ادبی تنظیم کسب کمال کے زیر اہتمام ممتاز شاعر اور محقق مختار علی خان پرتو روہیلہ کی یاد میں ایک ادبی تعزیتی ریفرنس اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں مقررین انکی ادبی اور سماجی زندگی پر روشنی ڈالیں گے

انتیس ستمبر کو انکے انتقال پر عالمی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی

معروف شاعر اور ماہر غالبیات مختار علی خان پرتو روہیلہ کا انتقال

سیدہ قرۃ العین نقوی۔ اسلام آباد

معروف شاعر اور ماہر غالبیات مختار علی خان پرتو روہیلہ جمعرات کی صبح چھ بجے اسلام آباد میں انتقال کر گئے ۔وہ ایک عرصے سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے

پرتو روہیلہ کی نمازِ جنازہ آج شام پانچ بجے ایچ ۱۱ قبرستان اسلام آباد میں ادا کی جائے گی ۔

محقق، دانشور اور شاعر پرتو روہیلہ کا اصل نام مختار علی خان ہے۔ 23 نومبر 1932ء کو روھیل کھنڈ (یوپی بھارت) کے مشہورشہر بریلی میں ایک پٹھان زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نسبی تعلق حافظ رحمت خان والئی روھیل کھنڈ سے ہونے کے سبب اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ روہیلہ بھی لکھتے تھے۔ چنانچہ ادبی نام پرتو روہیلہ ٹھہرا۔

ان کے بزرگوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔1950ء میں خاندان کے ساتھ پاکستان آگئے۔ مستقر بنوں صوبہ پختونخوا تھا۔ اسلامیہ کالج پشاور، لاء کالج پشاور اور پشاور یونیورسٹی سے بی اے آنرز، ایم اے، ایل ایل بی کیا۔ مقابلے کے امتحان میں منتخب ہو کر 1957ء میں پاکستان ٹیکسیشن سروس میں شامل ہوئے جہاں سے 1993ء میں بحیثیت ممبر سنٹرل بورڈ آف ریونیو ریٹائر ہوئے۔ چند سال وزیراعظم معائنہ کمیشن میں بھی رہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے غالب کے فارسی مکتوبات کی طرف توجہ دی اور پچھلے چودہ پندرہ سالوں میں غالب کے سارے فارسی مکتوبات کو انتہائی دل کش اردو میں ترجمہ کر نے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ غالب کے مشکل اشعار کی ایک شرح اور غالب پر چند مقالے بھی ان کی تصنیفات میں شامل ہیں۔ شعری مجموعے ایک دیا دریچے میں ، آواز، شکست رنگ، سفر دائروں کا، رین اجیارا، نوائے شب اور پرتو شب کے نام سے اور کلیات دام خیال کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ سفر گزشت کے نام سے امریکا کا سفرنامہ تحریر کیا۔ 1406ھ میں اکادمی ادبیات پاکستان نے نوائے شب پر ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ عطا کیا، 23 مارچ 1994ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا جبکہ 2008ء میں ستارہ امتیاز بھی عطا کیا جا چکا ہے۔

مختار علی خان حکومت پاکستان کے اہم اور سینئر عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ وہ نہایت قابل افسر ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر شکاری بھی تھے۔ انکے شکار کے نشانے سے مرعوب ہوکر اُس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنراور دبنگ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل فضل حق جب بھی شکار کھیلنے کا پروگرام بناتے تو مختار علی خان کو اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں ضرور لے جاتے

سیدہ قرۃ العین نقوی۔ اسلام آباد

SHARE

LEAVE A REPLY