عام طور پر سال نو یعنی 1 جنوری کے موقع پر دنیا بھر میں بہت سے بچے پیدا ہوتے ہیں، لیکن حقیقی اصل تعداد ہر سال تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔
متوقع اندازے کے مطابق:
🌍 دنیا بھر میں تقریباً 370,000 سے 395,000 بچے 1 جنوری کو پیدا ہوتے ہیں یعنی نئے سال کے دن (سال نو) پر۔ یہ اندازہ UNICEF اور دیگر بین الاقوامی ڈیٹا پر مبنی ہے، جہاں ہر دن کے پیدائش کے نمونوں کی بنیاد پر تخمینے لگائے جاتے ہیں۔
UNICEF
یہ ایک اوسط اندازہ ہے کیونکہ:
دنیا بھر میں ہر دن اوسطاً تقریباً 370,000 بچے پیدا ہوتے ہیں۔
The Bump
پیدائش کی صحیح گنتی حقیقی وقت میں ہر ملک کی رجسٹریشن اور ڈیٹا پر منحصر ہوتی ہے، جو عام طور پر تھوڑا مختلف ہو سکتی ہے۔
📌 یاد رہے کہ یہ تعداد اندازے ہیں — حقیقی اعداد ہر سال و ہر ملک کے حساب سے بدلتے ہیں، لیکن عمومی طور پر نئے سال کے دن یہی حدود متوقع ہیں
پاکستان — بچوں کی یومیہ اور سالانہ پیدائش
📌 اندازۂ پیدائش (2025 کی تخمینی اعداد و شمار کے مطابق):
👶 تقریباً 18,917 بچے روزانہ پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں — یعنی ہر دن تقریباً ۱۹ ہزار بچے جنم لیتے ہیں۔
World Population Review
اگر ہم ۱ جنوری کے دن کو خاص طور پر لیں تو اسی اوسط کے مطابق تقریباً 18,000-19,000 بچے اسی دن بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
World Population Review
سالانہ کل آبادی میں یہ تعداد اس بات کا اندازہ دیتی ہے کہ پاکستان میں پیدائشوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔
بھارت — یومیہ اور سالانہ پیدائش
📌 بھارت دنیا میں سب سے زیادہ پیدائش والا ملک ہے:
👶 تقریباً 63,171 بچے روزانہ بھارت میں پیدا ہوتے ہیں۔
World Population Review
یعنی ۱ جنوری کے دن بھارت میں تقریباً 63 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔
World Population Review
بھارت میں سالانہ بچوں کی پیدائش سب ممالک میں سب سے زیادہ ہے (تقریباً 23.4 ملین بچوں کی پوری سالانہ پیدائش)۔
🇬🇧 برطانیہ (UK) — یومیہ اور سالانہ پیدائش
📌 برطانیہ میں سالانہ پیدائش:
انگلینڈ اور ویلز میں 594,677 زندہ بچے 2024 میں پیدا ہوئے – یہ تازہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔
The Guardian
اگر سال کو 365 دن سے تقسیم کریں تو:
👶 تقریباً 1,630 بچے روزانہ اس میں پیدا ہوتے ہیں۔
(594,677 ÷ 365 ≈ 1,630)
The Guardian
اس طرح ۱ جنوری جیسا دن بھی برطانیہ میں تقریباً ۱,۶۰۰-۱,۷۰۰ بچے پیدا ہوتے ہیں۔
The Guardian
📌 خلاصہ – ۱ جنوری (سال نو) کے دن تقریبی پیدائش
ملک بچوں کی تعداد تقریباً (روزانہ/سال نو)
🇮🇳 بھارت ~ 63,000 بچوں کا جنم
🇵🇰 پاکستان ~ 19,000 بچوں کا جنم
🇬🇧 برطانیہ (UK) ~ 1,600 بچوں کا جنم
نوٹ
یہ تمام اعداد تخمینی اور سرکاری ڈیٹا پر مبنی ہیں جو گذشتہ سالانہ رجسٹریشن اور اوسط پیدائش کی شرح سے نکالے گئے ہیں۔
حقیقی تعداد کچھ مختلف بھی ہو سکتی ہے کیونکہ پیدائشیں دن کے حساب سے اوسط سے تھوڑی کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
یہ خبر دوہزار اٹھارہ کی ہے
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق نئے سال کے پہلے دن دنیا بھر میں تقریباً 3 لاکھ 90 ہزار بچے پیدا ہوئے جن میں سے 90 فیصد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔
یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2018ء کو پیدا ہونے والے 3 لاکھ 90 ہزار کے لگ بھگ بچوں میں سے نصف کا تعلق ترقی پذیر ممالک چین، بھارت، پاکستان، نائجیریا، امریکا، عوامی جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا اور بنگلا دیش سے ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان نومولود بچوں میں سے زیادہ تر زندہ رہیں گے لیکن کئی ایک ایسے بھی ہوں گے، جن کی زندگی ایک دن سے زیادہ نہیں ہو گی۔
یونیسیف کے تخمینوں کے مطابق 2016ء میں ہر روز 26 ہزار بچے اپنی پیدائش کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ہلاک ہو جاتے تھے۔ عالمی ادارہ برائے اطفال کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریباﹰ دو ملین نومولود بچوں کے لیے اُن کی زندگی کا پہلا ہفتہ ہی آخری ثابت ہوا اور تب مجموعی طور پر دو اعشاریہ چھ ملین بچے پیدائش کے بعد ایک ماہ پورا ہونے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔
بچوں کی بہبود کے اس عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انتقال کر جانے والے ان بچوں میں سے 80 فیصد ایسی وجوہات اور بیماریوں کی بنا پر ہلاک ہوئے جن کو بروقت علاج سے دور کیا جا سکتا تھا۔ ان وجوہات میں وقت سے پہلے پیدائش، پیدائش کے دوران پیچیدگیاں یا پھر خون یا پھیپھڑوں کی انفیکشن زیادہ اہم تھیں۔













