ہم نے گزشتہ مضمون میں کچھ اور پہلو دکھائے تھے جو مسلمان ہونے کی وجہ سے ان پر ہم سب کو عمل کرنا ضروری ہے۔ جن میں انسانوں کے علاوہ جانوروں، پرندوں اور درختوں تک کے حقوق شامل ہیں۔ کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ جو خالق ہے ہمیں سب کچھ بتائے اور موحولیات کے سلسلہ میں کوئی ہدایت نہ دے، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں یوں ہی چھوڑ دے جن کے بغیر زندگی ممکن نہ ہو؟لہذ اس نے بتایا ہے کہ درخت اگانا جو پھلدار نہ بھی ہوں سایہ دینے والے ہوں وہ بھی صدقہ جاریہ ہیں اور جب تک وہ باقی رہیں گے اسوقت تک لگانے والے کو ثواب ملتا رہے گا۔جبکہ ان کو بلا ضرورت کاٹنا منع ہے۔ مگر برا ہو جہالت کا، ہم نے دنیا بھر میں جنگلات زیادہ تر ختم کر دیے۔ اب صرف وہیں رہگئے ہیں جہاں انسان کم ہیں؟ کیو نکہ درختوں کا سب سے بڑا دشمن انسان ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دیہاتوں میں جس چرواہے کے ہاتھ میں دیکھیں تو ایک کلہاڑی ہوتی ہے اور وہ ہر نوزائیدہ پودے کو وہ اس سے مار کر گراتا ہوا چلا جا تا ہے تاکہ اس کی بکریوں کو چرنے میں دقت نہ ہو۔ ۔حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں بھی اپنا چارہ خود ضرورت کے مطابق حاصل کرنے کی صلا حیت دی ہو ئی ہے اور وہ اپنے دو پیروں پر کھڑے ہو کر پودے کو زندہ رکھ کر اس کی کونپل خود چر سکتی ہے۔کیا آپ نے کبھی کسی منبر سے اس پر بھی وعظ سنا !کہ درخت لگاؤ، کاٹونہیں، ورنہ زمین پر انسانی زندگی ناممکن ہو جا ئیگی؟ چلئے اسکو کہاں تک روئیں گے۔ کیونکہ جب سے مسلمانوں نے حصول علم کا حکم پسِ پشت ڈالا ہے ،دین ملا اور مسٹر کے درمیان تقسیم ہوکر رہ گیا ہے ۔جو اس سے پہلے ایک تھا اور عالم تمام علومِ قدیم اور جدید دونوں کو جاننے والے کو کہتے تھے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ جنہیں ماحولیات جیسے دوسرے علوم آتے ہیں انہیں مذہب کی ۱لف اور“ ب“ نہیں آتی اور جنہیں مذہب آتا ہے انہیں ماحولیات جیسے دوسرے علوم نہیں آتے؟ جب تک یہ تقسیم جاری رہے گی یہ مشکلات باقی رہیں گی اور مخلوق اسلام سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکے گی ! اس کے ذمہ د ار ہم سب ہو نگے۔ اس لیے کہ ہم میں سے ہر ایک کووہی ذمہ دی گئی چاہیں وہ مولوی صاحب ہوں یا ،مسٹر کہ علم حاصل کرو اور جو کچھ حاصل کرو وہ دوسروں تک پہنچا ؤ بھی اس پر اجارہ داری قائم مت کرو؟ یہ حضور(ص) نے کہیں نہیں فرمایا کہ یہ کام صرف علماء ہی کریں گے؟ اور کوئی نہ کرے۔ جس وقت یہ حکم حضور (ص) نے جاری فرمایا اس وقت سوا لاکھ کامجمع تھا۔ جبکہ ان میں فقہا کی تعداد صرف سات تھی؟ اورارشاد یہ تھا کہ“ جو میرا خطبہ یہاں سن رہے ہیں وہ انہیں پہونچا دیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں اور جو ان کے بعد آئیں ان کو وہ پہونچا دیں جو بعد میں آئیں۔مطلب یہ تھا کہ یہ لا منتہی سلسلہ رکنے نہ پا ئے۔ جبکہ اس سے پہلے وہ (ص)یہ بھی حکم دے چکے تھے کہ۔ “کوئی اس کا انتظار نہ کرے کہ جب وہ عالم اور فاضل ہو جا ئے جبھی علم پہچانے کا فریضہ انجام دے، بلکہ حکم یہ تھا کہ جس کو بھی جہاں سے جو کچھ علم ملے آگے پہونچا دے چاہیں ایک ہی آیت کیوں نہ ہو“ اور ایک حدیث میں یہ فرمادیا کہ وہ فلاح پاگیا ! جب صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ کون؟ تو فرمایا وہ جس کو اللہ نے علم دیا اس نے اس کی ر اہ میں تقسیم کیا ، جس کو اللہ نے مال دیا وہ اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور وہ جس کو قناعت عطا فرما ئی (متفق علیہ) مگر بد قسمتی یہ کہ ا ن کی تعداد بعد میں صرف گیارہ ہی رہ گئی !نہ جانے کیوں اور کس کے حکم سے؟ کیونکہ ہر مفسر قرآن و حدیث یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ کہ “ساتوں فقیہ اور چاروں آئمہ کی اس مسئلہ پر رائے یہ ہی ہے“۔ باقی وہ اربوں عالم جو چودہ سو سال میں پیدا ہوئے وہ کہاں گئے ان کی آراء کہاں ہیں اور نہیں ہیں تو کیوں نہیں ہیں؟ کسی کو معلوم نہیں؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اتباع کا حکم صرف اور صرف رسول (ص) کا دیا ہے اور ان کے سوا اور کسی نے کہابھی نہیں کہ میرا اتباع کرو؟ پھر یہ قدغن آئی کہاں سے ؟ اس کی تحقیق آؤ سب مل کر کریں؟ جب تک پتہ نہ چلے، ہم اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہیں؟ اور اگلی قسط سے ہم آگے بڑھتے ہیں کہ ہمیں کیا ہدایات طرز معاشرت کے بارے میں عطا ہوئی ہیں جسے آجکل ہم نے بالکل پسِ پشت ڈالا ہوا ہے کہ کیسے رہیں سہیں، کیسے ایک دوسرے کو پکاریں، کیسے ایک ساتھ کھائیں پئیں ، اٹھیں بیٹھیں اور ہمارا لین دین کیسا ہو ۔جس سلسلہ میں قر آن میں تمام واضح احکامات با لتفصیل موجود ہیں !جونہیں ہیں ان کی وضاحت حضور(ص) نے فرمادی ہے جو کہ قیامت تک ہماری ہدایت کے لیے کافی ہے؟ جبکہ چار مندرجہ ذیل جز اور ایک پوری آیات کل پانچ آیات قرآن میں صرف ا نہیں(ص) کے لیئے ہیں کسے اور کے لیے نہیں کہ “ اے نبی! کہدیجئے کہ جو مجھ سے محبت کے دعوے دار ہیں وہ آپکااتباع کریں( آل عمران آیت ٣١) ، اوریہ کہً یقیناً تمہارے لیئے رسول اللہ کے کے اسوہ حسنہ میں بہترین نمونہ (موجود) ہے(سورہ الاحزاب آیت ٢١) نہ ہی یہ اپنی خوا ہش سے کچھ فرماتے ہیں(لنجم آیت٣)یہ تو وحی ہے جو اتاری جاتی ہے (النجم آیت ٤ )جو تم کو پیغمر یہ دیں لیلو جس سے منع کریں رک جاؤ(الحشر آٰیت ٧) (باقی آئندہ)













