اکثر اہلِ عقل و فکر عزیزان کے اذہان میں یہ سوال اُبھرتا ہے ۔ ۔ ۔ کہ عصر و دورِ حاضر میں تعلیمی عمل جس اعلیٰ و ارفع مقام پر پرواز کیے جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ انسانیت اتنی ہی پست و گراوٹ کے مقام پر پرواز کُناں کیوں ہے ۔ ۔ ۔ ؟
۔
جانِ عزیز ۔ ۔ ۔ اس حساس معاملے میں یہ نقطہ قابلِ غور ہے ۔ ۔ ۔ کہ زمانِ حاضر میں بنامِ تعلیم دراصل مشین گری کا عمل جاری ہے ۔ ۔ ۔ عامیانہ طرز فکر کی اذہان کے اسلوب میں تعلیم کا اصطلاحی مفہوم شاید یہ ٹھہرے کہ ۔ ۔ ۔ تعلیم یعنی علم کی منتقلی و فراہمی کا عمل ۔ ۔ ۔ تو ہمیں معاشرے کے زخموں سے بصورتِ دھواں اتھتی ہوئی سسکیوں اور آہوں مین زرا گہرائی اور دقت سے اتر کر دیکھ لینا چاہیئے ۔ ۔ ۔ کہ کون سا علم نسلوں میں منتقل کر کے ان کے اذہان میں پیوست کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ انسانیت کیلئے جو معرفت ، شناسائی ، آدرش ، نصائح ، تخیلی و تخلیقی علوم ، تربیت و تہذیب و انداز و طریق ، عوامل و محرکات ، نظم و نسق ، اور معیار وغیرہ درکار ہیں ۔ ۔ ۔ کیا بنامِ تعلیم ، علم کی منتقلی کے عمل میں یہ سب کچھ خالص صورت میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ یا ان کی منتقلی سے بھی اہم نقطہ ۔ ۔ ۔ کہ منتقلی کے بعد ان سب نصائح اور حکمتوں کو عمل میں مجسم کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ شاید نہیں ۔ ۔ ۔
دنیا انسانیت سے اس لیے محروم ہوتی جا رہی ہے کہ تعلیم میں انسانیت نہیں سیکھائی جا رہی ۔ ۔ ۔ بلکہ یہ سیکھایا جا رہا ہے کہ جسمانی و جذبانی و نفسیاتی آرام و آسائش کی خاطر کون سے مادی اشیاء کو کس طرح کس انداز سے کہاں سے کیسے قلیل مدت میں حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔
ـــــــــــــ
جسٹن سنو
انتخاب،فائزہ عباس













