مام آ پ لوکل ٹرانسپورٹ ہیں اور بابا ڈائیوو بس سروس ۔۔۔
عمر نے باپ کے برابر سڑک کنارے چلتے چلتے پیروں کو بریک لگائی اور پیچھے مڑ کر ہماری جانب دیکھا پھر بڑے ضبط سے بھاشن جھاڑا ۔۔۔۔ ہم ساری عمر لمبے روٹوں ۔۔۔ یعنی موٹر وے ، ہائی ویز اور جی ٹی روڈز کے مسافر رہے ہیں اور آ گے میزبانوں کی ذمہ داری ۔ ہمیں کیا معلوم تھا فرق کا ۔۔ مگر عمر کا لہجہ پتا دیتا تھا کہ ہماری سست قدمی اس سے برداشت نہیں ہو رہی ۔۔۔ ہم لوگ صدر جانے کے لیئےمیٹرو اسٹیشن کے قریب سے سڑک پار کرنا چاہتے تھے ۔۔۔ دھوپ چِلچِلا رہی تھی ۔۔۔۔ ہم بنا چھتری ، بنا چشمے کے تھے ۔۔۔ باپ بیٹا پی کیپ سر پہ جمائے ہوئے تھے ۔۔
صدر میں جو کام تھا نمٹا لیا ۔۔۔ راجہ بازار کی بھی زیارت ہوگئی ۔۔۔ کچھ رہ گیا ہو تو لسٹ ایک بار دوبارہ دیکھ لیجئے ۔ میں شائید اگلے ہفتے نہ آ سکوں صاحب نے کہا ۔۔۔ تمام خریداری کے دوران ہمارا دھیان لوکل ٹرانسپورٹ میں اٹکا رہا تھا ۔۔ ہم سمجھے لوکل ٹرانسپورٹ سروس بھی کوئی کمپنی ہوگی جیسے سکائی ویز روڈ رنر ، فیصل موورز ، شجاع ایسپریس وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ہم نے جھٹ فرمائش جڑ دی کہ واپسی لوکل ٹرانسپورٹ پر ہوگی ۔ کچھ بھی بیان کرنے کے لیئے مشاہدے سے زیادہ تجربہ پراثر ہوتا ہے ۔۔۔ اور ہم تجربات کے بے انتہا شوقین ہیں ۔ باپ بیٹے نے حیرت زدہ ہوکر ایک ساتھ ہماری جانب دیکھا ۔۔۔۔۔ تجربہ کرنا ہے ہم نے وضاحت دی ۔۔۔ عمر نے لمحوں میں ہمیں سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا اور تعاقب میں آ تی گاڑی کو ہاتھ دکھا دیا ۔ اگلے ہی اسٹاپ پہ ہم نے اترنے کا شور ڈال دیا ۔۔۔۔ ہمیں سخت صدمہ ہوا تھا عمر کے بیان پر ۔ ڈائیوو سروس نہ سہی ہم لوکل ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں پیدل پیدل بہت اچھا چلتے ہیں ۔۔۔۔ ہمیں لوکل ٹرانسپورٹ سروس کا مطلب بھی خوب اچھے سے یاد ہوگیا ہے ۔
زارا مظہر












