آخر حضور ﷺ کی سیرت سے یہ اتنی بے اعتنائی کیوں؟شمس جیلانی

0
1781

ہم میں ہر ایک حضورﷺ پر اپنی جان نثار کر نے کو ہروقت تیار رہتا ہے ،بعض اوقات اپنے ہی ہاتھوں اپنی یا سرکاری املاک کو آگ لگانے کوتیار رہتا ہے سوچیں کہ یہ کس طرح ثواب ہوسکتا کہ خاکے کہیں بن رہے ہیں اور آگ پاکستان میں لگ رہی کسی ایک غریب موٹر سائیکل سوار یا موٹر سائکل رکشا چلانے والے کو اسکی سزا مل رہی ہے؟ جبکہحضورﷺ جہاں جہاں سے گزرے یا جہا کہیں ایک رات ٹھہیرگے اس کی دنیا بدل گئی اور وہ ملتجی رہا کے حضورﷺ میرے گھر پر مستقل تشریف فرما ہو جائیں اور کبھی کہیں اور جانے کا نام نہ لیجئے؟ ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کو پڑھنے اور یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے جوکہ نجات کے ذرائع ہیں۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آنِ مقدس میں فرما چکا ہے کہ ان ﷺکے اسوہ حسنہ میں تمہارے لیئے بہترین نمونے ہے۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا۔ کہ حضورﷺ کی سیرت مبارکہ ہر مسلمان کو اتنی زبانی یاد ہوتی کے کسی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی اور مسلمان اس پر عمل پیرا ہوتے اور اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے! اور بالکل اسی طرح عمل کر کے دکھاتے جس طرح حضور ﷺ نے عمل پیرا ہوکر اور عمل کرکے دکھایا ہے؟ لیکن ہم نے اسے اس طرح بھلایا ہے کہ اس پہ عمل پیرا ہونے کے بجا ئے جو کہ ذریعہ نجات ہے۔ اسے کھول کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے قرآن کو تو کبھی نہ کبھی جزدان سے نکالکر پڑھ بھی لیتے ہیں یہ تو شاید لاکھوں میں سے چند گھروں میں کہیں تو ہو؟ آجکے مسلمان بہت تھوڑے سے اس کی برکتوں سے واقف ہوں جبکہ قرون ِ اولیٰ مسلمان بقو ل حضرت امام زین العابدین ؑ کے اس اس طرح پڑھا کرتے تھے جیسے کہ آجکل مسلمان قرآن شریف پڑھتے ہیں؟کیونکہ اس میں کسی مالی منفعت کا کوئی امکان نہیں ہے؟ جبکہ ہر امتی کو کھانا کھانا بھی دونوں وقت ہے، پانی پینا بھی ہے رات کو سونا بھی ہے اس لیئے کہ وہ اس پر مجبور ہے؟ لیکن وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کرکے اس ثواب سے محروم ہے؟ جو اس کی برکتیں اور رحمتیں ہیں؟ کیونکہ سنت پر عمل پیرا ہونے کی جب نیت ہی نہیں کی تو ثواب کیسے ملے گا،جبکہ ثواب کا دار مدار نیت اور خلوص پر ہے۔ دوسرے اس لیئے بھی کہ اس نے نہ بیٹھ کر تین گھونٹ اور تین سانس میں پیا نی پی ہےا؟ بلکہ جلدی میں جانوروں کی طرح کھڑے ہوکر غٹ غٹ کرکے پیا ہے؟اسی طرح کھانا تمیز سے دسترخوان پر بیٹھ کر اور صرف اپنے سامنے سے اٹھا کر وہ کھاتا تو ثواب کا مستحق ہوتا۔اسی طرح داہنی کروٹ پر لیٹا ہوتا اور اپنے داہنے رخصار کے نیچے ہاتھ رکھا ہوتا تو ثواب کا مستحق ہوتا اب کیسے ہوگا۔اگر مسلمان گاہے گاہے بھی سیرت پر ایک نظر ڈال لیا کرتے تو آپ کا جسم غیر ارادی طور پر ہر سنت پرعمل کرتا اور آپ کو کچھ بھی کرنا نہیں پڑتا سوائے ثواب کے حصول کے کیونکہ آپ کا مزاج ہی ایسا ہوتا جو کبھی اسوہ حسنہﷺ کی خلاف ورزی کے بارے میں کبھی سوچتا بھی نہیں؟
چوہتر سال پاکستان کو بنے ہوئے گزر گئے جو بھی آیا وہ اسی نام سے آیا اور اس نے یہ ہی نعرہ بھی لگایا کہ میں یہاں اسلامی نظام لا ؤنگا۔ جبکہ ضیاء الحق ایک قدم اور آگے بڑھے کہ میں نظام ِ مصطفیٰ ﷺ لاؤ نگاوہ بھی گیارہ سال رہے مگر کر کچھ بھی نہی سکے؟ ان کے بعد عمران خان کے دور تک پرانے سارے نعرے چونکہ ختم ہوچکے تھے لہذا انہوں نے مدینہ جیسی ریاست قائم کرنے کا اعلان کردیا؟ اب تین سال کے بعد انہوں نے فرمایا ہے کہ وہ ڈگری کورس تک سیرت کو پڑھانے کا انتظام کریں گے وہ قابل ِ مبارک باد ہیں کہ انہوں نے سیرت پڑھانے کا اعلان تو کردیا مگر اس پر عمل کون کرائے گا جو سب سے مشکل کام ہوگا جب تک کہ کسی کو اس میں مالی فائدہ نظر آئے۔ لہذااس سلسلہ میں کامیاب ہونا ذرا مشکل کام ہے؟ کیونکہ سوائے حضور ﷺ کے کہ جن کے ساتھ اللہ کی نصرت ساتھ تھی اور کسی کو اس میدان میں کامیابی نہیں ہو پائی؟ کیونکہ ہمیشہ نفاذ اسلام کی مخالفت خود مسلمان کرتے ہوئے پائے گئے جیسے کہ بالا کوٹ والا مارکہ جس میں حضرت سید احمدؒ بریلوی اور اسمعیل ؒ کی شہادتیں واقع ہوئیں۔ یہ اس لیئے ہواکہ ہر مسلمان خود کو حضور ﷺ کا امتی تو کہلانا چاہتا ہے مگر جب اسلام ان کے مفادات سے ٹکراتا ہے تو وہ خود ہی مخالفت شروع کردیتا ہے اور اسی دنیا کی ہاں میں ہاں ملانے لگتاہے جو کہ ہمیشہ سے اپنے مفادات کی وجہ سے مخالفت کر تی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔جو پوزیشن سو دوسو سال پہلے تھی وہی آج بھی ہے کہ افغانستان کے باشندوں نے چالیس سال تک جہاد کیا اسلامی نظام کے لیئے؟ مگر اب کئی مہینے ہوگئے وہ درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں کہ 57 مسلم ممالک میں کوئی ایک بھی انکی حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے رکن بن سکیں جن میں مدینہ جیسی ریاست بھی شامل ہے۔؟ میں اپنا تجربہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں میں نے اپنی عمر کے پچھلے 32 سال لوگوں کو سیرت کی طرف واپس لانے کے لیئے دن رات کوشش کی اور کر رہا ہوں کسی سے کوئی مالی مدد نہ مانگتا ہو اور نہ قبول کرتا ہوں؟ صرف اتنا فرق ہوا کہ کبھی کبھی غلطی سے اس کے حق میں ایک آدھ آواز کہیں سنائی دے جاتی ہے اور بس؟ جبکہ میں نے سیرت پر گیارہ کتابیں لکھی ہیں اور مفت تقسیم کی ہیں جن میں حضور ﷺ کی مکمل سیرت پر کتاب“ روشنی ہرا کے نام سے اردو میں اور ویڈیو کی شکل میں اردو میں یو ٹیب پر امت کو مہیا کردی ہے۔ کل ملا کر ڈھائی سو کے قریب ویڈیو میری آواز میں موجود جو چا ہے انہیں جو کوئی چاہے استعمال کرے ؟ اسےمجھ سے پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے؟ انگریزی میں بھی ترجمہ جاری ہے جوکہ عالمی میں دو تہائی شائع ہوچکا۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ لوگ مفت میں بھی نہ پڑھنے تیار؟ نہ سنتے تیار؟ بہت سے مسلمانوں کو تو یہ تک معلوم نہیں ہے کہ تاریخ اور سیرت میں فرق کیا ہے۔ اوروہ یہ بھی نہیں جانتے کہ تاریخ پڑھنے کے لیئے ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ حضور ﷺ نے دنیا کو عمل کر کے دکھایا ہے لہذا سیرت مصطفیٰﷺ عمل کرنے کے لئیے اللہ سبحانہ تعالیٰ لازمی قرار دیدی ہے؟ جس کی حمایت میں قرآن کی بہت سی آیتیں موجود ہیں؟ اللہ ہمیں توفیق عطا فرما ئے(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY