اگر کوئی میری رہنمائی کر سکے تو۔ طارق بٹ

0
86

۔۔۔ 80فیصد 2نمبر 20 فیصد مشکوک ۔۔۔ اپنا بچپنا یاد آ رہا ہے وہ بچپنا جس میں ہم سے سینکڑوں کے حساب سے حماقتیں سرزد ہوتی تھیں شاید ان میں سے بہت ساری ہم جان بوجھ کے بھی کرتے ہوں کچھ دانستہ اور کچھ نا دانستہ ۔ مگر ہمارے بڑے بزرگ اور اساتذہ ہماری ان حماقتوں سے سرف نظر کرتے رہے درگزر کرتے رہے ہماری بھلائی اور تربیت کے پیش نظر اتنا ضرور کہتے آئیندہ محتاط رہنا خاص طور پر گفتگو میں احتیاط کی تلقین ہوتی کہ پہلے بات کو تولو پھر بولو کہ چاقو سے لگا زخم تو وقت کے مرہم سے مندمل ہو جاتا ہے مگر زبان یا الفاظ سے دیئے گئے گھاو کبھی نہیں بھرتے۔ ہم اکثر سوچا کرتے کہ بولنے سے پہلے تو لا کیسے جا سکتا ہے کیا الفاظ کا بھی کوئی وزن ہوتا ہے جنہیں کسی ترازو پہ رکھ کے تو لا جا سکے وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھ میں آئی کہ وزن تو ہوتا ہی الفاظ کا ہے۔ یہی تو وہ جنس ہے جسے بن مول کہا جا سکتا ہے آزما کے دیکھ لیا دھیمے لہجے اور میٹھی زبان سے کئی بار کروڑوں اربوں کے مالک انسان کو اپنا ہمنوا بنا لیا اور کبھی الفاظ کی کڑواہٹ کی بدولت ایک عام سے بندے سے اتنی سننی پڑیں کہ الامان و الحفیظ ۔ کوشش حتی الوسع یہی ہوتی ہے کہ اپنے حواس کو قابو میں رکھا جائے گو کہ یہ کافی مشکل کام ہے۔ اس لئے کہ آپ کے اردگرد بہت ساری شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنی گفتگو یا حرکات و سکنات سے ہر لمحے آپ کو ورغلاتی رہتی ہیں اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کتنے صابر ہیں ۔
میری بات چھوڑیں میں تو ایک عام سا آدمی ہوں نہ تین میں نہ تیرہ میں ۔ بات کو بولنے سے پہلے اگر تو لا نہ بھی تو سوائے اس کے کتنا نقصان ہو جائے گا کہ کوئی ایک آدھ اللہ کا بندہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا اور بعد میں وہ الفاظ یاد کر کر کے مجھے ندامت ہوتی رہے گی ۔ بات یا ذکر تو ان کا ہونا چاہیے جو ہمارے رہبر و رہنما ہیں جنہوں نے اپنا آپ ہماری رہبری اور رہنمائی کے لئے وقف کر رکھا ہے اس نفسا نفسی کے دور میں یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کوئی خالصتا قوم کی رہبری اور رہنمائی کے لئے اپنا آپ وقف کر دے۔ اب اگر قوم کے یہ رہبر اور رہنما بھی بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو تولنے کے عمل سے نہ گزاریں تو قوم کا جو حال ہونا چاہیے اس کا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
ابتدا کیجئے محترم ذوالفقار علی بھٹو سے کہ آپ بھی ہمارے رہبر و رہنما تھے آپ نے ہماری ایسی تربیت فرمائی کہ خود جس ایوب خان کی کابینہ میں وزارت کے مزے لئے اس سے علیحدگی کے بعد ہم سے اسے اس جانور سے تشبیہ دلوائی جسے ہم گھروں کی رکھوالی کے لئے رکھتے ہیں ۔ مزید انتہائی نستعلیق اور نفیس ائر مارشل اصغر خان کو بنا تولے آلو تک بولے ۔ اصغر خان بھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے اور کوہالہ پل پر پھانسیوں کی باتیں کرنے لگے۔ ایوب رخصت ہوئے تو جنرل یحیی خان کو جنرل رانی کے القابات سے نوازا جانے لگا۔ اور ترانہ اور قومی ترانہ کی صدائیں بلند کی جانیں لگیں معصوم قوم کی جانب سے بلند کی جانے والی یہ صدائیں بھٹو صاحب کی تربیت کا نتیجہ تھیں ۔ مذہبی سیاسی رہنماؤں کو حلوہ خور ، پیٹو اور دیگر ناقابل تحریر القابات سے بھی اسی دور میں نوازا گیا ۔تھوڑا سا سکون ایسے القابات سے جنرل ضیاءالحق کے دور میں نظر آیا مگر اس دور میں سیاسی اور صحافتی برادری کو جس جبر و تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی بھی کسی اور دور میں مثال نہیں ملتی ۔
اس کے بعد تواتر کے ساتھ دو بہن بھائی اقتدار حاصل کرتے رہے اور اپنی خدمات اس بھولی قوم کی رہبری اور رہنمائی کے لئے مسلسل پیش کرتے رہے محترمہ بے نظیر بھٹو اگرچہ اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں نازیبا زبان استعمال نہیں کرتی تھیں مگر قوم کی تربیت کے پیش نظر عدالت کے فیصلوں کو چمک کا نتیجہ اور عدالتوں کو کینگرو کورٹس کہہ کر اچھی تربیت فرمائی مزید برآں اپنی جماعت کی دیگر قیادت کو انہوں نے بھی کھلا چھوڑے رکھا اور انہوں نے مخالفین کے خوب لتے لیئے ۔ دوسری طرف بھائی جان نواز شریف بھی محترمہ کی پالیسی پر گامزن رہے اور اپنی زبان کو تو قابو میں رکھا مگر اپنے اس وقت کے دست راست شیخ رشید کو کھلا چھوڑے رکھا اور شیخ رشید نے نہ تو قومی اسمبلی کے فلور کے تقدس کا خیال رکھا اور نہ ہی مجمع عام میں موجود ماوں بہنوں اور بیٹیوں کی موجودگی کا کوئی احساس کیا اس شخص نے تو اس بات کو بھی کوئی اہمیت نہ دی کہ جس شخصیت کے بارے میں وہ غلیظ ترین زبان استعمال کرتا ہے وہ ایک خاتون ہے شیخ رشید کے بکے ہوئے گھٹیا الفاظ میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں مگر ان الفاظ کی بدبو پورا پاکستان آج بھی محسوس کر سکتا ہے ۔
محترمہ تو سچے جہان چلی گئیں ہماری تربیت کا فریضہ محترم آصف زرداری کے ذمے لگا گئیں اور انہوں نے شرجیل میمن، امداد پتافی اور ان جیسے چند اور ترجمان رکھ لئے دوسری طرف محترم نواز شریف نے اپنی زبان کو زحمت سے بچانے کے لیے خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، عابد شیر علی ، دانیال عزیز اور چودھری طلال جیسوں کی ایک فوج بھرتی کر رکھی ہے اور یہ سارے مل کے اپنا دن رات اس معصوم قوم کی تربیت کے لئے ایک کیئے ہوئے ہیں اور قوم ہے کہ مسلسل اس تربیت سے مستفید ہوتی چلی جا رہی ہے ۔قوم اچھی بھلی تربیت کی منازل طے کر رہی تھی کہ یکایک محترمی و مکرمی عمران خان نے رہبری اور رہنمائی کے اکھاڑے میں چھلانگ لگا دی سوچا ہوگا یہ دیسی لیڈر اگر رہنمائی فرما سکتے ہیں تو میں کیوں پیچھے رہوں میں نے تو خود براہ راست آکسفورڈ جیسے عظیم ادارے سے تربیت حاصل کی ہے قوم کو میرے تجربات سے بھی تو مستفید ہونا چاہیے۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن “آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی ” برسر محفل، بھرے جلسوں میں شلواریں گیلی ہونے لگیں ۔ اوئے نواز شریف سے شروع ہونے والی تربیت اوئے DCO کیا شہباز شریف تیرا باپ لگتا ہے تک پہنچ گئی۔ میرے اس محترم رہنما نے یوں محسوس ہوتا ہے کہ بات کو تولنے والا ترازو اپنے اندر فٹ کروا رکھا ہے ادھر شیخ رشید یا ان جیسے کسی مشیر نے کان میں سرگوشی فرمائی ادھر ایک لمحہ ضائع کئے بغیر جناب عمران خان نے سامعین اور حاضرین کی تربیت فرما دی کون روک کے رکھے کون سوچتا اور الفاظ کو تولتا رہے ۔ اب آپ دیتے رہیں صفائیاں ۔
میرے یہ محترم رہنما تمام حدود پھلانگ گئے ہیں ارشاد فرمایا داڑھی والے 80 فیصد افراد دو نمبر ہوتے ہیں اور باقی 20 فیصد مشکوک ۔ اب کوئی بتلائےکہ ہم بتلائیں کیا داڑھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور امام کی امامت کی شرائط میں بھی شامل ہے نہیں معلوم کہ محترم عمران خان آج کل جن کی امامت میں نماز ادا فرما تے ہیں ان کا شمار 80 فیصد میں ہوتا ہے یا 20 فیصد میں ۔ اگر کوئی میری رہنمائی کر سکے تو میں ممنون رہوں گا۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY