کشمیر پر سیاسی جماعتیں متفق مگرکافی نہیں۔ماہ پارہ صفدر

0
470

اسلام آباد میں حکومت اور خصوصاً افواج پاکستان کے لیے یہ امر یقیناً باعث اطمنان ہوگا کہ جب بات بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ہو تو اس معاملے میں ملک کی لگ بھگ سب ہی سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ قومی اہمیت کے معاملات خصوصاً کشمیر کے حوالے سے ہم سب بیک آواز ہیں۔ ان کا کہنا تھا بھارت اپنی جارحیت سے کشمیر کی تحریک  کو کچل نہیں سکتا۔انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسلہ کشمیر کو موثر اور پھر پور انداز میں اجاگر کیا۔ اور یہ کہ اس سے مسلہء کشمیر کو ایک  نئی زندگی ملی ہے۔

اس سے قطع نظر کہ اس مسلےء کو زندہ رکھنے کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیری اپنی زندگیاں کھو چکے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ وزیر اعظم یہ کس نئی زندگی کی بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ حقائق جو کچھ بتارہے ہیں وہ ان کے دعویٰ سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم کے جنرل اسمبلی سے خطاب سے لیکر آج تک  کسی عالمی رہنما کی جانب سے کشمیریوں کے حق خود ارادی کی حمایت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، گزشتہ اٹھاسی دن سے جاری کرفیو اور بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں کی اندھا دھند ہلاکت اور نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کے چھروں سے اندھا اور لہو لہان کرنے واقعات کے باوجود انسانی حقوق کی برملا پامالیوں پر کسی نے اظہار تشویش تک  کرنا گوارا کیا۔
جبکہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے پہلے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر اڑی میں بھارتی فوج کے کمیپ ہر حملے میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تو عا لمی برادری کی جانب سے مذمتی بیانات کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے پر بھارت کے ساتھ اظہار بیکجہتی بھی کیا جاتا رہا۔یہانتک کہ جب بھارت نے پاکستان کی سرحد کے انر اکر سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا، اس پر کسی ملک نے پاکستان کی حمایت میں بیان نہیں دیا۔

اس منظر نامے میں پاکستان کی حکومت اور ملک کے مقتدر اہلکاروں کو محض لفاظی اور زبانی جمع خرچ کرنے کے بجائے اپنی خارجہ پالیسی کی ان کمزوریوں پر نظر ڈالنی چاہیے۔ جن کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ پاکستان سفارتی بساط پر تنہا نظر آتا ہے، بلکہ کشیریوں کی آواز بھی دب کر رہ گئی۔ بھارت اپنی سفارت کاری میں کامیاب ہوا ہے جس میں کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بقول بھارت کے پاکستان کی جانب سے ہونے والی دراندازی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ حال میں جنوبی ایشا کی تعاون تنظیم سارک کے رکن مما لک کی جانب سے پاکستان میں نومبر میں ہونےسربراہ اجلاس کا بائیکاٹ اس کا ایک  منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ پاکستان کو بیرونی دنیا کو یہ یقین بھی دلانا ہوگا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سیاسی حکومت ہی تشکیل دیتی ہے۔ مگر ایسا ہونا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا، کم از کم کچھ برسوں تک، جبتک پاکستان میں سول جمہوری حکومت کی جڑیں گہری اور ملک کی سیکورٹی پالیسی پر اس کی گرفت مضبوط نہیں ہوتی۔

SHARE

LEAVE A REPLY