کون ہے زینب کا قاتل کون ہے قصور وار کِس کو سزا دیں کون ہے سزا کا حق دار !! اگرھم اپنے اطراف میں دیکھیں تو ہر گھر میں ایک زینب ہے ؛ ہر گلی میں رہتی ہے زینب جو اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ڈر ڈر کے جیتی ہے کہ وہ محفوظ نہیں ہے گھر سے باہر تو کیا گھر میں بھی نہیں جو واقعہ زینب کے ساتھ ھوا وہ کوئ نئ بات نہیں ہے اگر آپ پاکستان میں ھونے والے ایسے حالات پر نظر دوڑائیں تو آپ کو بہت سی زینب بلکتی ھوئ ملیں گی کُچھ لوگ جلوس نکالتے ہیں کُچھ اپنی سیاست چمکاتے ہیں اور کُچھ ہر بات کا بلیم حکومت پر ڈالتے ہیں ھم یہ نہیں کہتے کہ حکومت وقت کا یہ فرض نہیں کہ وہ اپنی رعایا کی حفاظت کرے ؛ بِلکُل ہے اور اولین فرض ہے !! لیکن ھم کیا خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ھم اپنی ذمہ داریاں کہاں تک نبھاتے ہیں ؟ اور اگر نہیں تو کیوں بہت افسوس ھوتا ہے جب یہ بات سُنتے ہیں کہ کیا یورپ امریکہ وغیرہ میں ایسا نہیں ھوتا تو پھر ھم وہاں پر رہنے والے پاکستان کے بارے میں کیوں غلط باتیں کرتے ہیں ۔
ضرور ھوتا ہے دُنیا اچھائ اور بُرائ دونوں سے مل کر بنی ہے لیکن کُچھ فرق ہے ۔۔۔۔ پہلا اور بڑا فرق یہ ہے کہ ھم دعویٰ کرتے ہیں کہ ھم ایک اسلامی ریاست ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اِن مُلکوں میں جب ایسے واقعات ھوتے ہیں تو مجرم کو سزا بلا امتیاز دی جاتی ہے جس میں سول سوسائٹی اور اتھارٹی مل کر کام کرتے ہیں ھم میں سے کوئ بھی مُجرم کی پشت پناہی نہیں کرتا ۔ بہت سارے مُجرم اپنے ہی گھر والوں کی مدد سے پکڑے جاتے ہیں ۔ زینب کے اور ایسے دوسرے بچوں کی مُجرم ھماری سوسائٹی بھی ہے اُس طرح کے واقعات کی بہت سی وجوہات ھوتی ہیں ۔ اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ھم بطور والدین اپنے بچوں میں بھید بھاؤ کرتے ہیں جیسے لڑکوں کو چھوٹ دے دیتے ہیں وہ جو بھی کریں مائیں اور بہنیں خود اُن کی بُرائیوں پر پردہ ڈالتی ہیں وہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں کرت کرتے بہت دور نکل جاتے ہیں
دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ھم لوگ اپنے بچوں سے کُھل کر بات نہیں کرتے ؛ والدین کو چاھیۓ وہ چھوٹے بچوں میں اپنی حفاظت کے پہلو پر بات کریں ؛ مثال کے طور پر بچوں کو اس بات سے روشناس کروائیں کہ کوئ بھی شخص اگر اُن کے جسم کے خاص حصوں کو چھونے کی کوشش کرے تو وہ فوراً والدین کو بتائیں کیونکہ یہ اُن کے جسم کے پرائیویٹ حصے ہیں جن کو کوئ نہیں چھو سکتا اپنے بچوں کی حرکات کا علم رکھیں کوئ بھی بات اگر وہ اپنی عادت کے مُطابق نہ کریں تو اُن سے بات کریں اُن سے پوچھیں کہ کیا اُنہیں کوئ پریشانی ہے اگر والدین اتنی سوجھ بوجھ رکھ لیں گے تو ھم بہت ساری زینب اور بہت سارے زبیر کو بچا سکیں گے بخُدا اپنے بچوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر مت چھوڑیں ؛ ان کو دُنیا میں آپ لاۓ ہیں تو ان کی ذمے داری بھی آپ کی ہے کوئ حج کوئ عمرہ بچوں کو دوسرے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کرنا ضروری نہیں اپنی ساری ذمے داریاں پوری کرنا آپ کا فرض ہے اور آپ کا حج اور عمرہ بھی تبھی قبول ھوتا ہے جب آپ اپنی تمام ذمے داریاں نِبھا چُکے ھوں ؛ اپنے پھولوں کو خود سینچیں اُنہیں مُرجھانے سے بچائیں سوال یہ بھی ہے کہ یہ مُجرم ہیں کون ؛
آخر کِسی کے تو بیٹے یا بھائ ہیں آسمان سے نہیں ٹپکے ان کا گھر بار ماں باپ سب ہیں تو وہ ماں باپ یا عزیز اگر ایسے مُجرموں کو پناہ دیں گے تو وہ بھی اُس میں شریک ہیں بخُدا آنکھیں کھولیۓ اور خود کو اُن کی جگہ رکھ کر سوچیں جن کے معصوم اور بے گُناہ پھولوں کو بے دردی سے کُچل دیا گیا ہے ھم مانتے ہیں کہ مُشکل کام ہے لیکن سچ کا راستہ آسان کھبی نہیں ھوتا ھمیشہ مُشکل رہا ہے خُدا ھم سب کو اپنا مُحاسبہ کرنے کی توفیق دے ۔۔۔۔ اِلٰہی آمین ۔۔۔۔۔ اگر ھم نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو ھم تباھیوں کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے
نوشی قیصر












