زینب قتل کیس کی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت ، جے آئی ٹی کے سربراہ محمد ادریس نے کیس کی رپورٹ پیش کر دی۔ کیس کے دوران دلائل دیتے ہوئے محمد ادریس نے کہا کہ جون 2015 سے اب تک یہ اس نوعیت کا آٹھواں واقعہ ہے ،اب تک کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زینب شام 7 بجے اپنے گھر سے قرآن پاک پڑھنے کیلئے نکلی تھی، انہوں نے کہا کہ زینب اپنی خالہ کے گھر جا رہی تھی جو اس کے گھر سے چند سو میٹرز کی دوری پر ہے ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ معمول کے مطابق زینب اپنے بھائی کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے کیلئے جایا کرتی تھی مگر اس روز اس کا بھائی اس کے ساتھ نہیں تھا ۔ زینب وقت پر گھر واپس نہ آئی تو گھر والوں کو تشویش ہوئی جس پر اس کی تلاش کا کام شروع کیا گیا اور اسکے بعد 9:30 پر پولیس کو 15 پر اطلاع دی گئی ۔ محمد ادریس نے بتایا کہ زیادتی اور قتل کے آٹھ واقعات تین تھانوں کی حدود میں پیش آئے اور پولیس کو کیس میں ملنے والے ڈی این اے سیمپل کی رپورٹ کے مطابق ان تمام واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY