خاقان عباسی , امریکہ کی طرف سے عسکری کارروائی کا کوئی خطرہ نہیں

0
61

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف عسکری کارروائی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یہ بات انھوں نے پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2001ء میں امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے وقت اگر پاکستان میں جمہوری حکومت ہوتی تو ان کے بقول آج صورتحال مختلف ہوتی۔

وہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں در آنے والے حالیہ تناؤ کے تناظر میں بات کر رہے تھے جو یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹر پر پاکستان کے لیے سخت زبان استعمال کرنے اور پھر پاکستان کے لیے عسکری امداد معطل کرنے سے مزید بڑھا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر مبینہ طور پر واقع عسکریت پسندوں خصوصاً حقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے کیونکہ یہ دہشت گرد بدستور افغانستان میں مہلک حملے کرتے آ رہے ہیں۔

لیکن پاکستان اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے اپنے ہاں دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں کرتے ہوئے یہاں سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے اور اگر امریکہ کے پاس کوئی قابل عمل انٹیلی جنس معلومات ہوں تو وہ فراہم کرے۔

امریکی مطالبات میں آنے والی شدت کے تناظر میں ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے کہ امریکہ اپنے طور پر پاکستان میں کسی طرح کی فوجی کارروائی کر سکتا ہے جیسی کہ اس نے دو مئی 2011ء کو القاعدہ کے ایبٹ آباد میں روپوش راہنما اسامہ بن لادن کے خلاف کی تھی۔

لیکن پاکستان کے حکومتی اور عسکری عہدیدار ایسے خدشات کو رد کر چکے ہیں۔

شدید کشیدہ تعلقات کے باوجود حالیہ اعلیٰ سطحی دو طرفہ رابطوں میں باہمی تعاون اور اعتماد کو بڑھانے پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔

رواں ماہ ہی امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر بات کی تھی جس میں امریکی جنرل نے بتایا تھا کہ ان کا ملک پاکستان میں کسی بھی یکطرفہ کارروائی کا نہیں سوچ رہا اور وہ افغانستان کے خلاف پاکستانی سرزمین استعمال کرنے والوں سے نمٹنے میں پاکستان کا تعاون چاہتے ہیں۔

ایسے ہی خیالات کا اظہار امریکی نائب معاون وزیرخارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے دورہ پاکستان کے دوران عہدیداروں سے ہونے والی ملاقاتوں میں کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY