افریقی ملک نائجیریا کی شدت پسند تنظیم ’بوکو حرام‘ نے ملک کے شمال مشرقی شہر کے اسکول سے اغواء کی گئی 110 طالبات میں سے 101 کو رہا کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق نائجیریا کے وزیر اطلاعات لائی محمد نے کہا کہ ’ڈاپچی سے لڑکیوں کو غیر مشروط طور پر بغیر کسی رقم کے رہا کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب تک جتنی لڑکیوں کی رہائی کی تصدیق کی جاسکتی ہے ان کی تعداد بڑھ کر 101 ہوگئی ہے۔‘

رہا ہونے والی طالبات میں سے ایک 13 سالہ فاطمہ گِریماہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بوکو حرام نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم جوان اور مسلمان ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم میں سے ایک لڑکی مسیحی تھی جسے رہا نہیں کیا گیا اور اغواء کاروں نے کہا کہ وہ اسے جب تک رہا نہیں کریں گے جب تک وہ اسلام قبول نہیں کر لیتی۔‘

نائجیریا کے صدر محمد بُحاری نے کہا کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے ڈاپچی طالبات کی رہائی کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے شدت پسندوں سے بات چیت کا فیصلہ کیا تھا۔

محمد بُحاری نے پہلے کہا تھا کہ لڑکیوں کی رہائی ملک کے چند دوستوں کی مدد سے ’پس پردہ کوششوں‘ کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاپچی میں اور اس کے اطراف فوجی آپریشنز مغوی لڑکیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

5 طالبات راستے میں ہلاک
ڈاپچی سے 19 فوری کو طالبات کے اغوا نے اپریل 2014 میں چِبوک سے اسی طرح 200 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کرنے کے تکلیف دہ واقعے کی یاد تازہ کر دی۔

ڈاپچی سے اغوا ہونے والی 16 سالہ ایک اور لڑکی عائشہ الحاجی ڈیری نے بتایا کہ مغوی رہنے کے دوران ان کے ساتھ بُرا سلوک نہیں کیا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اغوا کرنے کے بعد جب ہمیں لے جایا جارہا تھا تو راستے میں ہی 5 لڑکیوں نے دم توڑ دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اغواء کاروں نے ہمیں رہا کرتے ہوئے موٹر پارک کے باہر چھوڑ دیا اور کہا کہ ہم سب فوج کے بجائے اپنے اپنے گھر جائیں، ورنہ عسکری حکام ہمیں ریسکیو کرنے کا دعویٰ کریں گے۔‘

SHARE

LEAVE A REPLY