وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کی رحم کی اپیل پر غور کو ملکی مفاد اور سیکیورٹی سے جوڑ دیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ ’را ایجنٹ‘ کو قونصلر رسائی بھی دے دی جائے گی۔

جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی رحم کی اپیل پر صرف رحم سمجھ کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، اس حوالے سے فیصلہ ملکی مفاد اور سلامتی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ، انڈین نیوی کےحاضر سروس کمانڈر اور جاسوس کلبھوشن کے معاملے میں دیکھنا ہوگا کہ اس کی وجہ سے ہمارے لوگ مارے گئے ہیں۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ کلبھوشن سے اہلخانہ کو ملنے اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی، اگر بھارت ہماری جگہ ہوتا تو وہ ہمیں یہ رعایت نہیں دیتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی جے میں کلبھوشن کا کیس چل رہا ہے، ہمیں ملاقات کرانےکا مشورہ بھی دیا گیا۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی بھی دی جائےگی، نہیں چاہتے کہ ملاقات کے معاملے میں ہمارے کیس میں کوئی کمزوری آئے۔

پاکستان میں قید بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن جادیو سے اہلخانہ کی ملاقات کل ہوگی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ ملاقات میں ان کے ہمراہ ہوں گے۔

پاکستان نے ملاقات کی تیاریاں مکمل کرلیں ہیں، بھارت نے بھی کلبھوشن کے اہلخانہ کی اسلام آباد آمد کی تصدیق کردی ہے جبکہ ملاقات دفتر خارجہ میں کرائی جائے گی۔

دفتر خارجہ کے مطابق کلبھوشن جادیو کی اہلیہ اور والدہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے ہمراہ کمرشل فلائٹ سے پیر کی صبح اسلام آباد پہنچیں گی اور ملاقات کے بعد 25 دسمبر کو ہی واپس روانہ ہو جائیں گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY