واہگہ بارڈر، فضائی حدود اور بھارت سے ہر قسم کی تجارت فوری بند، پانی روکا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائیگا: قومی سلامتی کمیٹی

0
846

پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی آبی جارحیت اور دیگر اقدامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے بھی بھارت سے زمینی راستے کے ذریعے تجارت فوری طور پر بند کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی ملکیت کے پانی کا بہاؤ روکا گیا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سول اور عسکری قیادت ہوئیں، اجلاس میں پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی ملکی داخلی و خارجی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی یکطرفہ اعلان مسترد کر دیا، پانی پاکستان کا اہم قومی مفاد ہے اور 24کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے، پاکستان اپنی لائف لائن کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا، پاکستان کی ملکیت کے پانی کا بہاؤ روکا گیا یا پانی کا بہاؤ موڑا گیا تو اس کو اس جنگ کا اقدام سمجھا جائے گا۔

گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خاطر خواہ جواب کا فیصلہ کیا جائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا بھارت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور لائیں گے، بھارت سندھ طاس معاہدے کو اس طرح معطل نہیں کر سکتا، معاہدے میں صرف پاکستان اور بھارت شامل نہیں دیگر عالمی فریقین بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ابھینندن کے وقت جواب دیا تھا اس بار بھی ہم بھارت کو 100 فیصد جواب دینےکی پوزیشن میں ہیں، پاکستان ائیر فورس نے ابھینندن کے وقت جو جواب دیا تھا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا بھارت بہت عرصے سے سندھ طاس معاہدے سے نکلنا چاہ رہا ہے، بھارت میں جو واقعہ ہوا وہ قابل مذمت ہے، تاہم واقعے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات سے بھارت کا چہرہ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔

یاد رہے کہ 3 روز قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے گزشتہ روز پہلگام واقعے کی تحقیقات کے بغیر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا اور 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY