کرہ ارض کی عرض،عفت سلطانہ !

0
894

کرہ ارض سراپا احتجاج ہے اسکی صحت وتندرستی کا سوال ہے اور تندرستی ہزار نعمت ہے ۔
صحت اور ماحولیات کے حوالے سے دو سٹیڈیز ہیں
1 ۔ انسانی صحت پر ماحول کے اثرات
2 – ماحول کی صحت پر انسان کے اثرات
دونوں صورتوں میں انسان ہی ماحولیات اور صحت دونوں کا دشمن ہے بقول غالب
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
ہماری صحت کا انحصار ارد گرد کے ماحول پر ہے
صحت ہے کیا ؟
عالمی اداری برائے صحت WHO کے مطابق
صحت مکمل جسمانی ،ذہنی اور سماجی بہبود کی حالت ہے نہ کی محض بیماری یا کمزوری کی موجودگی
موجودہ تعریف کے لحاظ سے صرف بیماری کا نہ ہونا ہی صحت مندی نہیں ہے یہ ایک تکون ہے ، مجموعہ ہے جسمانی،دماغی اور سماجی صحت کا
تینوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں جسمانی اور دماغی صحت سے تو لوگ واقف ہیں مگر سماجی صحت!
سماجی صحت میں دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا ، لوگوں سے تعاون کرنا شامل ہیں ویسے بھی انسان معاشرتی حیوان ہے
ماحول کیا ہے اور وہ صحت پر کس طرح اثر انداز ہوسکتاہے؟
درخت ، ہوا ، مٹی ، صحرا ، پہاڑ جو بھی ہمارے ارد گرد ہے وہ تمام جگہیں جہاں ہم رہتے ہیں کام کرتے ہیں اور کھیلتے ہیں ہمارے میدان ،کھیت اور خوراک جو ہم اگا رے ہیں
آبی ذخائر جن میں گلیشیرز ، سمندر ،دریا اور جھیلیں شامل ہیں
ماحول میں صحت کے لیے نقصان دہ عوامل بھی ہوتے ہیں جنہیں خطرات یا Hazards کہا جاتا ہے ۔ یہ قدرتی بھی ہوسکتے ہیں اور انسان کے پیدا کردہ بھی مثلاً
جنگیں
مختلف قسم کے کیمیکلز
کارخانوں سے نکلنے والا دھواں
بیماریاں پھیلانے والے جراثیم و بیکٹیریا
آوازوں کا شور
ذہنی تناؤ یا سٹریس
قدرتی آفات میں زلزلے ،طوفان ،سیلاب ،لینڈ سلائیڈ ،آتش فشاں کا پھٹنا وغیرہ شامل ہیں
ہمارے اردگرد کے ماحول میں سب برا نہیں اچھی چیزیں بھی ہیں مثلاً
ہوا کی آکسیجن
غذائی اجزا
میڈیسن اور وٹامن
آنکھوں کو بھلے لگنے والے خوبصورت مناظر
فیملی اور دوست احباب
ماحول کی حفاظت اور دیکھ بھال سے غفلت برت کر حضرت انسان نہ صرف اپنی جانوں اور صحت کو خطرات میں ڈال رہا ہے بلکہ چرند ، پرند ،درختوں اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے
ماحولیاتی انصاف :-
ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے ماحول میں رہے جو اسے بیمار نہ کرے اور جہاں وہ خوش رہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی جگہہ ، رنگ ونسل یا کلچر سے ہو یا اس کی معاشی حالت کیسی بھی ہو وہ امیر ہو یا غریب
جو سیارے انسان کی دسترس سے دور ہیں وہ سکھی ہیں سیارہ زمین نوحہ کناں ہے
ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں درجہِ حرارت بڑھ رہا ہے گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے
میڈیکل سائنس کی تمام ترقی کے باوجود جان لیوا مہلک امراض کی تعداد میں ہونے والا اضافہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کرونا جیسی وبا نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔
نظام شمسی کا” زمین ” نامی سیارہ ، جو خلق خدا کا مسکن ہے ، اشرف المخلوق کی رہائش گاہ اور واحد پناہگاہ ہے اپنے مکینوں سے کچھ اور نہیں مانگتا صرف اور صرف ہمدردانہ رویہ کا خواستگار ہے
کرہ ارض کی عرضی کو کسی غریب کی فریاد سمجھ کر نہ ٹرخائیں بصورت دیگر اس کے غیض غضب کی تاریخ سے بھی آپ اچھی طرح واقف ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY