ساتویں قسط
میجر عقیل اس دن یونیفارم میں تھے اس لیے ان کے مرتبے سے واقف تھے لیکن یوسف کی اہلیت سے سب ناواقف تھے آج وہ on duty تھا اس لیے یونیفارم میں تھا آرمی کے یونیفارم نے اس کی شخصیت سے کو چار چاند لگا دیئے انوشے نے اس کی طرف سرسری سی نظر ڈالی اور پھر نظریں جھکا لیں وہ مسلسل سوسف کیتنظروں کے حصار میں تھی تھوڑی شرمندہ بھی ہو رہی تھی کہ اس کا یہ رویہ کل کی گفتگو کی وجہ سے تو ایسا نہیں لیکن وہ بولا کچھ
اس کی name plate سے اسکا نام پڑھتے ہوئے سویرا گویا ہوئی کیپٹن یوسف اور میجر صاحب آپ لوگ ناشتہ کریں گے وہ بولا نہیں ہم لوگ ناشتہ کر کے آئے ہیں میجر عقیل نے چائے کی پیشکش قبول کر لی سویرا کے اشارے سے انوشے نے چائے تو سرو کر دی مگر ناک سکیٹر کر سویرا کو گھورنے لگی وہ اس کی اس حرکت کی وجہ سے ڈبے ہونٹوں سے مسکرایگفتگو کے دوران اس نے بتیس کہ یہاں فوج کے زیرِ انتظام اسکیٹنگ کےتین روزہ مقابلے کل سے شروع ہو رہے ہیں
اسی سلسلے میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ادھر کا رخ ہوا میجر عقیل نے ان لوگوں کو بھی دعوت دی کہ اسکیٹنگ کے مقابلوں سے آپ لوگ بہت محظوظ ہوں گے سویرا فوراً بول پڑی کہ ہماری انوشے بھی بہت اچھی اسکیٹنر ہے میجر عقیل اور کیپٹن یوسف کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی بہت حیران ہوئے یہ آنے کیلئے اک نیا انکشاف تھا پھر تو آپ لوگ ضرور آئیےگا یوسف نے زیرِلب مسکراتے ہوئے کہا
جب سر شکیل مادام فرح کے ساتھ وہ دونوں ان کو باہر تک چھوڑ کر واپس مڑیں تو انوشے پیچھے تھی وہ آہستہ آواز میں انوشے کو مخاطب کرکے گویا ہوا مس انوشے میں ایک
solider ہوں اور solider محافظ ہوتا ہے لٹیرا نہیں انوشے کو اسکی بات کی سمجھ آگئی کہ وہ کل کی بات کا تزکرہ کر رہا تھا وہ بغیر کچھ کہے اسکی طرف متوجہ ہوئی اس کی آنکھوں کی گہرائی یوسف کو اس کی طرف کیھنچ رہی تھی
وہ بچوں کی طرح مادام فرح سے ضد کرنے لگی کہ ہم ضرور جائیں گے سر عمر بولے کیوں نہیں بیٹا ہم ضرور جائیں گے اور ہماری بیٹی کتنی اچھی اسکیٹنر ہے یہ بھی تو دیکھنا ہے وہ بہت خوش ہوئی
اگلی صبح وہ ناشتے سے فراغت کے بعداسکیٹنگ کا میلہ دیکھنے کے لیے تیار تھے انوشے بیلو جینز کھلے بالوں ملٹی سٹالر لئے بہت خوب صورت لگ رہی تھی اس نے پاؤں میں سفید جاگرز پہنے ہوئے تھے آج انکا مسلم جبہ کا تیسرا اور ٹرپ کا چوتھا دن تھا مالم جبہ سوات کا بلند ترین مقام ہے اس کا تمام راستہ صرف پہاڑوں ہی پہاڑوں میں سے ہے پہاڑوں پر موجود درختوں کی قطاریں بڑا دلفریب منظر پیش کر رہیں تھیں
چلتے چلتے کہیں کہیں رک کر سب لوگوں نےان خوبصورت مناظر کو کیمرے میں مقید کیا وہ اسکیٹنگ کے مقام پر پہنچے تو میجر عقیل اپنی پوری ٹیم کے ساتھ وہاں موجود تھے اس تین روزہ فیسٹیول میں پیرا گلائیڈنگ ہینگ گلائیڈنگ ٹوبع گینگ اور ایرو ماڈلنگ پر دیگر مقابلے برف پر رنگ بکھیر رہے تھے
وہاں وہ لوگ تین گھنٹے ان مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے رہے یوسف اسکیٹنگ کا ماہر تھا وہ اتنی مہارت سے اسکیٹنگ کر رہا تھا کب اسکیٹنگ کرتا ہوا کیپٹن یوسف اس کے دل میں گھر کر گیا اسے خبر ہی نہ ہوئی اس کی نظر اک لمہے کے لیے بھی اس سے نہ ہٹیں
دنیا کے مختلف حصوں سے سیاح آئے ہوئے تھے سوات میں جنگ کے دوران سیاحت کا کاروبار تباہ ہو چکا تھا ہوٹل بند ہو چکے تھے مگر پاک فوج کے کنٹرول سنبھالنے پرایک خوشگوار تبدیلی آئی تھی میجر عقیل سر عمر کو بتا رہے تھے یوسف چونکہ ان سے کچھ حد تک گھل مل گیا تھا ورنہ یوسف جیسی با رعب شخصیت سے بات کرنا کسی کو بھی آسان نہیں لگتا تھا
مس انوشے سنا ہے آپ بہت اچھی اسکیٹنر ہیں آئیے میرے ساتھ اسکیٹنگ کریں اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا وہ پھٹی آنکھوں کے ساتھ اسکی طرف دیکھنے لگی پھر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا اس و اسکیٹنگ کرتا دیکھ کر سب بہت خوش ہوئے
ان دونوں کے درمیان کافی دیر بات ہوتی رہی سعد پلیز اس موضوع پر اب مذید کوئی بات نہیں ہو گی انوشے اللّہ نہ کرے کبھی آپ کو کوئی محبت میں ٹھکرائے اور آپ کو کبھی اس تکلیف سے گزرنا پڑے جو اس وقت مجھ پر گزری ہے وہ خوف ذدہ سی ہو گئی بد دعا دے رہے ہو وہ بولی نہیں انوشے میں آپ کو بد دعا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا
جن سے محبت کی جاتی ہے ان کو بددعا ئیں نہیں جاتیں انکے کو ما نرکھے جاتے ہیں اللّہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے وہ اس سے پہلے محبت کی قائل نہیں تھی مگر سعد کی باتوں سے وہ اس جذبے سے آشنا ضرور ہو گئی تھی واپسی کے تمام راستے وہ خاموش رہی
انوشے کیا بات ہے تمہاری طعبیت تو ٹھیک ہے بیڈ پر لیٹتے ہوئے سویرا نے اس سے پوچھا ایک کمرے میں پانچ بیڈ لگنے کی وجہ سے اس نے اپنا بیڈ سویرا کے ساتھ شیئر کیا تھا ہاں میں ٹھیک ہوں اتنے عرصے بعد اسکیٹنگ کرنے کی وجہ سے شائد تھک گئی ہوں اس نے جواب دیا سویرا اس کے جواب سے مطمئن تو نہ ہوئی مگر خاموش رہی اس کی بات سن کر
تین دن باقی تھے انکے ٹرپ کے وہ اپنا ذیادہ وقت اسکیٹنگ میں گزارانا چاہتی تھی یا پھر اسے یوسف کی صحبت میں رہنا اچھا لگنے لگا تھا اسے اس بات کا ابھی احساس نہیں ہوا تھا یا وہ کرنا نہیں چاہتی تھی اس نے سر شکیل سے التجا کی کہ وہ مقابلے میں حصہ لینا چاہتی ہے
اس کے معصومانہ انداز نے انہیں ہاں کرنے پر مجبور کر دیا مگر کچھ لوگ ترائی میں اترنا چاہتے تھے دو گروپ بنائے گئے آدھے لوگ سر عمر اور مادام روبینہ کی قیادت میں ترائی میں اترنے کے لیے تیار تھے اور باقی سرشکیل اور مادام فرح کی ساتھ سکی آنگ کے مقام کی جانب روانہ ہوگئے وہ لوگ ایک بجے کے قریب ادھر پہنچے مقابلہ جات شروع ہو چکے تھے
یوسف نے ان کو دیکھا تو چلا آیا انکی طرف جی کیپٹن کیا حال احوال ہیں آپ کے اور کیسا چل رہا ہے میلہ آپ کی قیادت میں سر شکیل کے پوچھنے پر وہ بتانے لگا کہ آج کے مقابلہ جات شروع ہو چکے ہیں اور سب کھلاڑی بہت اچھا کھیل رہے ہیں
آہ ہو ہم بھی اپنا ایک بچہ آج حصہ لینے کے لیے لائے تھے وہ انوشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے کوئی بات نہیں آج پریکٹس کر لیں کل جلدی آ کر حصہ لے لیں کیوں مس انوشے میں نے ٹیھک کہا وہ انوشے سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا اس سے پہلے وہ کچھ بولتی سویرا فورا” بول اٹھی کیوں نہیں..
سر شکیل مسکرا دئیے یوسف نے اسے اسکیٹنگ کا سامان مہیا کیا وہ یوسف کے ساتھ اسکیٹنگ کرنے لگی وہ اس کو بیلنس رکھنا سکھا رہا تھا ذیادہ عرصہ اس کھیل سے دور رہنے کی وجہ سے وہ توازں نہیں رکھ پا رہی تھی مگر یوسف نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اس کو توازن رکھنے میں مدد کی کچھ دیر بعد اسکا توازن قائم ہو گیا اس نے انوشے کا ہاتھ چھوڑا تا کہ وہ خود سہارے کے بغیر کوشش کرے تھوڑی دیر اسکیٹنگ کرنے کے بعد اس کا پاؤں پھسل گیا
اس نے ہاتھ پر چوٹ آ گئی وہ شارع قطار رونے لگی یوسف اسکے قریب آکر بیٹھ گیا اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بہت نرم اور محبت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا کیا بہت درد ہو رہا وہ جواب دئیے بغیر اپنی ہتیھلی کو دیکھتی رہی جس پر ہلکی سی رگڑ لگی تھی اور خون ابھر آیا تھا آنسو اسکی پلکوں سے مسلسل گرتے رہے
آپ مت روئی چوٹ ذیادہ گہری نہیں ہے میں مرہم پٹی لے کر آتا ہوں وہ اسے کسے بتاتی کہ وہ اس معولی چوٹ پر نہیں رو رہی اسے تو سعد کی باتیں یاد آ رہیں تھیں سوچ سوچ کر رو رہی تھی کہ کیا واقعی اسے یوسف سے محبت ہو گئی تھی اور اگر وہ کسی اور کا ہوا تو اسے معلوم بھی تو نہیں تھا اس کے بارے میں کچھ
اس نے کھانا بھی ٹیھک طریقے سے نہیں کھایا کھانے کے بعد وہ بستر پر لیٹ گئی اسکے کانوں میں یوسف کا جملہ گونج رہا تھا کہ اچھی اور بہادر لڑکیاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر رویا نہیں کرتیں
وہ بہادر تھی لیکن اچھی لڑکیاں کیسی ہوتیں ہیں وہ یہ سوچتے سوچتے سو گئی صبح ہوتے ہوئے ہی مادام فری نے انکشاف کیا کہ وہ کل ما لم جبہ کو الوداع کہہ دیں گے انوشے کے سر پر جیسے دھماکہ ہوا یوسف سے ملنے کہ بعد جیسے وہ سب کچھ بھول گئی تھی
وہ یہ بھی بھول گئی تھی کہ اس وہ یہاں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئی اس نے واپس بھی جانا ہے یوسف سے دوری کے احساس سے ہی اس کی سانس گھٹنے لگی وہ اس کو چھوڑ کر کیسے جائے گی وہ ابھی اسی کشمکش میں تھی کہ سویرا نے کہا مادام ہم اک دن پہلے کیوں جائیں گے
مادام نے بتایا کہ وہ ایک دن جہاں آباد میں گذاریں گے جیسے کہ طے ہوا تھا اک دن اور یا کچھ دن اور دن آخر ایک دن واپس تو جانا ہے سوہرا اسکی اداسی دیکھ رہی تھی وہ دیکھ رہی تھی کہ وہ خود سے لڑ رہی ہے اس نے اس سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنےپآپ کو خود سمنبھالے اگر اس کی یہ کیفیت یک طرفہ ہے تو اپنے آپ سے خود لڑنا ہو گا وہ اس بارے میں بات کر کے انوشےکا ضبط ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتی تھی
وہ پہاڑوں سے اتر کر ندی کے کنارے آبیٹھی ادھر یوسف اسکا انتظار کر رہا تھا وہ کل آنے کا وعدہ کر کہ گئی تھی جب وہ کافی دیر تک نہ آئی تو وہ ان کے ہوٹل کی طرف آگیا سویرا نے اسے بتایا کہ وہ ندی کے کنارے بیٹھی ہے
وہ کہتی تھی کہ اسے کبھی محبت نہیں ہو سکتی آج وہ سوچ رہی تھی کہ وہ اپنے بارے میں کتنی غلط تھی یوسف اس کے قریب آکر بیٹھ گیا اس کے سیاہ کمر تک آتے بل اس کے خوبصورت چہرے پر تیز ہوا کی وجہ سےایسے بکھر رہے تھے جیسے سیاہ رات چاند کو اپنی آؤٹ میں لئے اسکی حفاظت کرتی ہے اسلام علیکم وہ اس سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا
جب انوشے نے اپنی آنکھیں جن میں شائد رونے کی وجہ سے سرخی اتر آئی تھی اٹھا کر یوسف کی طرف دیکھا تو وہ اسکی حالت گبھرا گیا انوشے کیا ہوا اس نے بے اختیار انوشے کا چہرہ اپنےہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا کیا ہوا سب ٹھیک ہے
نہیں کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں شائد نیند پوری نہیں ہو پائی وہ اپنی ذات کا بھرم قائم رکھتے ہو ئے بولی اس نے کبھی کسی کے آگے جھکنا نہیں سیکھا تھا اگر یوسف نے انکار کر دیا یا وہ کسی سے منسوب ہوا تو وہ اپنی ذات کی کرچیاں کیسے سمیٹے گی
سعد کی بات یاد آگئی محبت میں ٹھکرائے جانے کا دکھ بڑا اذیت ناک ہوتا ہے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چپ رہی اس کا روں روں یوسف کی محبت کی گواہی دے رہا تھا وہ انوشے کی آنکھوں میں اپنے لیے چھپی محبت دیکھ سکتا تھا اس کی معصومیت اور صاف گوئی یوسف کے دل میں گھر کر گئی تھی
یوسف کیا بدعا لگ جاتی ہے یوسف حیرت سے اسکی طرف دیکھنے لگا دکھی دل کی آہ عرش ہلہ دیتی ہے لیکن آپ یہ سب کیوں پوچھ رہی ہیں بس ایسے ہی وہ بولی اگر آپ نے کسی کا دل جان بوجھ کر نہیں دکھایا یا آپ نے کسی کے ساتھ جان بوجھ کر نہیں ذیادتی نہیں کی تو آپ کو اپنا ایمان مضبوط رکھنا چاہیے اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی وجہ سے کیس کا دل دکھا ہے تو آپ اس سے جا کر معافی مانگ لینی چاہیے اس طرح آپ کا تعلق اللّہ سے مضبوط ہو جائے گا اور آپ کو سکون مل جائے گا اس سے پہلے کوئی آپ کی اللّہ سے شکایت کر دے
وہ اسے بڑے غور سے سن رہی تھی وہ اسوقت اسے بلکل آنا بی لگ رہا تھا اس کی بال بار بار اسکے چہرے کا طواف کر رہے تھے اس نے یوسف کے دئیے ہوئے رومال سے اپنے بال سمیٹے
ایک بات پوچھوں کیپٹن گر آپ برا نہ مانیں اس نے پوچھا وہ مسکر دیا جی مادام بھلا آپ کو اجازت کی ضرورت ہے وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی وہ اسکی اس بے تکلفی کو کیا معنی دیتی کیا آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہے وہ زور دار قہقہہ لگا کر ہنسا محبت….
محبت نہیں مادام عشق کیا ہے اور بے انتہا کیا ہے میرے آرمی میں آنے کی وجہ بھی میرا یہی عشق ہے اس کے پاؤں سے جیسے زمین نکل گئی اسے لگا کہ سعد کی ان کہی بددعائیں اسے لگ گئیں وہ یوسف کی طرف ایسے دیکھنے لگی جیسے کوئی چور اس کا سب کچھ چھین کر اسے تپتے صحرا میں تنہا چھوڑ گیا ہو وہ ابھی تک ہنس رہا تھا جب وہ انوشے کی طرف متوجہ ہوا تو وہ خود کو سمنبھال چکی تھی بہادر جو تھی
ہم کل واپس جا رہے ہیں یوسف وہ بولی اس نے چونک کر انوشے کی طرف دیکھا
اتنی جلدی. جلدی کب چھ روز کا قیام تھا ختم ہو گیا جانا تو ہے وقت اتنی جلدی گزر گیا پتہ نہیں چلا اسکیٹنگ کا وعدہ کیا تھا آئیں نہی تو لینے آ گیا آج میری پارٹنر نہیں بنو گی
یوسف نے اسکا ہاتھ پکڑا اٹھو دیر ہو رہی ہے مقابلہ جات شروع ہونے والے ہیں اور میں کسی کو بتا کر بھی نہیں آئی
اس نے سوالیہ نظروں سے یوسف کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ کبھی ہاتھ چھوڑ تو نہیں دو گے وہ اس کی نظروں کا سامنا نہیں کر پایا اس نے فوراً انوشے کا ہاتھ چھوڑ دیا وہ تو یہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے تھامنا چاہتی تھی اور یوسف آپ نے آغاز میں ہی دھوپ میں جلنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا
وہ آٹھ کر اسکے ساتھ چلنے کے لیے کھڑی ہو گئی یوسف کسی کو اپنے انتظار میں مقید نہیں کرنا چاہتا تھا وہ فنا کے سفر پر روانہ تھا اسے اپنے وطن کی مٹی سے عشق تھا وہ اپنے وطن کے لیے مر مٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا تھا ایسے میں وہ کسی کو عمر بھر کا دکھ دے کر جانا چاہتا تھا
وہ دونوں سکی آنگ کے مقام کی طرف چل دئیے وہ انوشے کو آنے والے وقت کے پچھتاوے سے بچانے کے لئے سمجھانے کی غرض سے بولا انوشے ایک بات یاد رکھنا انسان کسی بھی رشتے سے بچھڑ کر ذندہ رہ سکتا ہے انسان کی اصل موت اللّہ سے دوری ہے انسان اللّہ سے دور رہ کر کبھی سکون کی زندگی جی سکتا ہے اور نہ سکون کی موت مر سکتا ہے
انوشے کو بلکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ یہ سب اسے کیوں کہہ رہا ہے. وہ جانتا تھا کہ انوشے کے دل میں اس کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے وہ نہیں چاہتا تھا کہ انوشے ٹوٹے وہ چاہتا تھا کہ اس کا تعلق اللّہ سے مضبوط ہو جائے تو وہ ہر قسم کے خوف سے محفوظ ہو جائے تا کہ کسی کو کھونے کا خوف اسکے دل سے نکل جائے
وہ سر جھکائے یوسف کی باتیں سن رہی تھی وہ سکی آنگ پہنچے آج اس کا تقریباً سارا دن یوسف کے ساتھ گذارا آج کا دن اسکی زندگی کا خوبصورت ترین دن تھا اچانک اسے یاد آیا کہ وہ کسی کو بتا کر نہیں آئی پھر یوسف نے اسے بتایا کہ وہ سویرا کو بتا چکا ہے کہ تم میرے ساتھ ہو
چلوآؤ تمہیں چائے پلاتا ہوں ڈھابے کی چائے پی ہے کبھی وہ اسے قریبی ڈھاب پر لے گیا اسکیٹنگ کے مقابلوں میں یہاں ڈھانے والوں کا کاروبار چمک جاتا ہے وہ طائی پی رہی تھی اس نے اس دوران ایک دفع بھی یوسف کی طرف نہیں دیکھا یوسف سوچ رہا تھا کہ وہ کیسے اسے الوداع کہے گا وہ بھی تو اس کے دل میں اتر گئی تھی وہ اسے کبھی نہیں بتائے گا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور انکے درمیاں کوئی قول قرار بھی تو نہیں تھا اور انوشے نے اس سے کبھی اس بارے میں کھل کر بات بھی تو نہیں کی تھی
آپ نے کبھی بتایا نہیں کہ آپ کہاں سے ہیں اسکے پوچھنے پر اپنی سوچوں کے حصار سے نکلی اسلام آباد میں واقعی وہ خوشی سے بولا پھر تو ہم ہمسائے ہوئے چلیں کبھی موقع ملا تو ملاقات ہو گی
اب مجھے چلنا چاہیے کافی دیر ہو گئی ہے وہ اسے چھوڑنے کے لیے اس کے ساتھ گیا وہ اس کے چہرے پر اضطراب اور بے چینی دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا کہ انوشے اسے بتا نہیں پا رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں چھپی محبت دیکھ چکا تھا ورنہ کیسے ایک لڑکی جو اپنے ساتھیوں میں بھی اتنی بے تکلف نہ تھی تو اک اجنبی کے قریب آ گئی
وہ آئی سب پیکنگ میں مصروف تھے صبح نو بجے سنیں مسلم جبہ سے نکلنا تھا وہ یوسف سے ہمیشہ کے لیے دور جا رہی تھی وہ دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے
یوسف کسی اور کا ہے یہ سب سوالات اسے پریشان کر رہے تھے سویرا نے اسے بغور دیکھا وہ اس کے پاس آئی انوشے سب ٹھیک ہے کیا ہوا تم کچھ پریشان ہو کوئی جن تو نہیں مالم جبہ کے پہاڑوں سے میری پری پر عاشق ہو گیا بکواس مت کرو بس تھوڑی تھکاوٹ ہے یوسف کو بتایا کہ ہم جا رہے ہیں کیا وہ کل آئے گا پتہ نہیں اور وہ کیوں آئے گا اس نے بے پرواہی سے شانے اچکائے
رات کو ساری تیاری مکمل ہو گئی صبح ناشتے کے بعد ان کی ملم جبہ سے روانگی تھی وہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکا انتظار کر رہی تھی اسے یقین تھا کہ وہ اسے الوداع کہنے تو ضرور آئے گا انکی اتنی جان پہچان تو ہو گئی تھی لیکن وہ نہیں آیا.
پھر وہ خود کو سمجھانے لگی کہ وہ کیوں آتا اس نے آنے کا کوئی وعدہ تو نہیں کیا تھا وہ کس رشتے سے آئے گا وہ برف کے پہاڑوں میں اپنا دل چھوڑے جارہی تھی وہ ان ظالم پہاڑوں سے خالی ہاتھ جا رہی تھی نہ کوئی وعدہ نہ کوئی انتظار….
یوسف کو بھی کل روانہ ہونا تھا وہ اپنی ٹیم کے ساتھ اسکیٹنگ کے مقابلہ جات کے لئے آیا تھا ناشتے سے جلدی جلدی فارغ ہونے کے بعد وہ جلدی سے انوشے سے ملنے کے لیے اس کے ہوٹل کی طرف بھاگا کچھ نہ سہی اک دوست تو بن چکی تھی
جب وہ ادھر پہچا تو معلوم ہوا کہ وہ جا چکی ہے وہ بوجھل قدموں کے ساتھ برف پر چلتا ہوا واپس مڑا اتنی شدید سردی کے باوجود اس کا وجود حل رہا تھا وہ اپنے ملک کے لیے کئی دفعہ کئ مقامات پر لڑا تھا مگر اس نے کبھی ہار نہیں مانی اور ہمیشہ کامیاب لوٹا نہ کبھی تھکا اور نہ ہی رکا
مگر آج وہ خو کو بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا تھاآج وہ رک گیا تھا اک مقام پر اک چہرے پر جس سے وہ اپنی مرضی سے ہمیشہ کے لئے الگ ہوا تھا…….
نہ کوئی قول نہ انتظار….
وہ یوں چلا گیا چھوڑ کر…
جیسےپہاڑوں کی برف پگھلنے سے…..
بدل جاتے ہیں سارے منظر……
واپسی پر وہ جہاں آباد کی سیر کے لیے رکے سب نے پہاڑی پر کھدے ہوئے مجسموں کے ساتھ یادگار تصاویر بناتے رہے مگر انوشے ان سب سے بے پرواہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی انوشے میری جان کیا بات ہے تمہں کیا پریشانی ہے مجھے بتاؤ تمہاری اداس صورت دیکھ کر میرا دل بیٹھا جا رہا ہے سویرا اس کے پاس آ کر کہنے لگی کچھ نہیں ہوا مجھے اس نے سویرا کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا
بس مالم جبہ کی خوبصورتی کے سحر نے جکڑ لیا وہ کھلکھلا کر مسکراتے ہوئے اسے ساتھ لئے گاڑی کی طرف چل دی شام چھ بجے وہ جہاں آباد سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئےوہ تقریباً رات گیارہ بجے اسلام آباد پہنچے جلال صاحب باقی لوگوں کی طرح اپنی بیٹی کو لینے یونیورسٹی پہنچ چکے تھے سویرا کا بھائی اسے لینے آیا تھا انوشے باپ کو دیکھتے ہی ان سے لپٹ گئی اس کی آنکھوں سے شارع قطار آنسو نکلنے لگے وہ سمجھے کہ وہ اتنے دن بعد ملی ہے اس لئے رو رہی ہے وہ گاڑی میں بیٹھی اور چلی گئی
حماد بھی سویراکو لے کر گھر کی طوف نکل پڑا. جلال صاحب انوشے کو لے کر گھر پہنچے تو انا بی جاگ رہی تھیں وہ انوشے کا انتظار کر رہی تھیں اتنے دن بعد وہ اپنی گڑیا سے مل رہیں تھیں نیند کیسے آ جاتی.
آنا بی کے گلے لگی انھوں نے اسے بہت پیار کیا. میری بیٹی تھک گئی ہو گی تازہ دم ہو جاؤ میں کھانا لگاتی ہوں نہیں آنا بی کھانا کھایا تھا بس آپ کے ہاتھ کی کافی پیوں گی بہت مس کی آپ کے ہاتھ کی کافی بس کافی اور مجھے وہ اس کی بات پر روٹھے ہوئے انداز میں بولیں
وہ انکے سوال پر مسکرا کر بولی آپ لوگ تو میری دنیا ہیں چلو میں کافی لاتی ہوں آنا بی باورچی خانے کی جانب چلی گئیں بیٹا آپ کافی پیو اور آرام کرو صبح ملاقات ہوتی ہے جلال صاحب ی کہتے ہوئے کمرے میں چلےگئےاور وہبھی اپنے کمرے میں چلی گئی
سویرا بتاؤ نا کیسا رہو ٹرپ مالم جبہ اتنا ہی خوبصورت ہے جتنا کتابوں میں اور ٹیلی ویژن پر لگتا ہے تم لوگ کدھر کدھر گئے کیا کیا دیکھا اتنے سارے سوال ایک ہی سانس میں اسے آرام کرنے دو تھکی ہوئی آئی ہے ثانیہ کے سوالوں کی بوچھاڑ پر امی نے اسے ڈانٹ پلا دی
امی مت ڈانٹیں اسے سویرا نے اپنی امی سے کہا تو اور کیا یہ نہیں کہ بہن تھکی ہوئی آئی ہے اسے چائے یا کھانے کا پوچھ لیں اور آرام کرنے دیں آتے ہی تنگ کرنا شروع کردیا چلو سو جاؤ تم باتیں ہوتی رہیں گی ماں کے کہنے پر وہ ثانیہ کے ہمراہ کمرے میں چلی گئی
انوشے تھکاوٹ کے باوجود بہت دیر تک جاگتی رہی بے چینی سے کروٹیں بدلتے ہوئے اسکی کہیں فخر کے وقت آنکھ لگی انا بی نے اسے نہیں اٹھایا وہ صبح کافی دیر تک سوتی رہی اسے لگا کہ اس کی ذات ریجیکٹ ہوئی ہے اور یہ احساس اسے بے چین کئے ہوئے تھا اس نے اپنی زندگی میں نہ کا لفظ سنا ہی نہیں تھا اس نے آج تک جو چاہا وہ پایا تھا
وہ دو بجے کے قریب رشید بابا کی آواز سے اٹھی آنا بی نے ناشتہ لگایا اس نے ابلا ہوا انڈا اور چائے پی ناشتے کی میز سے اٹھی تو انا بی نے کہا کہ یہ کیا کھانا ٹھیک طرح سے کھاؤ اتنی کمزور ہو گئی ہو لگتا ہے ادھر بھی کھانے پینے میں لا پرواہی سے کام لیتی رہی ہو انا بی کے اصرار پر اس نے ڈبل روٹی کا ایک سلائس کھایا
کیسی ہو شام کو سویرا کا فون آیا تو اس نے پوچھا میں بلکل ٹھیک وہ پر جوش انداز میں بولی بہت دیر تکنوہ اس سے بات کرتی رہی جلال صاحب جب آئے تو وہ باپ بیٹی مالم جبہ کے ٹرپ کے بارے میں باتیں کرتے رہے وہ انھیں بتانے لگی کہ اس نے وہاں اسکیٹنگ کے مقابلے میں حصہ لیا
بابا ہم نے بہت انجوائے کیا وہ اس کو خوش دیکھ کر بہت پر سکون سے ہو گئے اچھا آپ کی پڑھائی مکمل ہونے والی ہے آگے کیا ارادہ ہے جلال صاحب نے پوچھا بابا ابھی کچھ اورتو نہیں سوچا لیکن آپ کا آفس جوائن کروں گی آگے کا پلان پھر سوچیں گے
تمہاری آنا بی تو تمہاری شادی کے بارے میں اصرار کر رہی ہیں وہ بولے بابا پلیز مجھے نہیں کرنی کوئی شادی مجھے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے وہ ان کے گلے میں بازو ڈال کر بولی تو اسکی آنکھوں میں اداسی اتر آئی
وہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گئی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں یوسف کی محبت گہری ہوتی چلی گئی اسکی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑنے لگے آنا بی اور جلال صاحب اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہونے لگے ایک دن جالال صاحب نے اس سے پوچھا انو میری جان کیا بات ہے کیا چھپا رہی ہو مجھ سے ہم لوگ تو بہت اچھے دوست بھی ہیں ایک دوسرے سے کچھ نہیں چھپاتے کبھی بابا میں آپ سے کیوں کچھ چھپاؤں گی چھپانے کیلئے کیا ہو سکتا ہے بس پڑھائی کو لے کر تھوڑی پریشان ہوں میری ڈگری مکمل ہونے والی ہے competition Is very tough مجھے اپنی پوزیشن برقرار رکھنی ہے
اسی لیے آپ کو لگتا ہے میں پریشان ہوں
وہ اسکی بات سن کر چپ تو ہو گئے لیکن وہ جانتے تھے کہ انوشے پڑھائی کو لے کر کبھی نہیں پریشان ہوئی وہ دل ہی دل میں اسے دعا دینے لگے کہ اللّہ تمہیں ہمیشہ اپنی امان میں رکھے تم میری کل کائنات ہو
رات کو جب وہ اپنے بستر پر لیٹی تو یوسف کی آواز نے اس کے کان میں سرگوشی کی پاگل لڑکی کہا تھا نا کہ اللّہ سے تعلق مضبوط ہو گا تو ہر قسم کے خوف اور بے چینی سے نجات مل جائے گی اگر اتنی ہی پرواہ تھی میری تو کیوں نہیں سمجھ سکے میری محبت کو کیسے رہوں گی میں تمہارے بغیر
اچانک وہ آٹھ کر بیٹھ گئی ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر اسے نا پا کر ساری رات یہی سوچنے میں گزر گئی کہ اللّہ کے ساتھ تعلق کیسے مضبوط کرے گی اس نے تعلیمی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے تھے اس سب میں وہ اللّہ سے کتنی دور ہو گئی یہ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا
وہ سٹڈی روم میں کھڑی اپنے انعامات کو دیکھ رہی تھی کہ اتنی کامیابیوں کے بعد بھی خالی ہاتھ تھی
یونیورسٹی سے واپسی پر وہ اپنی پسندیدہ جگہ دارلامان چلی گئی اسے وہاں سکون ملتا تھا وہ کافی دیر بچوں کے ساتھ کھیلتی رہی باجی آپ آج اداس ہیں اس سے پہلے تو آپ اتنی چپ چپ کبھی نہیں ہوئیں نائلہ جو کہ دارلامان میں بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتی تھی پوچھنے لگی
نائلہ میرے ہاتھ سب کچھ ہونے کے باوجود خالی ہیں ایسا لگتا ہے کہ مجھ سے ذیادہ غریب کوئی نہیں اس دنیا میں اک عجیب سا خالی پن ہے وہ روانی سے بولتی گئی اس کی آنکھوں اآنسو نکلتے رہے
نائلہ آٹھ کر اس کے اور قریب آ گئی اس کے آنسو صاف کئے باجی ایسا نہیں کہتے اللّہ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا اور سب کے پاس سب کچھ تو نہیں ہوتا اک کمی تو سب کی زندگیوں میں وہ رکھتا ہے ورنہ ہم نا شکرے انسان اس کو یاد کیسے رکھیں
اللّہ نے آپنکو اتنا کچھ دیا ہے اتنا محبت کرنے والا دل اس کے بندوں کا اتنا خیال رکھتی ہیں آپ کب خالی ہاتھ ہیں کس چیز کی کمی ہے آپ خوبصورت ہیں پڑھی لکھی ہیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں.. اللّہ کی وہ بے اختیار بول پڑی…
بعض اوقات انسان کو اپنا آپ خالی محسوس ہوتا ہے اک کمی سی…..وہ کمی کسی اور چیز کی نہیں بلکہ اللّہ کی محبت کی ہی ہوتی ہے نائلہ نے اس کی بات کا جواب دیا انوشے نائلہ کی طرف دیکھنے لگی کتنا سکون اور اطمینان تھا اسکے چہرے پر …اچھا کافی دیر ہو گئی ہے میں اب چلتی ہوں باجی دوبارہ جلدی آئے گا میں آپ کا انتظار کروں گی وہ نائلہ کے کہنے پر اس کی طرف مڑی اور پھر پر سکون مسکراہٹ کے ساتھ چل دی اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کو اپنے خالی پن کو دور کرنے کے لئے یہاں سے بہت مدد ملے گی
کدھر تھی بیٹا اتنا فون کیا تم نے فون بھی نہیں اٹھایا میں پریشان ہو گئی تھی اب تو میں جلال احمد کو فون کرنے والی تھی جب وہ واپس آئی تو انا بی اسکو دیکھتے ہی بولنے لگیں
آنا بی خود کو ڈھونڈنے گئی تھی وہ بے خیالی میں بولی کیا کہ رہی ہو اسکا جواب سن کر آنا بی سوچ میں پڑ گئیں ارے آنا بی آپ بھی نا چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جاتیں ہیں کچھ معلومات چاہیں تھیں بس اسی لئے گئی تھی
کیسی معلومات آنا بی پری تھانے دارنی لگ رہی ہیں اسوقت آپ یونیورسٹی کا کام تھا اس نے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی اور وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئی
جلال احمد انوشے آج بہت دیر سے یونیورسٹی لوٹی میں نے پوچھا تو کہنے لگی کہ کچھ نوٹس چاہیے تھے انھوں نے جلال صاحب کو بے بتایا جب وہ آفس سے لوٹے کیا نوٹس اسے تو کبھی کسی سے نوٹس کی ضرورت نہیں پڑی وہ ہمیشہ اپنے سارے نوٹس خود بناتی ہے
جب سے مالم جبہ سے آئی ہے کچھ کھوئی کھوئی سی ہے چپ چپ رہنے لگی ہے ہنسنا تو جیسے بھول ہی گئی ہے پتہ نہیں کیا ہو گیا میری بچی کو انا بی اپنے آپ سے کہنے لگیں
آج اتوار تھا بابا مجھے سویرا کی طرف جانا ہے اس نے ناشتے کی میز پر اس نے جلال صاحب سے کہا اچھا ٹھیک ہے بیٹا چلی جانا وہ گیارہ بجے کے قریب وہ ڈرائیور کے ساتھ سویرا کی طرف گئی جب وہ آئی تو سویرا امی کے ساتھ کپڑے دھو رہی تھی دروازہ ثانیہ نے کھولا
ارے انوشے آپی آپ وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی آئیے اندر آئیے دروازے پر کون ہے ثانیہ کس کے ساتھ کھڑی کس کے ساتھ باتیں کر رہی ہو امی انوشے آپی آئیں ہیں سویرا سب کام چھوڑ کر اسکی طرف بھاگی وہ اسے ڈرائینگ روم میں لے کر گئی اس کی امی بھی کام ختم کر کے ادھر ہی آگئیں
وہ چائے پی کر فارغ ہو چکیں تھیں اتنے دنوں بعد چکر لگایا مجھے تو لگا کہ ہمیں بھول گئی ہو سویرا کی امی نے گلہ کیا کچھ نہیں آنٹی بس پڑھائی میں تھوڑا مصروف ہوں پیپرز ہونے والے ہیں نا فائنل بس اسی لئے
میں تم لوگوں کے لئے کھانا بناتی ہوں تم لوگوں کے لئے سویرا انوشے کو اپنے کمرے میں لے گئی وہ کافی دیر تک چپ انوشے کو دیکھتی رہی پھر بولی انوشے کیا بات ہے تم یونیورسٹی میں بھی نہیں ملتی اگر ملو بھی تو کہتی نہیں کچھ بھی. کیا مجھ سے ناراض ہو؟
وہ سر جھکائے اسکی کی بات سن رہی تھی انوشے کچھ تو بولو میرا دل بیٹھا جا رہا ہے سویرا کے اسرار پر اس نے اسکی طرف دیکھا انوشے کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا سویرا نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا انوشے کچھ تو بولو کیا بات ہے انا بی اور جلال انکل تو ٹھیک ہیں
یوسف سویرا اسکے منہ سے یوسف کا نام سن کر ذیادہ حیران نہیں ہوئی مالم جبہ میں اسے اندازہ تو تھا کہ وہ یوسف میں دلچسپی لے رہی ہے لیکن اس حد تک وہ اسے چاہنے لگی ہے یہ وہ نہیں جانتی تھی کیا کمی تھی مجھ میں اس نے مجھے کیوں ریجیکٹ کیا… تم میں کوئی کمی نہیں ہے ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے لئے بہتر نہ ہو اللّٰہ نے حکمت سے دور کر دیا..
سویرا نے اسے گلے سے لگایا اس کے آنسو صاف کئیے اسے تسلی دیتے ہوئے بولی اللّہ اپنے بندوں پر ان کی برداشت سے ذیادہ بوجھ نہیں ڈالتا وہ تمہیں بھی تنہا نہیں چھوڑے گا وہ بہت بہتر کرے گا
سویرا کی امی نے کھانے کے لیے آواز دی میں نے اپنی انوشے بیٹی کی پسند کا پلاؤبنایا ہے وہ کھانے کے بعد ثانیہ عائشہ اور حماد کے ساتھ کافی دیر لڈو کھیلتی رہی
انوشے تم پریشان مت ہونا اللّہ پر بھروسہ رکھنا اگر اس نے تمہارے نصیب میں اسے لکھا ہے تو وہ تمہیں ضرور مل جائے گا اور اگر نہیں لکھا تو تمہیں اس سے بڑھ کر نوازے گا وہ ہمارے لئے بہترین فیصلہ کرتا ہے یوسف ٹھیک کہتا ہے انوشے اگر اللّہ سے تعلق انسان کا مضبوط نہ ہو تو ایک زندہ اور مردہ انسان میں صرف سانس کا ہی فرق ہوتا ہے روح تو اپنے اصل سے بہت دور ہو جاتی ہے انسان کو یہی کوشش کرنی چاہیے کہ جتنی جلدی ہو سکے اپنے اصل کی طرف لوٹ جائے تم بہت اچھی ہو تمہارا دل بہت صاف ہے شاید اللّہ نے تمہیں اپنا بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے کیا کہہ رہی ہو سویرا انوشے چونکتے ہوئے بولی ۔۔۔ہاں تم اپنا اس کی طرف شروع تو کرو وہ تمہں زاد سفر خود ہی مہیا کرتا چلا جائے گا
جب وہ جانے لگی تو سویرا نے اسے سمجھایا.وہ مسکرائی اور دروازے سے باہر نکل گئی ڈرائیور اسے لینے آ گیا تھا وہ سارے راستے یہی سوچتی رہی کہ اس کا شمار انہی مردہ انسانوں میں ہوتا ہے وہ بھی تو اللّہ سے نام کی حد تک مانوس تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری













