کسی جماعت کی سرپرستی کرنا یا دیوار سے لگانا فوج کا کام نہیں، آرمی چیف

0
302

نیشنل ایکشن پلان عمل درآمد اجلاس کے موقع پر ایک وفاقی وزیرنے آرمی چیف سے کہا تاثر ابھر رہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو سیاسی دھارے سے باہر کیا جا رہا ہے۔اس کو اتنا کارنر نہ کیا جائے کہ کوئی اور الطاف حسین پیدا ہو جائے۔

آرمی چیف نے دوٹوک اور واضح طور پر کہاکہ کسی جماعت کو بنانا، سرپرستی کرنا یا کسی جماعت کو توڑنا یا دیوار سے لگانا فوج کا کام نہیں ہے۔کراچی میں آپریشن سیاسی قیادت کے تقویض کردہ متفقہ مینڈیٹ اور قانونی دائرے کے اندر رہ کر کیاجارہاہے۔

اعلی سطح ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاوس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کےلیے خصوصی اجلاس شروع ہونے سے پہلے اور اجلاس کے دوران کراچی آپریشن سے متعلق بھی کھل کر بات کی گئی۔

ذرائع کاُکہناہے کہ اس حوالے سے پہلے غیر رسمی طور پر ایک وفاقی وزیر نے آرمی چیف راحیل شریف سے گفتگو کے دوران کہاکہ تاثر ابھر رہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو سیاسی دھارے سے باہر کیا جا رہا ہے۔

فاروق ستار رکن قومی ا سمبلی اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ بھی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان اردو بولنے والی کمیونٹی کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ بعض افراد کی طرف سے شکایت ہےکہ اس آپریشن میں ایم کیو ایم پاکستان کو ہدف بنایا جارہاہے۔

ذرائع کاکہناہےکہ اس پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہاکہ وہ واضح طورپر یقین دلاتے ہیں کہ فوج کسی کو سپورٹ کر رہی ہے نہ کسی کی مخالفت،پارٹیاں بنانا یا توڑنا ہمارا کام نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ وہ جب سے آرمی چیف بنے ہیں انہوں نےفوج کو سختی سے غیر سیاسی رہنے کا حکم دیاہے۔ آرمی چیف سے نیپ عمل درآمد جائزہ اجلاس کےدوران وفاقی وزیر کی گفتگو میں وزیر اعلی سندھ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور کہاکہ کریمنلز کے خلاف ایکشن کے سب حامی ہیں۔

لیکن چاہتے ہیں کہ کسی ایک جماعت کے خلاف کارروائی کا تاثر نہ ملے، جس پر آرمی چیف نے کہا کہ ایسا تاثر نہیں ملنا چاہیے وہ اس حوالے سے سندھ فوجی قیادت سے بات کریں گے اور اس تاثر کو ذائل کرنے کا کہیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلی سندھ نے کہاکہ پاک سرزمین پارٹی کے قیام پر تاثر دیاگیاکہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے، جس پر آرمی چیف نے پھر واضح کیا کہ اگر کوئی ایسا تاثر دیتاہے تو یہ بلکل غلط ہے جماعتیں بنانا یا توڑنا ہمارا کام نہیں ہے

SHARE

LEAVE A REPLY