جو آج بھی زندہ ہے وہ کردار ہے مختار

0
864

تاریخ محبت کا قلمکار ہے مختار
جو آج بھی زندہ ہے وہ کردار ہے مختار

اس نام سے گھبراتا ہے شبیر کا دشمن
گویا غمِ شبیر کی تلوار ہے مختار

انساں ہے ظالم کا کبھی ساتھ نہ دے گا
مظلوم کی اُلفت کا وہ معیار ہے مختار

ہر اہل نظر جس کی صداقت پہ فدا ہو
جذبات کے ہونٹوں پہ وہ گفتار ہے مختار

زہرا کے غریبوں کو دیا جس نے تبسم
کوفے کی فضا میں وہ عزادار ہے مختار

مسرور کیا عابد بیمار کو جس نے
وہ اَجر مودت کا طلبگار ہے مختار

نجات کا طالب
آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY