٭7 اکتوبر 1958ء کو پاکستان میں پہلا ملک گیر مارشل لاء نافذ ہوا۔

0
1444

وقار زیدی

پاکستان میں مارشل لاء کا نفاذ
٭7 اکتوبر 1958ء کو پاکستان میں پہلا ملک گیر مارشل لاء نافذ ہوا۔ یہ مارشل لاء صدر اسکندر مرزا نے نافذ کیا تھا اور بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان ملک کے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر مقرر ہوئے تھے۔
اکتوبر 1958ء تک ملک کے سیاسی حالات بد سے بدترین تک پہنچ چکے تھے۔ مرکز میں وزارتیں ٹوٹنا روز کا معمول بن چکا تھا۔ مغربی پاکستان میں ایک سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب اور مشرقی پاکستان میں اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر‘شاہد علی اسمبلی کے ارکان کے ہاتھوں قتل ہوچکے تھے۔
بقول ایوب خان ’’وہ لمحہ جس کا مدت سے انتظار تھا، آخر کار آن پہنچا تھا اور اب ’’ذمہ داری‘‘ سے جان چرانا ممکن نہیں رہا تھا۔‘‘
7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے‘ آئین کو منسوخ کرنے اور ملک میں مارشل لا نافذ کرکے ایوب خان کو اس کا منتظم اعلیٰ مقرر کرنے کا اعلان کردیا تاہم ملک کی صدارت بدستور اسکندر مرزا ہی کے پاس رہی۔
مگر ایوب خان مزید اختیارات چاہتے تھے چنانچہ 24 اکتوبر 1958ء کو انہیں ملک کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ ایوب خان نے اسی دن اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھایا اور نئی کابینہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کردیا۔ اس کابینہ میں جنرل ایوب خان کے علاوہ تین فوجی افسران لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان‘ لیفٹیننٹ جنرل واجد علی برکی اور لیفٹیننٹ جنرل کے ایم شیخ اور آٹھ سویلین وزرأ منظور قادر‘ ایف ایم خان‘ حبیب الرحمان‘ ابوالقاسم‘ حفیظ الرحمن‘ محمد شعیب‘ مولوی محمد ابراہیم اور ذوالفقار علی بھٹو شامل تھے۔
مگر ایوب خان اور اسکندر مرزا کے درمیان حائل خلیج مزید وسیع ہوتی گئی۔ تین دن بعد 27 اکتوبر 1958ء کو صبح کے وقت ایوب خان کی کابینہ نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھائے اور اسی دن رات دس بجے ایوب خان کی ایما پر تین فوجی جرنیلوں واجد علی برکی‘ اعظم خان اور کے ایم شیخ نے بندوق کے زور پراسکندر مرزا سے ان کے استعفے پر دستخط کروالیے۔ ملک میں طاقت کے تمام منابع جنرل ایوب خان کے اختیار میں آچکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر بخش جتوئی کی پیدائش
٭ سندھ کے مشہور ہاری رہنما اور شاعر حیدر بخش جتوئی 7 اکتوبر 1900ء کو ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ 1922ء میں انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے گریجویشن اور 1923ء میں آنرز کیا۔ بعد ازاں وہ سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوگئے اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے تک پہنچے۔1943ء میں حیدر بخش جتوئی نے سرکاری ملازمت کو خیرباد کہا اور ہاریوں کی تحریک میں شامل ہوگئے۔1946ء میں وہ سندھ ہاری کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1950ء میں ہاری کونسل نے ان کا مرتب کردہ آئین منظور کرلیا اور اسی برس ان کی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت سندھ نے قانون زراعت منظور کرلیا۔حیدر بخش جتوئی نے سندھ کے ہاریوں کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد میں زندگی کے سات برس جیل میں گزارے۔
حیدر بخش جتوئی ایک بلند پایہ شاعر تھے۔ برصغیر پاک و ہند کی جدوجہد آزادی پر لکھی گئی ان کی نظم جو آزادی قوم کے نام سے شائع ہوئی تھی‘ ان کی شاہکار نظم سمجھی جاتی ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں دریا ھ شاہ‘ تحفہ سندھ‘ ھاری گیت‘ ھاری انقلاب اور سندھ پیاری شامل ہیں۔
1969ء میں ان پر فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث وہ صاحب فراش ہوگئے۔ 21 مئی 1970ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔
حیدر بخش جتوئی کو سندھ کے عوام نے ’’بابائے سندھ‘‘ کا خطاب عطا کیا تھا اور وہ ہر طرح سے اس خطاب کے اہل تھے۔2000ء میں ان کی وفات کے 30برس بعد حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز کا تمغہ عطا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاک فوج کے سربراہ ۔ جنرل پرویز مشرف
(سات اکتوبر 1998 تا اٹھائیس نومبر 2007)
جنرل جہانگیر کرامت کی سبک دوشی کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے منگلا کور کے کمانڈر پرویز مشرف کو دو جرنیلوں اوپر لیفٹٹنٹ جنرل علی قلی خان اور خالد نواز خان پر سپر سیڈ کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔
جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ اور انھوں نے 1965 اور 1971 دونوں جنگوں میں شرکت کی تھی۔
جس وقت جنرل پریز مشرف پاکستان کی بری فوج کے سربراہ بنے اس وقت وہ ایک گمنام سےکور کمانڈر تھے مگر جلد ہی وہ اخبارات کی سرخیوں میں نمایاں ہونے لگے۔ 1999 میں جب بھارتی وزیر اعظم واجپائی لاہور آئے تو جنرل پرویز مشرف نے انہیں سلامی دینے سے انکار کردیا۔ مئی 1999 میں ان کی قیادت میں پاک فوج نے کارگل کی چوٹیوں پر مہم آزمائی کی اور سیاچن گلیشئیر پر متعین بھرتی افواج کی رسد کا راستہ منقطع کردیا۔ امریکا نے کھل کر بھارت کا ساتھ دیا اور اس کے دباؤ پر پاکستان کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنی پڑیں۔ یہیں سے نواز شریف اور پرویز مشرف میں بد اعتمادی کا بیج پروان چڑھنے لگا۔
جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ تیار کیا مگر اس سے قبل نواز شریف نے جنرل کو ان کے برطرف کرکے ھنرل ضیا الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کردیا ۔ اس وقت جنرل پرویز مشرف غیر ملکی دورے سے وطن واپس آرہے تھے، ان کے نائیبین نے فوری کارروائی کرکے پرویز مشرف کے طیارے کو پاکستان میں اترنے کو یقینی بنایا اور اسی دوران نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY