نیو جرسی کے میئر سمیت 12 امریکی مسلمانوں کا ایک گروپ امریکی محکمہ انصاف کو عدالت میں لے جا رہا ہے تاکہ حکومت کو وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) کی خفیہ واچ لسٹ استعمال کرنے سے روکا جائے جس کے بارے میں ان کے خیال میں انہیں نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے اپنا مقدمہ میساچوسٹس میں دائر کیا اور ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی اسکریننگ ڈیٹا سیٹ پر ہونے سے انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ میں ان کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔
وہ اسے شک کی بنیادپر عمر قید قرار دیتے ہیں۔فہرست میں شامل ہونا بہت ساری پریشانیوں کا باعث بنتا ہے۔ یہ عوام میں شرمندگی، مسلسل جاسوسی، سفر کے دوران پریشانی، نوکری سے انکار اور یہاں تک کہ یہ محسوس کرنے کا باعث بن سکتا ہے کہ ان کا اپنے ملک میں خیرمقدم نہیں ہے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ واچ لسٹ مسلمانوں کی ایک خفیہ فہرست کی طرح ہےجس میں 98 فیصد سے زیادہ لوگ مسلمان ہیں۔
پریشان کن بات یہ ہے کہ اگر کوئی فہرست سے باہر ہو جائے تو بھی مسائل ختم نہیں ہوتے۔
مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ نقصان ہمیشہ کے لیے رہتا ہےچاہے حکومت بعد میں فیصلہ کر لے کہ کسی کو فہرست میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔












