کراچی میں گیارہ فروری دوہزار اٹھارہ بروزاتوار ایک انتہائی خوبصورت تقریب خیابانِ راحت ڈیفینس میں منعقد ہوئی جس نے کراچی کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ادبی تقریبات کو کسی سرکاری ادبی ادارے کی اعانت کے بغیر منعقد کرنے کی مساعی کو سند دی

لندن سڈنی اور وینکور سے اپڈیٹ ہونے والےآن لائن روزنامہ ‘ عالمی اخبار ‘ کے زیرِاہتمام غزالہ رشید کے ‘ نہاں اورعیاں’ شاہین اشرف علی کے ‘چراغ درچراغ ‘ دلشاد نسیم کے ‘ زیرِلب ‘ اورسڈنی آسٹریلیا سے آئی ہوئی ڈاکٹرنگہت نسیم کے مجموعہ ہائے کلام ‘ دعاؤں کے چراغ ‘ اور ‘ زادِ راہِ عشق ‘ کی تقریبِ اجراء منعقد ہوئی جس کی صدارت انجم انصارنے کی

مہمانِ خصوصی پروفیسر رضیہ سبحان تهیں اور مہمان اعزازی شاہین اشرف علی کی والدہ تھیں جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹرثروت رضوی نے انجام دیئے

تقریب سے انجم انصار، رضیہ سبحان ، ڈاکٹرنگہت نسیم ، صغیراحمد جعفری ، ڈاکٹرثروت رضوی ، غزالہ رشید ، ڈاکٹرشبیراحمد خورشید ، مسرت بانو، سائرہ غلام نبی اورمحمد احمد ترازی نے خطاب کیا

اس سلسلے کی مزید تقاریب ملتان لاہور اسلام آباد واہ ٹیکسلا اور فیصل آباد میں منعقد ہو رہی ہیں

ںسڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم کی دو بہت خوبصورت کتابوں زاد راہ عشق اور دعاوں کے چراغ کے ساتھ انکی تین قلم کار دوستوں کی جو نگہت نسیم کو اپنے بہنوں کی طرح عزیز ھیں ان پانچ کتب کی رسم اجر میں شرکت کا موقعہ ملا

مجھے یاد نہیں کہ میں کس طرح اور کب ڈاکٹر نگہت نسیم
کی شخصیت کے سحر میں گرفتارھوا اور محفل میں تو یوں محسوس ہوا جیسے ہر کوٗی انکا قدرداں ہے اور بقول مسرت بانو کے

یوں لگتا ہے جیسے ہر کوئی یہی سمجکحتا ہے کہ وہ اسی سے زیادہ محبت کرتی ہیں

انکی محبت کے تذکرے میں کویت میں مقیم اپنی شاعرہ ہمشیرہ شاھین اشرف علی کی زبانی زمانے سے سنتا آیا ہوں اور پہلی بار ان سے مل کر محسوس ہی نہیں ہوا کہ ہم ان کو پہلی بار ملے ہیں۔ پہلی ہی جھلک میں کوئی اجنبیت نہیں تھی ۔ شاہین اشرف علی کی والدہ سے وہ اس عقیدت اور محبت سے ملیں کہ امی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور امی نے نگہت نسیم کا چہرہ چوم لیا

کراچی میں ہونے والی تقریب میں شاہین باجی بنفس نفیس نہیں تھیں لیکن ڈاکٹر نگہت نے انکا ذکر یوں کیا جیسے باجی سامنے ہی موجود ہوں
خالق محبت ان دونوں کی محبت کو قائم و دائم رکھے

سید حیدر رضا رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY