جو آج بھی زندہ ہے وہ کردار ہے مختار

0
83

تاریخ محبت کا قلمکار ہے مختار
جو آج بھی زندہ ہے وہ کردار ہے مختار

اس نام سے گھبراتا ہے شبیر کا دشمن
گویا غمِ شبیر کی تلوار ہے مختار

انساں ہے ظالم کا کبھی ساتھ نہ دے گا
مظلوم کی اُلفت کا وہ معیار ہے مختار

ہر اہل نظر جس کی صداقت پہ فدا ہو
جذبات کے ہونٹوں پہ وہ گفتار ہے مختار

زہرا کے غریبوں کو دیا جس نے تبسم
کوفے کی فضا میں وہ عزادار ہے مختار

مسرور کیا عابد بیمار کو جس نے
وہ اَجر مودت کا طلبگار ہے مختار

نجات کا طالب
آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY