کوئی بڑا سے بڑعالم تبدیل یا معطل نہیں کرسکتا؟ سوائے کسی وقتی مجبوری کہ وہ بھی جب دور ہوجائے تو فوراًاس پر عملدرآمد شروع ہوجائے گا؟ جیسے کہ“ پانی ملتے ہی تیمم کی اجازت ختم ہوجاتی ہے“۔اس لیے قاعدے کے مطابق کار پارک کرنا بھی ہر مسلمانکی زمہ داری ہے۔یہاں بھی وقتی ہمسائیگی کا مسئلہ ہے ،بلکہ اور جگہوں سے یہاں زیادہ محتاط ہوناچاہیئے کہ ہر شخص دوسرے ملکوں میں اسلام کا سفیر بھی ہے! اگر کوئی غیرکسی وجہ سے وہاں پہونچ جا ئے تو جو اکثر آتے رہتے ہیں ۔ مثلاً پولس ،ایمبولینس والے اور بہت سے ا سلام کے بارے میں جاننے کی لیے بھی وفود کی صورت میں، مقامی لیڈرا لیکشن کے مواقعوں پر۔اس وقت وہ جب یہ بدنظمی دیکھکر اسلام سے بدظن ہو جائیں تو برائی بدنظمی پیدا کرنے والے کے کھاتے میں لکھی جا ئیگی۔
یہ یہاں کی انتظامیہ کی روادری ہے کہ مسجد اور دوسرے معابد میں وہ مداخلت نہیں کرتے، ورنہ وہ چاہیں تو وہاں بھی جرمانہ کر سکتے ہیں کار اٹھواسکتے ہیں ۔مگر وہ اپنے ختیارات یہاں عام طور پر ستعمال نہیں کرتے ہیں ؟ اس سے غلط فائدہ اٹھانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔یہ بدنظمی زیادہ یوں پیدا ہوتی ہے کہ لوگ وقت کی پابندی نہیں کرتے، جس کااسلام میں سختی سے حکم ہے ، جبکہ وہ تاخیر سے آتے ہیں، اور اس کے بعد جہاں جی چاہا کار کھڑی کی اور بھاگتے ہوئے مسجد میں لوگوں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے چلے گئے۔ جبکہ حضور(ص) کاارشاد گرامی ہے جس کےمطابق نمازیوں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے جانا سخت گناہ ہے۔جبکہ سامنے سے گزرنا جب کوئی نماز پڑھ رہاہو اس سے بڑا گناہ ہے جس کے لیےا رشاد گرامی ہے کہ اگر اس کے وہ مدِ نظر گناہ وہ سنگینی ہو تو وہ زندگی بھر وہاں کھڑا رہنا پسند کریگا مگر نمازی کے سامنے سے نہیں گزریگا؟ جبکہ نمازی کو بھی اجازت ہے کہ وہ گزرنے سے ا سے روک کر اپنے بھا ئی کو گناہ سے بچالے۔ مسجد کے اندر یہ مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حکم یہ ہے کہ جو لوگ پہلے آئیں وہ پہلے پہلی صفیں کو بھریں۔ مگر نمازی اس کی پابندی نہیں کرتے ہیں؟ وہ عموماً دیواروں سے ٹیک لگا کر اور پاؤں پر پاؤں پھیلاکر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اگر وہ اس بات کاتصور شروع میں ہی قائم کرلیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دربار میں ہیں، تو پھر داخل ہوکرا دب سے بیٹھ جائیں؟ تب پہلی صفوں میں جگہ ہی نہیں بچے گی کہ کوئی کود تا ہوااوپر سے جائے
؟ گیابھی تو ناکام ہوگا۔ اگر ایسی جگہ سب ا سلامی قوانین کی پابندی کر رہے ہوں تو فاضل جگہ بچے گی کہاں جوکہ کسی کو ملے گی۔ مجبوراً سے دیر میں آنے کی سزا بھگتنا پڑیگی اور پیچھے واپس جانا پڑیگا۔ اس بد نظمی میں آخر میں امام صاحب بھی لوگوں کو کنفیوژد کرنے کاباعث ہوتے ہیں کہ وہ جمعہ کو خطبہ کے لیے کھڑے ہونے کے موقعہ پر درخواست کرتے ہیں کہ برادر آگے بڑھ آئیں اور بھائیوں کوجگہ دیں۔ جبکہ انہیں لوگوں کو صف بندی کے لیے درخواست کرنا چاہیے تاکہ جولوگ ایک کے بجا ئے تین تین کی جگہ گھیرے ہوئے ہیں ۔وہ ان سے خالی ہو جائے تاکہ مسائل پیدا نہ ہوں؟ جبکہ پہلی صورت میں اگر لوگ ان کے ارشادات عالیہ کی بنا پر آگے بڑھ بھی جائیں توجب نماز خطبہ کے بعد شروع ہوگی تو سب کو سجدے کے لیے جگہ کہاں سے ملیگی ۔ یہ مسئلہ پارکنگ میں بھی ہوتا ہے کہ جوپہلے آتے ہیں وہ بھی زیادہ تر اپنے لنچ کے اوقات میں لنچ کی قربانی دیکر آتے ہیں؟ اورا نہیں جلدی کام پر جانا ہوتا ہے۔ لہذا پارکنگ گیٹ کے پاس کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ پیچھے کی جگہ خالی رہتی ہے وہ بعد میں بھرتی ہے۔ اور دیر میں آنے والے ان بے چاروں کی کاروں کو بلاک کرکے نماز کے بعد گپ شپ کر رہے ہوتے ہیں؟ اگر ہمیں تھوڑا سا بھی دوسروں کا خیال ہو، یا اللہ کی رضا ہی کاخیال ہو تو کوئی بھی وہاں یہ کام نہ کرے ؟ اگر ایمان صرف قرآن پہ ہوتو اور صرف پوری طرح ایمان سورہ بقر کی پہلی آیت پر لے آئیں کہ“ یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں“ اور پھر ساتھ میں سورہ نجم کی یہ آیت پڑھ کر اس پر اور ایمان لے آئیں کہ“ یہ نبی اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جو ان کی طرف ہماری طرف سے وحی کیا جا ئے“ تو۔ مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب آسکتا ہے۔ پھر ساری دنیااسلام کی سچائی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ملے گی۔ کیونکہ دنیا کے نظام میں خلاء موجود ہے ۔ جبکہ مکمل نظام صرف اسلام کے پاس ہے۔ ابھی ہوتا یہ ہے کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں اور اس کی حقانیت کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں کیونکہ جیسے علم بڑھ رہا قرآن کے پوشیدہ اسرار کھلتے جا رہے ہیں ۔ مگر جب وہ ہمیں دیکھتے ہیں تو الٹے پاؤں واپس ہو جاتے ہیں ۔ آج اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ہم مسلمانوں کے کردار ہیں ۔جب تک ہم میں حضور (ص) موجود تھے تو کیونکہ وہ اپنے عمل کی بنا پرمکمل قرآن تھے لوگ ان کا کردار دیکھ کر مسلمان ہو جاتے تھے۔ ان کے بعد ان کے تربیت یافتہ صحابہ کرام (رض) موجود تھے وہ ان کے کردار سے متاثر ہوکر مسلمان ہو جا تے تھے ،پھر یہ ہی سلسلہ بعد میں یہ اولیا ئے کرام (رح) تک چلا، اب وہ سارے ماڈل اسلام میں ناپید ہیں۔ جبکہ خودمسلمانوں کا کردار قبولیت کی راہ میں حائل ہے بات بنے تو بنے کیس؟ باقی آئندہ













