جناب انور عباس انور نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک تحریر میں استاد صفت صحافی وقار انبالوی مرحوم کی آخری آرام گاہ کے حوالے سے تکلیف دہ حقائق بیان کیئے ہیں۔ انکی مکمل تحریر ذیل میں موجود ہے لیکن مجھے صحافت کے ایک طالبعلم کے طور پر یہ عرض کرنا ہے کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وقار انبالوی مرحوم کی اولادیں الحمد اللہ اس قابل ہیں کہ اپنے والد کی قبر کی حفاظت کریں اور اسے ایسی صورت حال میں رکھیں کہ اگر کوئی وہاں جائے تو اسے مایوسی نہ ہو۔ ہر کام کے لیئے حکومت کی طرف دیکھناکوئی اچھا رویہ نہیں۔
صفدر ھمدانی
مدیر اعلیٰ
عالمی اخبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مکرم داؤد احمد کی راہنمائی میں اور ملک صدیق بادشا کی ہمراہی میں بابائے صحافت وقار انبالوی مرحوم کی آخری آرام گاہ پر حاضری دینے ان کے گاؤں سہجووال پہنچے ۔وقار انبالوی مرحوم جن کا اصل نام ناظم علی ہے اور وقار انبالوی بطور تخلص استعمال کرتے تھے۔ کئی اخبارات کے مدیر رہے ۔برطانوی ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے ۔
پاکستان میں صحافت کو ہی اوڑھنا بچھونا بنایا ۔ نوائے وقت میں وابستہ ہوئے تو وہیں کے ہو کر رہ گئے ۔ اداریہ اور “سر راہے” تحریر کرنا ان کی ذمہ داری رہی ۔ ان کی تحریروں میں قومی مفادات اور عوامی مسائل کو فوقیت حاصل رہتی۔ مرحوم مسلمانوں کے اتحاد کے بڑے داعی تھے۔
مرحوم کی آخری آرام گاہ کی زیارت برسوں کی خواہش تھی ۔ لیکن عدم پتہ کی بنا پر محروم رہا ۔ مکرم داؤد احمد کے نانا جان ملک تاجدین مرحوم کے انتقال پر اظہار تعزیت کے لئے گئے تو اتوار کے روز بابائے صحافت کی قبر پر فاتحہ خوانی کا پروگرام فائنل ہوا۔
اتوار کی صبح مکرم داؤد احمد نے فون پر بتایا کہ ملک صدیق بادشاہ لاہور سے آرہے ہیں وہ گاؤں سہجووال میں ہم سے ملیں گے چنانچہ میں اور محترم داؤد احمد موضع سہجووال پہنچ گئے۔
ملک صدیق بادشاہ بہت سارے پھول اپنے ہمراہ لائے مگر بابائے صحافت کی آخری آرام گاہ اور آس پاس کی صورتحال دیکھ کر دل بہت رنجیدہ ہوا ۔قبر کا کوئی پرسان حال نہیں، قبر کتبہ تک سے محروم ہے چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔لوگ اینٹیں اٹھا کر لے گئے ہیں ۔
ہمارا خیال تھا کہ چونکہ ان کے فرزندگان صاحب علم اور صاحب حثیت ہیں انہوں نے بابائے صحافت کی آخری آرام گاہ پر خوبصورت مزار تعمیر کیا ہو گا ۔اہل گاؤں کے سپرد مزار کی دیکھ بھال ہوگی ۔
لیکن جب ہم تینوں عاشقان وقار انبالوی مرحوم کی آخری آرام گاہ پر حاضر ہوئے تو ہمارے خواب چکنا چور ہوگئے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کرچکا ہوں کہ چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کر گری ہوئی ہے چاروں اطراف سے گزر گاہیں ہیں دروازہ غائب
قبر مٹی میں لت پت کسی ویرانے کا منظر پیش کر رہی ہے بچے قبر کے اوپر چڑھ کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ قبر کے احاطے میں چند بچے کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھے۔ ہم نے پوچھا یہ قبر کس کی ہے تو بچوں نے بتایا کہ یہ قبر بابا وقار کی ہے۔
ملک صدیق بادشاہ نے ایک بچے سے جھاڑو منگوایا اور خود قبر کی اور احاطے میں صفائی ستھرائی کی۔ پھر قبر پر پھول چڑھائے اور بابائے صحافت وقار انبالوی مرحوم کے بلندی درجات اور مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دعا کی۔ آج ملک میں آزادی صحافت کا بہت پرچار کیا جارہا ہے
آج اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں صحافی سینہ چوڑا کرکے آزادی اظہار رائے کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن “جابر آمر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ حق کہنے والے نوائے وقت میں آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والے “ناظم علی “وقار انبالوی ایک ویرانے میں بے یارو مددگار پڑا ہے اور اس کی قبر ہمیں آواز دے رہی ہے بلکہ پکار پکار کر اپنے حقوق مانگ رہی ہے ۔ میری سرکاری حکام خصوصی طور پر حکومت پنجاب کے ذمہ داران اور عمومی طور پر ان کے فرزندگان سے درخواست ہے کہ وہ بابائے صحافت وقار انبالوی مرحوم کی قبر سے بلند ہونے والی پکار پر کان دھریں اور قبرپر مزار تعمیر کرکے اور کتبہ لگوا کر انکی روح کو تسکین پہنچائیں ۔
میری یہ بھی التماس ہے کہ وقار انبالوی، نثار عثمانی، منہاج برنا سمیت دیگر اہم صحافیوں کی جدوجہد آزادی اظہار رائے کو تعلیمی نصاب میں شامل کرکے انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے
انور عباس انور













