لندن میں عشرت حسین کی قیام گاہ پر سالانہ مجلس عزا منعقد ہوئی

1
742

لندن کے علاقے شیپرڈ بپش میں جناب عشرت حسین کی قیام گاہ پر سالانہ مجلس عزا کا انعقاد ہوا جس سے مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے خطاب کیا اور انقلاب کے عنوان سے مرثیہ نو تصنیف پیش کیا جو سیدہ زینب سلام اللہ کے بچوں حضرت عون و محمد کی شہادت کے حوالے تحریر تھا

moha-ishrat-majlis

اس سے قبل معروف سوز خوان سہیل چوہان اور انکے ساتھیوں نے سوزوسلام پیش کیا

اپنے خطاب میں جناب صفدر ھمدانی نے کہا کہ مجالس عزا کا بنیادی مقصد پیغام کربلا کو اسکی روح کے ساتھ سامعین خاص طور پر ishrat-majlis2نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ہمارا منبر جو علم کے فروغ کا مرکز تھا سطحی ذکر اذکار اورمعجزات کے بیان تک محدود ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علی کے ماننے والے پر علم حاصل کرنا دوسروں کی نسبت زیادہ فرض ہے

خطاب کے بعد انہوں نے اپنے نوتصنیف مرثیے ۔۔۔ انقلاب ۔۔۔۔۔ سے مصائب منتخب بند پیش کیئے جسکے بعد ماتم مظلوم کربلا ہوا اور اختتام پر نیاز امام حسین علیہ السلام پیش کی گئی

مرثیے سے قبل جناب صفدر ھمدانی تازہ ترین سلام پیش کیا

نوک قلم سے خون بہا جب کہا حسین
بادل برستا ،پھول کی خوشبو، صبا حسین

ہونٹوں پہ تشنگی کی صداؤں کے بین تھے
دل کربلا کی سمت چلا جب لکھا حسین

سنتا تھا ذکر کرب و بلا ماں کے پیٹ میں
ماتم کا شور خوں میں اٹھا جب سُنا حسین

ہر ایک حرف سینہ زنی کر رہا تھا تب
قرطاس پر لہو سے جونہی لکھ دیا حسین

شامل ہے کربلا میں ریاضت رسول کی
معراجِ مصطفیٰ تھی تری ابتدا حسین

لکھا ہوا فلک پہ ہے بابِ شہید پر
ہیں ابتدا علی و حسن، انتہا حسین

تفسیر تیری ذات رہِ مستقیم کی
جنت کا راستہ ہے ترا راستہ حسین

ہوتی نہیں قبول کبھی جب دعا مری
دیتا ہوں میں خدا کو تیرا واسطہ حسین

اس گھر پہ ختم ختمِ نبوت کا سلسلہ
حئی الالفلاح کا ہے سلسلہ حسین

چاروں طرف سے گریہ و ماتم کی تھی صدا
بعد از درود قبر میں جونہی پڑھا حسین

شعروں کو میرے سوزِ سکینہ عطا ہوا
مصرعوں کو تونے لہجہء میثم دیا حسین

سر کو کٹا کے نیزے پہ معراج پا گیا
معلوم بس خدا کو تیرا مرتبہ حسین

گردش میں میرے خون کی شامل علی کا نام
میرے روئیں روئیں میں فقط ہے بسا حسین

تاحشر ہر زمانے کے ہر اک یزید کو
بیعت سے تونے کر دیا نا آشنا حسین

تقلید میں یزید کی ہر بے ضمیر ہے
روشن ضمیر لوگوں کا نعرہ بنا حسین

اُسوقت بھی فرشتوں کی آنکھوں میں اشک تھے
تخلیق کر رہا تھا تجھے جب خدا حسین

ایسا لگا کہ رحمتِ ہزداں میں آ گئے
سر پر ہمارے جب ترا پرچم کھُلا حسین

بے شک یہی ستون ہیں ہر کائنات کے
حیدر، بتول ، شاہ حسن، مصطفیٰ ، حسین

ہر بے ضمیر ایل قلم کے لیئے پیام
تم کو یزید مل گیا مجھکو ملا حسین

صفدر قسم خدا کی یہ ایمان ہے میرا
اللہ کا دیا ترے در سے ملا حسین

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY