سعودی عرب سے متعلق بیان، بشریٰ بی بی کے خلاف ایف آئی آر درج

0
775

سعودی عرب سے متعلق بیان دینے پربشریٰ بی بی کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایف آئی آر ڈی جی خان میں ٹیلی گراف ایکٹ 1885 کے تحت درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کی۔

بشریٰ بی بی کا سعودی عرب سے متعلق متنازع بیان پاکستان میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر شدید ردِعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قوم سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈا اور ملکی سلامتی سے کھیلنے والوں کے ہاتھ توڑ دے گی۔

جمعے کو تونسہ میں کچھی کینال منصوبے کے افتتاح کے موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور بدلے میں پاکستان سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے جمعرات کو جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ عمران خان جب ننگے پاؤں مدینہ گئے تو جنرل باجوہ سے کہا گیا کہ یہ کسے اُٹھا لائے ہو، ہم یہاں شریعت ختم کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں۔

‘یہ پاکستان کے لیے خطرناک ہے’

چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ پاکستان میں جو بھی حکومت ہو۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جب بھی ہم اپنے مسائل سعودی عرب کے پاس لے کر جاتے ہیں، وہ ہماری مدد کرتے ہیں۔ لہذٰا اس قسم کے بیانات پاکستان کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

حافظ طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ کچھ عرصے سے پاکستان میں سعودی عرب کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ شریعت کا نفاذ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے اس بیان کے ذریعے وہاں موجود لاکھوں پاکستانیوں کو مشکل میں ڈالا گیا ہے۔ جب ایسی الزام تراشی ہو گی تو اس کے اثرات ہوں گے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے امریکہ کے خلاف نعرے لگائے جاتے تھے اور اب سعودی عرب نامنظور کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر جنرل باجوہ کو اس معاملے پر خود تردید کرنی چاہیے۔

عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے بارے میں اپنے بیان میں کچھ نہیں کہا، حکومت کے لوگ ان کے بیان کو توڑ موڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے سعودی عرب کا نام بھی نہیں لیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY