چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نےکہا ہے کہ نیب کسی سے انتقام پر یقین نہیں رکھتا ہے، افسران کسی دباؤ اور سفارش کو خاطر میں نہ لائیں، اپنے فرائض شواہد،شفافیت اور قانون کے دائرے میں سر انجام دیں۔

نیب ہیڈکوارٹرز میں اجلاس کے بعد جاری اعلامیےکے مطابق چیئرمین نیب وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کامران مائیکل کے خلاف اختیارات کے ناجائزاستعمال کی جانچ پڑتال کی ہدایت کردی ۔

چیئرمین نیب نے زیرتفتیش پاناما اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں سے متعلق پیشرفت کاجائزہ لیتے ہوئے 435 آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ جلد از جلد لے کر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

چیئرمین نیب نے ملتان میٹرو بس پراجیکٹ اور 56 پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کا ریکارڈ نہ ملنے کا سخت نوٹس لیااور چیف سیکریٹری پنجاب سے متعلقہ 4 کمپنیوں کا ریکارڈ لینے کی بھی ہدایت کردی ہے۔

اجلاس میں سابق چیئرمین ریلوے عارف عظیم کےخلاف شکایات کی بھی جانچ پڑتال کی ہدایات دیدی گئیں۔

اجلاس میں این ٹی ایس کے خلاف مبینہ بدعتوانی کی انکوائری اورپیرا گون سٹی لاہور، ایڈن ہاوسنگ لاہور کی انتظامیہ کے خلاف انکوائری منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اجلاس میں چیئرمین نیب نے مقدمات میں اب تک کی پیشرفت پر عدم اطمینا ن کا اظہار کیا اور کہاکہ اب سالہاسال تک مقدمات نہیں چلیں گے،اب انکوائریوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے یہ بھی کہا کہ نیب کا کسی سیاسی پارٹی اور فرد سے کوئی تعلق نہیں، ہم احتساب سب کےلیے کی پالیسی پر عمل ہو گا،ملک کا ہر شخص نیب کی طرف دیکھ رہا ہے۔

ان کا کہناتھاکہ چیئرمین کا منصب سنبھالنے کے بعد 43 مقدمات کی منظور دی ،جن میں 22 مقدمات کی جانچ پڑتال، 17 میں انکوائری اور 4 انویسٹی گیشن شامل تھی

SHARE

LEAVE A REPLY