بلاول, بینظیر بھٹو کو جن حکمرانوں نے عدالتوں میں گھسیٹا , انصاف کی دہائی دے رہے ہیں

0
84

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کو جن حکمرانوں نے عدالتوں میں گھسیٹا اور چور کہا آج ان کی چوری ثابت ہونے پر انصاف کی دہائی دے رہے ہیں۔

گڑھی خدا بخش میں تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کا دن برسی کا نہیں بلکہ یومِ شہادت ہے اور یہ اس طرح منایا جاتا ہے جس میں ہماری روح بے چین ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بینظیر کو دنیا بھر میں اسلام کا امن پسند چہرہ دکھانے، آئین و جمہوریت کا دفاع کرنے، دہشت گردی کے خلاف بات کرنے، بہادری دکھانے اور عوام کے ساتھ محبت کی سزا دی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دنیا دہشت گردی کی آگ میں جل رہی ہے اور دنیا میں کوئی آواز اور قیادت موجود نہیں جو مسلمانوں کی رہنمائی کر سکے اور پوری دنیا کے مظلوم بینظیر کو پکار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ‘میری قائد آپ نے 30 سال جمہوریت کے لئے جدوجہد کی، آمر کے خلاف جلاوطنی کاٹی اور جیل کی اذیت جھیلی، صوبوں کے حقوق کی بات کی اور این ایف سی ایوارڈ دے کر صوبوں کو حقوق دیئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہیں اور پاکستان دنیا میں اکیلا ہوتا جارہا ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو جن حکمرانوں نے عدالتوں میں گھسیٹا اور چور کہا، آج وہ عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کے نام لے کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے تعلیم کے لئے اسکول جانے والی بچیوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا، سندھ میں بجلی پیدا کرنے کے لئے سولر اور ونڈ پاور منصوبے بنائے، چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر پانی زخیرہ کیا۔

انہوں نے حکمراں جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے اس جمہوریت کے لیے کیا کیا، وزیراعظم موجود ہے لیکن کہتا ہے کہ ‘میں وزیراعظم نہیں ’۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج ملک کا بچہ بچہ مقروض اور معیشت بحران کا شکار ہے، موجودہ حکومت کی معیشت ان کے اپنے لیے بہتر ہے لیکن عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے پیپلز پارٹی کے کارکنان نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے لیکن پیپلز پارٹی کو اس عدلیہ سے انصاف نہیں ملا لیکن پھر بھی عدلیہ کی آزادی اور وقار کے لئے جدوجہد جاری رہے گی۔

بینظیر بھٹو کا نام پکارتے ہوئے انہوں نے کہا ’میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ نے شہید بھٹو کے خوابوں کی تعبیر کے لئے اپنی جان کی قربانی دی میں اس کو منزل تک پہچاؤں گا۔‘

اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے جذباتی انداز میں ’قاتل قاتل مشرف قاتل‘ کے نعرے بھی لگوائے۔

میں نے مخالفین کو جکڑ رکھا ہے: آصف علی زرداری
قبلِ ازیں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ماضی میں سازشیں ہوئیں جو آج تک جاری ہیں۔

سابق صدر نے کہا کہ آج تک ایک بھی ایسا بہادر مرد نہیں دیکھا جیسی بینظیر تھیں، اور آج تک پاکستان میں دوبارہ بینظیر جیسی خاتون نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میری بہن، بیٹی اور بیٹا میرے ساتھ ہے آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوجائے گی جبکہ انہوں نے جلسے کے شرکاء کو پیشگی مبارکباد بھی پیش کی۔

سابق صدر نے کہا کہ وہ مخالفین کو کہتے ہیں کہ اتنا کرو جتنا برداشت کرسکو اور وہ آخری سانس تک عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’بلاول اور میں بھٹو شہید کا مشن آگے بڑھارہے ہیں، تاریخ میں نام صرف بھٹو کا رہے گا۔‘

شریک چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عوام پُرامید رہیں انہوں نے اپنے مخالفین کو جکڑ کر رکھا ہوا ہے اور انہیں جکڑ کر رکھ کر ہی الیکشن جیتیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ بینظیر بھٹو کی 10 ویں برسی کی مرکزی تقریب میں ملک بھر سے پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد نے قافلوں کی صورت میں گڑھی خدا بخش پہنچ کر شرکت کی۔

گڑھی خدا بخش میں تعزیتی جلسہ گاہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے تھے جہاں سے سخت چیکنگ کے بعد شرکا کو جلسہ گاہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔

اس موقع پر جلسہ گاہ کے اندر اور اطراف میں ہزاروں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے جبکہ جلسہ گاہ میں موجود عوام اور پارٹی قائدین کی سیکیورٹی کے لیے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پرویز مشرف بینظیر کے قاتل ہیں: بلاول بھٹو زرداری
واضح رہے کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں ذاتی طور پر بینظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو سمجھتا ہوں، جہنوں نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میری والدہ کو قتل کروایا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس نوجوان کو سابق وزیراعظم کا قاتل نہیں سمجھتے، جس نے 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں بینظیر بھٹو پر حملہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے اس حملہ آور نے گولی چلائی ہو لیکن پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کی سیکیورٹی کو جان بوجھ کر ہٹایا تھا تاکہ انہیں منظر سے ہٹایا جاسکے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے میری والدہ کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے تحفظ کی ضمانت ان کے ساتھ تعاون پر منحصر ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY