مگر کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔ طارق بٹ

0
118

کٹی یا کٹا کچھ نہیں پتا۔۔۔ بکھرے ہوئے بے ترتیب بال، بڑھی ہوئی داڑھی اور بغل میں ایک ڈائری دبائے وہ صاحب بہت دیر سے مچھلی فروش کی دکان کے سامنے موجود تھے ان کی نظریں دکان کے ماتھے پر آویزاں بورڈ پر جمی ہوئی تھیں دوکان دار بھی اپنے کام کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی ان کی طرف دیکھ لیتا جب کافی دیر ان صاحب نے کوئی آرڈر نہ دیا تو دکاندار سے رہا نہ گیا اور وہ پوچھ بیٹھا حضور خیریت ہے وہ پریشان حال اور پریشان چہرہ صاحب گویا ہوئے ۔ خیریت ہی تو نہیں ہے آپ کے اس بورڈ میں بہت غلطیاں ہیں ۔ دکاندار نے پوچھا جناب بہت غلطیاں کیسے ہو سکتی ہیں اس بورڈ پر تو صرف چھ الفاظ لکھے ہیں ” یہاں تازہ مچھلی فروخت ہوتی ہے ” اب اس میں غلطیاں کہاں سے آ گئیں ۔ وہ صاحب بولے سب سے پہلے تو “یہاں” اضافی ہے اس لئے کہ مچھلی کی موجودگی اور دکان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مچھلی یہیں فروخت ہوتی ہے اب یہاں کے بعد لفظ آتا ہے” تازہ “تو یہ بھی غیر ضروری ہے اس لئے کہ باسی مچھلی کون بے وقوف خریدے گا اب بڑھتے ہیں تین اکٹھے حروف” فروخت ہوتی ہے ” کی جانب تو یہ تینوں حروف بھی اضافت کے زمرے میں آتے ہیں صاف ظاہر ہے آپ نے دکان پر مچھلی اپنے کھانے کے لئے تو رکھی نہیں ہوگی مقصد تو فروخت کرنا ہی ہو گا ۔ دکاندار نے حیرت سے کہا مگر حضرت اس طرح تو صرف لفظ” مچھلی” باقی بچتا ہے کیا باقی سارے الفاظ کاٹ دوں وہ صاحب بولے باقی کے ساتھ مچھلی بھی کاٹ دو اس لئے کہ اس کی بو کافی دور سے پکار پکار کے کہہ رہی ہوتی ہے کہ میں یہاں ہوں ۔ میں یہاں ہوں ۔
مچھلی کی بو تو سب کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہی ہے مگر مچھلی کے میسر آنے پر یہ بو اس کے ذائقے میں دب جاتی ہے آجکل وطن عزیز میں سازش کی بو مسلم لیگ نواز کی قیادت کو کسی پل چین نہیں لینے دے رہی ۔ نواز شریف تو جب سے نااہل ہوئے مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں ۔اس راگ میں ہمنوا کے طور پر مریم نواز شریف، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کے علاوہ بھی کافی سارے شامل ہیں مگر اب تو وہ بھی جنہیں بحثیت اسپیکر قومی اسمبلی غیر جانبدار ہونا چاہئے انہیں بھی اسلام آباد سے سازش کی بو آنے لگی ہے ۔ فیض آباد والے دھرنے کا آغاز اور اختتام اپنے پیچھے بہت سی کہانیاں چھوڑ گیا اس دھرنے سے حکومت کے ایوانوں میں آنے والے زلزلے کے آفٹر شاکس حکومت وقت تا حال محسوس کر رہی ہے ظاہر ہے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس نے حکمرانوں پر بہت کچھ عیاں کر دیا ہو گا مگر کھل کر بات کرنے کو کوئی بھی حکومتی عہدیدار تیار نہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جہاں سے حکمران جماعت کو سازش کی بو آ رہی ہے اس طرف کھل کر اشارہ کرتے ہوئے بھی ان کے پر جلتے ہیں ۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سینٹ کے کل رکنی ان کیمرہ اجلاس میں پاک افواج کی پوزیشن واضح کر چکے اور کسی بھی ماورائے آئین اختیار کی خواہش کو سختی کے ساتھ رد کر چکے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار فیصلوں کے بعد صفائیاں پیش کر چکے جنہیں ظاہر ہے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا اس لئے کہ یہ اں کے اعلی رتبہ کے خلاف تھا اور اس سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہےاگر یہ وضاحت نہ آتی تو بہت بہتر ہوتا۔
حکومت تو حکومت خود اپوزیشن بھی حالات کی پیچیدگی کا صحیح معنوں میں ادراک نہیں کر پا رہی حکومت کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے والی اپوزیشن ایک طرف تو جمہوریت کی مضبوطی کیلئے بلند و بانگ دعوے کرتی دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب اشاروں پر ناچنے والی پتلیوں کے گرو علامہ طاہر القادری کے آستانے پر ماتھا ٹیکنے میں بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہے اس سلسلے میں سب سے زیادہ مشکوک کردار جمہوریت کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دینے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ کرتا دھرتا آصف زرداری کا ہے جو جمہوری روایات کی سرا سر نفی کرتے ہوئے نواز شریف کے لئے اپنے دروازے بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں بجا کہ اس سلسلے کی ابتدا نواز شریف کی طرف سے ہوئی تھی کہ انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی تائید نہیں کی تھی بلکہ اس وقت انہوں نے اپنے ان مالیوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جن کے گملوں میں ان کی آبیاری ہوئی تھی مگر زرداری صاحب کو انہیں اتنا مارجن تو ضرور دینا چاہیے کہ حکومت میں رہتے ہوئے بندے کی بہت ساری مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔
یہ بھی درست کہ میاں نواز شریف نے اپنی اصل طاقت کے گڑھ پارلیمان کو وہ اہمیت نہ دی جس کا وقت اور حالات تقاضا کرتے تھے مگر اس ساری صورتحال میں عمران خان کو بھی برابر کا قصور وار سمجھا جائے گا جنہوں نے نان اشوز کو اشوز بنا کر کبھی دھاندلی کے نام پر اور کبھی پاناما کے نام پر حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا ۔ دوسری جانب اگر نواز شریف اس وقت جب پاناما کے اژدھا نے منہ کھولا تھا ڈنگ ٹپاو پالیسی اختیار نہ کرتے اور ٹرمز آف ریفرنس کے معاملے کو خواہ مخواہ طول نہ دیتے اور پیپلز پارٹی کی بات مان کر اس معاملے کو پارلیمان میں طے کر لیتے تو آج نہ انہیں اور نہ ہی جہانگیر ترین کو یہ دن دیکھنا پڑتا۔
عمران خان کے کندھے پر بندوق رکھ کر شہبازشریف کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف شیخ رشید احمد نے اپنی بساط کے مطابق بہت کوشش کی مگر میرے عزیز ہم وطنوں کو شہباز شریف کی مفاہمت پر مبنی سیاست کچھ اس انداز سے بھا رہی ہے کہ حدیبیہ کی پٹاری دوبارہ سے نہ کھل سکی اور یوں بڑے میاں کو پرے کرو اور چھوٹے میاں کو گلے لگاو والا معاملہ بنتا دکھائی دیتا ہے اب یہ چھوٹے میاں پر منحصر ہے کہ وہ کب تک یہ معتدل رویہ اپنائے رکھتے ہیں ان کی مجبوری یہ ہے کہ بڑے بھائی کے سامنے سر اٹھانے کی نہ تو ان میں ہمت ہے اور نہ ہی ان کی تربیت ایسی ہوئی ہے پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ وہ یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ووٹ بڑے بھائی کا ہے وہ جتنی مرضی شہباز سپیڈ دکھا لیں نواز شریف اگر الیکشن کمپین نہیں چلائیں گے تو ووٹ حاصل کرنا ناممکن ہے ۔
اب آخر میں یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ کیا واقعی الیکشن اپنے وقت پر ہو جاہیں گے اس لئے کہ اب تو سینٹ نے بھی نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم منظور کر لی ہے جس میں سوائے مسلم لیگ ق کے ایک ووٹ کے اور کوئی مخالفت سامنے نہیں آئی توقع کی جا رہی ہے کہ اب انتخابات وقت پر ہو جاہیں گے مگر یہ بات یقینی ہوتی تو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو گریٹر پلان یا بڑے منصوبے کے خواب آنا کیوں شروع ہو جاتے ۔ عمران خان بار بار قبل از وقت انتخابات کا راگ کیوں الاپتے جبکہ ان کی جماعت بروقت انتخابات کی تیاریوں کے لئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں ووٹ بھی دے رہی ہے آخر کچھ تو ہونے والا ہے مگر کیا اس کی نشاندہی کوئی بھی نہیں کر رہا خود میری صحافی برادری بھی روزانہ ایک نئی تھیوری اور نیا منصوبہ لے کر ہماری راتوں کی نیند اڑانے سر شام ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر براجمان ہو جاتی ہے مگر اندر کی بات وہ بھی نہیں کرتے آئیں بائیں شائیں کر کے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں شیخ رشید ہیں کہ تاریخوں پہ تاریخیں دیئے چلے جاتے ہیں حکومت آج گئی یا کل مگر یہ بتانے کو تیار وہ بھی نہیں کہ کون سا قانونی اور آئینی طریقہ اختیار کیا جائے گا موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تو اسمبلی توڑنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے مارشل لاء کا بھی کوئی امکان نہیں تو پھر حکومت کی وقت سے پہلے رخصتی کیسے ممکن ہے متفق سارے ہیں کہ جلد ہی کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے مگر کیا یہ کوئی نہیں بتاتا بالکل ویسے ہی جیسے ایک زمیندار کی بھینس جب بچہ جننے پر آئی تو ہر آنے جانے والا پوچھتا ہاں خان جی ایس واری کی ہوئے گا کٹا یا کٹی(اس مرتبہ کیا ہو گا کٹی یا کٹا) تو خان جواب دیتا ۔ کٹی یا کٹے دا تے نہیں پتا پر کج نہ کج ضرور ہوئے گا ( کٹی یا کٹے کا تو نہیں معلوم مگر کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا)۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY