عرب لیگ کا فلسطینیوں کے مستقبل اور غزہ کی تعمیر نو پر عرب لیگ کا غیر معمولی اجلاس مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہورہا ہے جس میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی جگہ ملک کے وزیر خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان منگل سے ہونے والے اجلاس میں شریک ہونے کے لیے قاہرہ پہنچ چکے ہیں۔
ریاض نے تقریباً دو ہفتے قبل عرب رہنماؤں کے ایک اجلاس کی میزبانی کی تھی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ کی تعمیر نو، اس کے کنٹرول اور علاقے سے فلسطینیوں کے انخلا کے بارے میں پیش کیے گئے مجوزہ منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے درمیان جنگ کے اختتام پر غزہ کی تعمیر نو کے لیے کنٹرول سنبھال لے گا اور علاقے کو مشرق وسطی کے ایک پرکشش ساحل میں تبدیل کردے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے تجویز دی تھی کہ غزہ کے رہائشی مصر اور اردن چلے جائیں۔
ایک فلسطینی جنوبی غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان۔
عرب ملکوں نے غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کی مخالفت کی ہے۔
پیر کو قاہرہ میں عرب ملکوں کے و زرائے خارجہ نے ایک بند کمرے کے اجلاس میں غزہ کی فلسطینیوں کے انخلا کے بغیر تعمیر نو کے بارے میں ایک منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔
اے ایف پی نے رپورٹ دی ہے کہ ایک ڈرافٹ کے مطابق قاہرہ نے غزہ کے پانچ سال کے عرصے میں تعمیر نو کےلیے 53 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کیا ہے ۔
مجوزہ منصوبے کے تحت لوگوں کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیف دینے، تباہ حال انفرا اسٹرکچر کی بحالی اور پٹی کی طویل المعیاد اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
مصر کے صدر عبدل فتح السیسی نے امریکی صدر کی غزہ کی تعمیر نو کی کوشش کوسراہا۔
انہوں نے تجویز دی کہ عبوری مرحلے میں غزہ کا نظم و نسق ٹیکنوکریٹس کو دیا جائے اور اس دوران فلسطینی پولیس کو ٹریننگ دی جائے اور پٹی کی تعمیر نو کے لیے رقوم کا بندو بست کیا جائے۔
مصر کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک اگلے ماہ امداد دہندوں کی ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔











