نوبت بہ ایں جا رسید ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

0
476

شمس جیلانی

ہمارے پاس سعودی عرب سے چارخبریں ہیں ؟ تین اچھی ہیں اور ایک بری، پہلی اچھی خبر یہ ہے کہ شاہ سلمان بن عبد العزیز اتنے تھوڑے سے عرصے میں بے انتہا مقبولیت حاصل کرگئے اور وہ ان لوگو ں کی فہرست میں شامل ہوگئے جو دنیا میں مقبول ترین اور موثرترین ا نسان مانے جاتے ہیں۔ ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست کو ایسے خطابات پانے والوں سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ لو یہ بھی امتیازیوں میں شامل ہوگئے۔۔ جسے بھی نشان امتیاز ملتا ہے تو کہتے ہیں، اچھا تو آپ کو بھی امتیاز حاصل ہوگیا، وہ بھولا شخص خوش ہو جاتا ہے اور پھولے نہیں سماتا کہ مجھے مبارکباد مل رہی ہے؟ دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ اس مرتبہ حج بخیر و خوبی انجام پا گیا اور کوئی حادثہ نہیں ہوا ہم اس پر انہیں مبارکباد دیتے؟ مگر دے اس لیے نہیں رہے ہیں کہ ایران اور اس کے ہم عقیدہ دوسرے لوگوں کو حج کرنا مشکل کردیا گیا اور جس سے ہمارے نزدیک حج کا مقصد ہی فوت ہوگیا کہ یہ اس تسلسل عبادات کا سب بڑا رکن ہے جو اس بین الاقوامی اجتماع پر ختم ہوتا ہے؟ جبکہ ایسا کرنے والوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ کبھی وہ بھی اس دور سے گزرچکے ہیں کہ ان پر بھی ایسی ہی پابندی تھی اوراس وقت ان پر اور انکے بزرگوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی ؟پھر امام حرم کا یہ خطبہ اس پر کام کر گیا کہ سفر حج صرف عبادت کے لیے ہے اس دوران کوئی اور کام نہیں کرنا چاہیئے ۔ جو کہ صریحاً قر آن سے ٹکرا رہا ہے جس میں یہ کہاگیا کہ حج کے ساتھ اگر اللہ کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ہی یہ بات سورہ جمعہ میں بھی ہے کہ عبادت سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو؟ پھر حضور (ص) کااسوہ حسنہ دیکھا جا ئے تو؟ مساجد کا جو استعمال تھا وہی آج بھی ہونا چاہیئے۔ کیونکہ اسلام ایک دین ہے صرف مذہب نہیں ہے جو عبادت تک محدود رہے یہاں تو مومن کا ہر جائز فعل عبادت ہے۔جو لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ دین اور مذہب میں فرق کیا ہے؟ جبکہ دین کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان کا ہر فعل اسوہ حسنہ (ص) کے تابع ہو ، ایسے میں اس کاکوئی جزکسی وقت بھی کیسے علیحدہ ہوسکتا جو بھی ایسا کریگا اس کو اسوہ حسنہ (ص) سے دلیل نہ ملنے کی وجہ سے وہ اس کی اپنی ایجاد ہوگی؟ جسکو ایک چھوٹا سا حلقہ تو مان سکتا کوئی مخصوس گروہ مان سکتا ہے جو کہنے والے کا معتقد ہو،مگر تمام مسلمان من حیثیت القوم اسے تسلیم نہیں کر سکتے؟ تیسری اچھی خبر یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی طرح قرضہ پرقرضہ لینے اور اخراجات بڑھانے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے بجائے، اخراجات کم کرنے کی طرح ڈالی ۔جبکہ واحدبری خبر یہ ہے کہ امریکن کانگریس نے صدر ابامہ کا ویٹو شدہ بل پھر ویٹو کردیا،اب اس کے نتیجہ میں 911 کے سلسلہ میں سعودی عرب کے خلاف مقدمات امریکن عدالتوں میں چل سکتے ہیں۔

اچھی خبر کہیں سے بھی ہو اور کسی کے بارے میں ہو ہم ہمیشہ اسے نمایاں کرتے ہیں اور اگر وہ دیار ِمقدس سے ہو تو وہ ہمارے لیے نوراً علیٰ نور ہے ؟ اور بری خبر چھپاتے اس لیئے نہیں ہیں کہ اپنوں کی ہے تو دوسروں کی طرح چھپالیں، اوروں کی ہو تو ااچھالیں؟ کہ ہمیں حکم یہ ہے کہ “ا گراپنے خلاف بھی تو بھی ہو تو شہادت مت چھپاؤ“ کیونکہ اس سے دنیا وی نقصان تو یہ ہے کہ ظلم جنم لیتاہے۔ دوسرے مسلمان کی دنیا اور آخرت ہمیشہ ساتھ چلتی ہے لہذا بعد میں اسے دونوں جہان میں ذلیل ہونا پڑیگا ۔ ہمارے لیے سب سے اچھی خبر ہمارے مقتدر کالم نگار جناب محمد، عظیم آعظم کا اپنے فریضہ کے حج ادا کرنے کے بارے میں کالم ہے؟ جس کے لیے ہم تہہ دل سے ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ انہیں حج ِمبرور عطا فرمائے ( آمین) اور ان کی اپنے حج کے تجربہ کی روشنی میں جو تجاویز پاکستانی اور سعودی حکومتوں کو جو انہوں نے پیش کی ہیں وہ انتہائی معقول ہیں۔ ان پر دونوں حکومتوں کو غور کرنا چاہیئے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے انتہائی مہذب اور منظم قوم بنایا تھا اور اس کے نبی (ص) نے بھی تعریف کی تھی کہ “ ہماری صفیں فرشتوں جیسی ہوتی ہیں “ جوکہ ابھی تک ہیں لیکن اس کے اندر جو ہم میں سب سے ضروری تھا اللہ کے خوف سے ڈرنے والا دل “ وہ جز آجکل بالکل مفقود ہے اور کہیں دیکھنے کو بھی نہیں ملتا حتیٰ کہ اللہ کے گھر میں اور اس کے مہمانوں میں بھی نہیں؟ کیونکہ ہر جگہ طاقت کا استعمال ہماری فطرت ِ ثانیہ بن چکا ہے۔ عظیم صاحب نے بھی اسی کا رونا رویا ہے؟ کہ وہاں بھی جہاں ہر ایک کو خوف سے کانپنا چاہیے ،لوگ جتھے بنا کر اور طاقت کے زور پر سارے مناسک ِ حج ادا کرتے ہیں؟لہذا کمزور کی یہ قسمت میں ہی ہے کہ مسلمان ملکوں میں تو وہ دبا ہی رہتا ہے وہاں بھی جاکر دبا رہے؟ یہ اسکے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہاں جاکر بھی بھائیوں جیسا مظاہرہ دیکھ کر وہ اپنا دل خوش کرسکے، کیونکہ وہاں بھی جو حج کرنے جتھوں کی شکل میں آتے ہیں؟ وہ یہاں کی طرح وہاں بھی ً زیادہ اہم سجدہ گاہوں “ پر جاکر قبضہ کر لیتے ہیں“ اور جب تک چاہیں اس وقت تک اپنے ساتھیوں کو قضا ئے عمری ادا کرنے کی سہولت فراہم کیئے رہتے ہیں؟ انہوں نے گلہ کیا ہے کہ “عزیزیہ“ میں اکثریت کو ٹھہرایا جاتا ہے جہاں سے حجاج کرام روز آ ،جا بھی نہیں سکتے، اس لیے مشکل سے ہی انہیں موقعہ ملتا ہے ،اوپر سے دھکا پیل اتنی ہو تی ہے کہ کمزورآ دمی نہ“ حجر ِ اسود“ کو بوسہ دے سکتا ہے نہ “ حطیم“ اور نہ ہی “ ریاض جنہ“ میں سجدہ ادا کرسکتا ہے ۔ یہاں دومسائل ہیں۔ ایک تو دور ٹھہرانا دوسرے لوگوں کے دلوں میں اسلامی حمیت نہ ہونا؟ چونکہ عظیم بھائی نے حلال کی کمائی سے حج کیا ہے اس لیے دور ٹھہرائے گئے؟ اگر وہ اس کے برعکس قلم کی عزت کا سودا کرلیتے تواوروں کی طرح شاہی مہمان بن سکتے تھے، دوسرے اتنی رقم بھی کماسکتے تھے کہ“ وی آئی پی حج“ کرتے اورصحن ِ حرم میں ٹھہرتے ، پھر جتنی دفع چاہتے جاتے یا کمرے میں رہتے ہوئے ہی حرم کی زیارت کرتے رہتے ۔ جسکا ٹکٹ 31 ہزار امریکن ڈالر سے لیکر 20 ہزار ڈالر تک کا ہوتا ہے جو پاکستانی روپیہ میں بات کریں توکروروڑوں کی بات ہے؟ ورنہ حرم کے قریب غربا کاٹھہرنا اب ان کے بس سے باہر ہے جبکہ پہلے عام لوگ وہیں ٹھہرا کرتے تھے اوربڑے لوگ جواس وقت “ وی آئی پی تھے “اکلوتے فور اسٹار ہوٹل میں ٹھہر کر شوق پورا کرلیاکرتے تھے جو چار میل دور تھا ۔ کیونکہ اس وقت حرم کے اطراف میں صرف مسافر خانے تھے۔ جو کہ تمام دنیا کے والیان ریاست اور صاحب ِ ثروت لوگوں نے بنو ا رکھے تھے اور سارے کہ سارے وقف فی سبیل ا للہ تھے۔ جن کو گرا کر موجودہ حکمرانوں نے وہاں ہوٹل بنا دیئے ہیں تا کہ شہزادے بنانے والوں کے شراکت دار بن کر ان کے روزگار میں معاون اور عیش و عشرت کا باعث بنیں۔ اس کے بدلے میں جو ان لوگوں کی طرف سے معلم قابض تھے ان پر انہیں دور دراز مقام پر، انہیں کے نام پر پلاٹ الاٹ کردیے گئے جس پر انہوں نے اپنے نام سے بلڈنگیں کھڑی کرلیں جوکرائے پر اٹھتی ہیں؟ گھاٹے میں رہے صرف مستحقین جو کبھی حرم کے نزدیک مفت میں ٹھہرا کرتے تھے ابھی میلوں دور تیسرے نمبر اور دوسرے نمبر کے حجاج بن کرٹہرنے پر مجبور ہیں ۔ کاش شاہ سلیمان کو خیال آجائے اوروہ ان تمام رباطوں کی جگہ بنے ہوئے ہوٹلوںکو دوبارہ اپنی جیب سے معاوضہ دیکر پھر انہیں رباطیں بدلدیں جوا نصاف کا تقاضہ ہے؟ تاکہ معمر اور بیمار مگر غریب مسلمان مفت ٹھہر سکیں؟ کیونکہ اسلام میں ایک مرتبہ وقف فی سبیل اللہ ہونے کے بعد “سرکاری فقہ“ کے علاوہ اور کسی فقہ میں توڑا نہیں جا سکتا، چھینا نہیں جا سکتا؟ اور موجودہ شاہ جو اپنے اجداد کے برعکس جس مقبولیت کے حامل حالیہ سروے کے مطابق ثابت ہوئے ہیں اس پرعمل کرکے دائمی طور پر مقبول ہو جا ئیں گے ااور روز محشر “عادل بادشاہوں“ کے ساتھ عرش کے زیر سایہ ہونگے ؟ مگر سوچ لیں کہ شہزادوں کی کونسل خلاف ہوجائیگی ، پھر کیا ہوگا! رب جانیں؟

یہ مشورہ دینے کی ہمیں ہمت یوں ہوئی کہ انہوں نے نہ صرف اپنے اخرجات کم کیے ،بلکہ اپنے ایسے ڈیرھ سو کے قریب آفیسروں کی جو کہ وزیروں کے مساوی سمجھے جاتیں ہیں تنخواہیں کم کرکے بہتر ہزار ریال سے بیالیس ہزار ریال کر دیں ۔ اس مثال سے باقی دنیا کے لوگ جن میں وہ مقبول ہیں ان سے متاثر ہوکر اپنے یہاں سادہ زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے ۔ جیسے کہ پاکستان کے سیاستداں جنہوں نے حال میں گرانی کی وجہ سے اپنی تنخواہیں دگنی کی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ اسی حساب سے دست غیب بھی دراز کیا ہے؟

یہ تھیں اچھی خبریں اب آئیے آخری بری خبر کی طرف ؟ کہ حال میں بہت بڑی اکثریت نے امریکن کانگریس میں وہ بل ویٹوکردیا ہے جس کو صدر ابا ما نے شاہ کی اس دھمکی کے بعد ویٹو کیا تھا کہ وہ اپنے سارے اساسے امریکی بنکوں سے نکال لیں گے جو انہوں نے وہاں مال لگا رکھا ہے یا جمع کررکھا ہے؟ مگر یہ تو بتائیں کہ آپ کو نکالنے کون دیگا ؟ اسی لیے تو بزرگ کہہ گئے ہیں کہ سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنا چاہیے ؟ مگر رکھتے کیسے نہیں کہ کسی کہ احسان کے بدلہ ے میں کچھ تو کرنا ہی ہو تاہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY