فلسطین نے حافظ سعید کے ساتھ ریلی میں شرکت پر سفیر کو واپس بلا لیا

0
89

فلسطین نے پاکستان میں تعینات اپنے سفیر ولید ابوعلی کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی موجودگی میں دفاع پاکستان کونسل کے جلسے میں شرکت پر واپس بلا لیا۔

فلسطین کی وزارت خارجہ کے بیان میں حافظ سعید کا نام لیے بغیرکہا گیا ہے کہ’وزارت خارجہ یہ سمجھتی ہے پاکستان میں ہمارے سفیر نے ریلی میں یروشلم سے یک جہتی کے لیے شرکت کی تھی اور وہاں دہشت گردی کے مبینہ حامی کسی شخص کی موجودگی میں شرکت غیر ارادی غلطی تھی لیکن اس کی کوئی توجیح نہیں’۔

وزارت خارجہ کے مطابق ‘فلسطینی ریاست کے صدر کے احکامات کی روشنی میں’ سفیر کو پاکستان سے واپس بلانے کے فیصلے کا اطلاق فوری ہوچکا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی سفیر ولید ابوعلی نے گزشتہ روز راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے منعقدہ ‘تحفظ بیت المقدس کانفرنس’ میں شرکت کی تھی جہاں ان کے برابر میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید بھی براجمان تھے۔

حافظ سعید کی 300 روز کی طویل نظری بندی کو گزشتہ ماہ عدالت کے حکم کے بعد ختم کردی گئی تھی جبکہ ان پر بھارت کی جانب سے 2008 میں ممبئی حملوں کا الزام عائد کیا گیاتھا جہاں 166 افراد ہلاک ہوئے۔

بھارت اور امریکا دونوں حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی جانب سے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ بھارت کی جانب سے دفاع پاکستان کونسل کی ریلی میں موجودگی پر شدید تشویش کے بعد کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے بھی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطین نے’واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے سفیر کی ریلی میں موجودگی کا سختی سے نوٹس لے رہے ہیں’۔

فلطسینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین اقوام متحدہ میں یروشلم کے حوالے سے امریکی صدر کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے پیش کی گئی قرار داد کے حق میں ووٹ دینے کے بھارتی فیصلے کو ‘زبردست خراج تحسین پیش’ کرتا ہے۔

بیان کے مطابق ‘ریاست فلسطین دہشت گردوں کے خطرے کے خلاف اقدامات میں بھارت کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ ہماری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حقیقی حصہ دار ہے’۔

دفتر خارجہ کا وضاحتی بیان
پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے متنازع فیصلے کے بعد پاکستان میں متعدد ریلیاں نکالی گئیں اور فلسطینی سفیر ان عوامی اجماعات میں کئی بارشرکت کرچکے ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز منعقدہ اجتماع بھی فلسطینیوں کی حمایت کا ایک مظہر تھا جہاں مختلف مکاتب فکر کے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ یکجہتی کے اجتماع میں فلسطینی سفیر کی بھرپور شرکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حافظ سعید سمیت 50 سے زائد مقررین نے اس اجتماع سے خطاب کیا تھا۔

کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی کے تاثر کو رد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے حوالے سے غلط تاثر پھیلایا جارہا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی جانب سے آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY