ایران پابندیوں کے باوجود شاہراہ ترقی پر رواں دواں, انور عباس انور

0
1251

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستان دنیا کےےنقشہ پر تنہا رہ گیا۔ ہمارے سب اسلامی اور پڑوسی برادر ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہونے اور معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ہمارا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں ۔
عالمی چودھریوں نے ایکا کرکے اور آئی ایم ایف کو سامنے کرکے ہمیں اپنی غلامی کے حصار میں لیا ہوا۔ سب دو ست چاہے وہ چین ہو ، سعودی عرب ، بحرین یا متحدہ عرب امارات ہو سب آئی ایم ایف کی زبان بول رہے ہیں کہ ” پہلے آئی ایم ایف کی شرائط مانو پھر ہم امداد اور قرض دیں گے”
پاکستان کے موجودہ بحران کے ذمہ دارہمارے حکمرانوں کے بیرون ملک جڑے مفادات ہیں ۔ ہماری خارجہ اور معاشی پالیسی سازوں کی مہارت اور صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہے۔

ماہرین معاشیعات اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے ‘کیا ہمارے جیسے ملک کے ایک عام شہری کیلیے یہ بات حیران کن نہیں ہوگی کہ ہالینڈ ، سعودی عرب ، سوئٹزرلینڈ ، ترکی ، سوئیڈن ، بیلجیئم اور تائیوان کی جی ڈی پی ہمارے پڑوسی اسلامی برادر ملک ایران سے کم ہے۔ گویا ایران کی معیشت متذکرہ ممالک کی معیشتوں سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے۔ ایران کے چار بڑے تجارتی شراکت دار ممالک ایشیائی ہیں اور ان میں تین تو ہمارے بہترین دوست ممالک ہیں۔ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار چین ہے، دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات، تیسرے نمبر پر بھارت اور چوتھے نمبر پر ترکی ہے۔’

‘ان تمام ممالک کی ایران سے دوطرفہ تجارت اربوں ڈالر تک ہے جبکہ پاک ایران دو طرفہ تجارت بہت ہی کم ہے اور ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے کہیں دُور دراز واقع ہیں اور یہ ہمسائے تو بالکل بھی محسوس نہیں ہوتے۔ ایرانی معیشت کا سب سے بڑا شعبہ تو پٹرول اور گیس ہے مگر زراعت بھی اِس کا ایک انتہائی اہم شعبہ ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں ایران کا 17 واں نمبر ہے جبکہ بدقسمتی سے پاکستان کا نمبر 48 واں ہے۔ معاشی اعتبار سے تو دیش، فلپائن، ملائیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، مصر اور جنوبی افریقا بھی ہم سے آگے ہیں
ہم اِس اظہاریے میں صرف ایران تک ہی محدود رہیں گے۔ ایران کی معیشت کا سب سے بڑا حصہ ریاستی کنٹرول میں ہے جبکہ ہمارے ہاں پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں ہمیں نجکاری کے دھندے پر لگا دیا گیا تھا جو قومی معیشت کیلیے تباہ کن ثابت ہوا۔ ہمارے ہاں اَن گنت شعبوں میں منافع بخش پیداواری یونٹس اور اداروں کی نجکاری کی گئی جس سے نہ صرف وسیع پیمانے پر قومی اثاثوں کا نقصان ہوا بلکہ نقصان میں چلنے والے اداروں کو سرکاری ملکیت میں ہی رہنے دیا گیا۔ اس کے برعکس تیزی سے ترقّی کرنے والے شعبوں کو نجی ساہوکاروں کے حوالے کرکے بڑے پیمانے پر بیروزگاری پھیلائی گئی۔ حکمران قومی اثاثے اور قومی ادارے بیچ کر اپنی بُری حکمرانی سے جنم لینے والے خسارے پورے کرنے لگے۔
ایران میں قومی اثاثوں اور قومی اداروں کی بے توقیری نہیں ہوئی بلکہ ان کی قدر کی گئی اور نجکاری کی بیماری کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ ایران کے پاس جو قدرتی وسائل ہیں ان کے اعتبار سے اِسے ایک امیر ملک کہا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں خام تیل کا چوتھا بڑا اور قدرتی گیس کا دوسرا بڑا ذخیرہ ایران کے پاس ہے۔ قومی وسائل کے تصرّف میں احتیاط اور کفایت شعاری کا یہ عالم ہے کہ آج سے بیس سال پہلے جب میں سینیئر صحافیوں کے ایک وفد کے تہران گیا تو یہ وفد یہ جان کر حیرت زدہ رہ گیا تھا کہ ایران میں گاڑیوں کیلیے تیل کی راشن بندی ہوتی ہے اور ایک دن میں ایک کار کو تین لیٹر سے زیادہ پٹرول نہیں دیا جاتا۔ بڑے بڑے سرکاری افسر، تاجر، دکاندار، نجی اور سرکاری اداروں کے ملازمین سفر کیلیے ملوں اور فیکٹریوں کے مزدوروں کی طرح عام پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ اسی دورے میں ایک اور حیرت انگیز انکشاف بھی ہوا تھا جسے سن کر ہمارےوفد کے سب صحافی دوست چونک کر اُچھل پڑے تھے۔ وفد کو پاکستان کے پریس اتاشی نے رات کے کھانے کی دعوت دی تھی۔ اس دعوت میں ارشاد احمد حقانی، ضیاءالدین، طارق وارثی، ایاز بادشاہ، محمود العزیز، سہیل قلندر اور دیگر دوست موجود تھے۔ اس دور میں ایران میں پاکستان کے ملٹری اتاشی بریگیڈیئر زاہد مبشر تھے جو بعد میں کئی اور ذمے داریاں انجام دینے کے بعد میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ تہران اور دوسرے شہروں میں کیپٹن، میجر اور کرنل رینک کے فوجی افسران اپنی معمول کی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد فارغ اوقات میں ٹیکسی چلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔
جس سرزمین پر ڈسپلن اور وطن سے محبت گا حال یہ ہو ایران کو بھلا کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کون جھکا سکتا ہے۔ ایران پر اس وقت انکل سام اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے معاشی پابندباں عائد ہیں ۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے دروازے بند ہیں۔ پاکستان ایران سےگیس معاہدے پر عمل کرنے سے انکاری ہے۔
ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدہ کے مطابق اگر پاکستان نے اپنے حصے
کی پائپ لائن مارچ 2024 تک نہ بچھائی تو پاکستان ایران کو 18 ارب ڈالر ادا کریگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY