سید انور جاوید ہاشمی

ورق گرداں ہے کیوں مصحف کے خال و خد کا توایسے
کہ جیسے دشت میں پھرتی ہو ویرانی تماشا کر

چمن میں خوش نوایان ِ چمن کی آزمائش ہو
سخن کے باب میں اس درجہ طولانی تماشا کر

مرے اطراف میںاے وقت کے بپھرے ہوئے طوفاں
نہ اب اس سے زیادہ اور،ارزانی تماشا کر

یہاں جوبے سروساماں رہے وہ لوگ اچھے تھے
کہا تھا کس نے اے دم سا ز و سامانی تماشا کر

ہم اوج ِ طالع ِ لعل و گُہر اک بار پھر دیکھیں
زہے قسمت،مکرّر! بخت لا ثانی تماشا کر

چھپاکر رکھ رہے ہو کس لیے ،یہ کیوں نہیں کہتے
سرِ بازار لے چل،پھر پشیمانی تماشا کر

پئے عرض ِ تمناپھرجو بلقیس ِ غزل آئے
بہ یک جنبش نظر تخت ِ سلیمانی تماشا کر

SHARE

LEAVE A REPLY